<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 23:22:59 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 23:22:59 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>روس کا اناج کے معاہدے میں توسیع سے انکار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206105/</link>
      <description>&lt;p&gt;سینیئر روسی حکام نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے میں توسیع نہیں کی جا سکتی لیکن روس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے پر غریب ممالک کو خوراک کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع خبرراساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1760135/grain-deal-cannot-be-extended-say-russian-officials"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق جولائی 2022 میں اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت یوکرین کو خوراک کے عالمی بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے سمندر سے پیدا ہونے والے اناج کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ روس نے ہچکچاتے ہوئے اس معاہدے کو 17 جولائی تک اس شرط پر توسیع دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی (جسے سفارت کار بلیک سی گرین انیشیٹو کے نام سے جانتے ہیں) کہ اسے اپنی خوراک اور کھاد کی برآمدات میں بھی مدد ملے، تاہم اب روس کا کہنا ہے کہ اسے ایسی کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190650"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’انٹرفیکس نیوز ایجنسی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایوان بالا کے اسپیکر ویلنٹینا ماتویینکو نے کہا کہ اس معاہدے کی توسیع ناممکن ہے اور ان حالات میں، میرے خیال میں، اس میں توسیع کرنا بھی ناممکن ہے کیونکہ ہمارے صبر اور اس معاہدے پر عمل درآمد کی خواہش کی حد ختم ہو چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ روس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دیگر ذرائع تلاش کرے گا کہ غریب ممالک اناج کی قلت کا شکار نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سینیئر روسی حکام نے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے میں توسیع نہیں کی جا سکتی لیکن روس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے کام کر رہا ہے کہ اس معاہدے کے ختم ہونے پر غریب ممالک کو خوراک کی کمی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع خبرراساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <a href="https://www.dawn.com/news/1760135/grain-deal-cannot-be-extended-say-russian-officials"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق جولائی 2022 میں اقوام متحدہ اور ترکی کی ثالثی میں ہونے والے اس معاہدے کے تحت یوکرین کو خوراک کے عالمی بحران سے نمٹنے میں مدد کے لیے سمندر سے پیدا ہونے والے اناج کی برآمدات دوبارہ شروع کرنے کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>گزشتہ ماہ روس نے ہچکچاتے ہوئے اس معاہدے کو 17 جولائی تک اس شرط پر توسیع دینے پر رضامندی ظاہر کی تھی (جسے سفارت کار بلیک سی گرین انیشیٹو کے نام سے جانتے ہیں) کہ اسے اپنی خوراک اور کھاد کی برآمدات میں بھی مدد ملے، تاہم اب روس کا کہنا ہے کہ اسے ایسی کوئی مدد حاصل نہیں ہوئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190650"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>’انٹرفیکس نیوز ایجنسی‘ کی رپورٹ کے مطابق ایوان بالا کے اسپیکر ویلنٹینا ماتویینکو نے کہا کہ اس معاہدے کی توسیع ناممکن ہے اور ان حالات میں، میرے خیال میں، اس میں توسیع کرنا بھی ناممکن ہے کیونکہ ہمارے صبر اور اس معاہدے پر عمل درآمد کی خواہش کی حد ختم ہو چکی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ روس اس بات کو یقینی بنانے کے لیے دیگر ذرائع تلاش کرے گا کہ غریب ممالک اناج کی قلت کا شکار نہ ہوں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206105</guid>
      <pubDate>Sat, 17 Jun 2023 11:51:44 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/17114744877f85e.jpg?r=114858" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/17114744877f85e.jpg?r=114858"/>
        <media:title>گزشتہ ماہ روس نے ہچکچاتے ہوئے اس معاہدے کو 17 جولائی تک توسیع دی تھی—فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
