<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - KP-FATA</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 19:38:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 19:38:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>درہ آدم خیل میں خفیہ کارروائی کے دوران اہم عسکریت پسند کمانڈر ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206190/</link>
      <description>&lt;p&gt;سیکیورٹی فورسز نے ضلع کوہاٹ میں درہ آدم خیل کے علاقے میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران اہم عسکریت پسند کمانڈر اور اس کے دو ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1760487/key-militant-commander-gunned-down-in-darra"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے کمانڈر ظفر خان عرف ظفری کی موجودگی کے بارے میں خفیہ معلومات کے بعد آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی، ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کا غیر روایتی آپریشنل طریقہ کار اپنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تحریک طالبان افغانستان کا سابق رکن ظفری پاکستان میں 26 دستی بم حملوں میں ملوث تھا، کالعدم تنظیم کا کمانڈر افغانستان میں مقیم تھا اور 22 مئی کو پشاور آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ظفری سیکیورٹی فورسز، کوئلے کے ٹھیکیداروں، تاجروں اور بااثر افراد کے خلاف درجنوں دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا اور اس نے بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی مد میں 10کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کی تھی، انہوں نے بتایا کہ ظفری کے ساتھ درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے حسن خان اور افغانستان کے علاقے ننگرہار کے رہائشی انس عرف علی کے علاوہ دیگر عسکریت پسندوں کو آپریشن کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ظفر خان ایک ماہر اسنائپر اور دستی بم حملوں کا ماہر تھا اور 2019 سے 2021 تک تحریک طالبان افغانستان کا حصہ تھا، اس نے طارق گیدر گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی جو کہ درہ آدم خیل میں قائم کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک اور گروپ ہے، گروپ نے 2022 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار کا متعدد بار دورہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن میں مارا گیا تیسرا جنگجو انس تھا، انس بھی اسنائپر کا ماہر تھا اور شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں بھی ملوث تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سیکیورٹی فورسز نے ضلع کوہاٹ میں درہ آدم خیل کے علاقے میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشن کے دوران اہم عسکریت پسند کمانڈر اور اس کے دو ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1760487/key-militant-commander-gunned-down-in-darra">رپورٹ</a></strong> کے مطابق حکام نے بتایا کہ سیکیورٹی فورسز نے کالعدم تنظیم تحریک طالبان پاکستان(ٹی ٹی پی) کے کمانڈر ظفر خان عرف ظفری کی موجودگی کے بارے میں خفیہ معلومات کے بعد آپریشن کی منصوبہ بندی کی گئی، ایجنسیوں اور سیکیورٹی فورسز نے مصدقہ انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائی کا غیر روایتی آپریشنل طریقہ کار اپنایا۔</p>
<p>سرکاری ذرائع نے بتایا کہ تحریک طالبان افغانستان کا سابق رکن ظفری پاکستان میں 26 دستی بم حملوں میں ملوث تھا، کالعدم تنظیم کا کمانڈر افغانستان میں مقیم تھا اور 22 مئی کو پشاور آیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1204970"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری ذرائع نے ڈان کو بتایا کہ ظفری سیکیورٹی فورسز، کوئلے کے ٹھیکیداروں، تاجروں اور بااثر افراد کے خلاف درجنوں دہشت گرد حملوں میں ملوث تھا اور اس نے بھتہ خوری اور اغوا برائے تاوان کی مد میں 10کروڑ روپے سے زائد رقم جمع کی تھی، انہوں نے بتایا کہ ظفری کے ساتھ درہ آدم خیل سے تعلق رکھنے والے حسن خان اور افغانستان کے علاقے ننگرہار کے رہائشی انس عرف علی کے علاوہ دیگر عسکریت پسندوں کو آپریشن کے دوران گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا۔</p>
<p>سرکاری ذرائع نے بتایا کہ ظفر خان ایک ماہر اسنائپر اور دستی بم حملوں کا ماہر تھا اور 2019 سے 2021 تک تحریک طالبان افغانستان کا حصہ تھا، اس نے طارق گیدر گروپ میں شمولیت اختیار کی تھی جو کہ درہ آدم خیل میں قائم کالعدم ٹی ٹی پی کا ایک اور گروپ ہے، گروپ نے 2022 میں افغانستان کے صوبہ ننگرہار کا متعدد بار دورہ کیا تھا۔</p>
<p>حکام نے یہ بھی بتایا کہ آپریشن میں مارا گیا تیسرا جنگجو انس تھا، انس بھی اسنائپر کا ماہر تھا اور شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے اضلاع میں سیکیورٹی فورسز کے خلاف حملوں میں بھی ملوث تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206190</guid>
      <pubDate>Mon, 19 Jun 2023 08:15:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/19081224bba75cc.png?r=081308" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/19081224bba75cc.png?r=081308"/>
        <media:title>آپریشن کے دوران اہم عسکریت پسند کمانڈر اور اس کے دو ساتھیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا— فائل فوٹو: آئی ایس پی آر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
