<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:32:38 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:32:38 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی وی ایف علاج کے بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206349/</link>
      <description>&lt;p&gt;ایک حالیہ اور منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے لیے ’ان وائٹرو فرٹیلیٹی (آئی وی ایف) کے عمل سے گزرنے والی بعض خواتین کے ہاں چند سال بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہر جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی وی ایف کے علاج کے ذریعے بانجھ پن کے مسائل سے دوچار خواتین کے انڈوں اور مرد حضرات کے اسپرم کو ادویات کے ذریعے ملایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس وقت آئی وی ایف کا علاج پاکستان سمیت دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں موجود ہے، اس کے ساتھ ہی حمل ٹھہرانے اور بچوں کی پیدائش میں مددگار دوسرے طریقہ علاج بھی کیے جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عام طور پر آئی وی ایف یا بچوں کی پیدائش میں مدد دینے والے دوسرے طریقہ علاج کافی مہنگے ہوتے ہیں اور بعض ممالک میں انہیں معیوب بھی سمجھا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1070145"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان جیسے ممالک میں بھی حالیہ چند سال میں آئی وی ایف کے طریقہ علاج کروانے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئی وی ایف کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے بعد خواتین کی زرخیزی سے متعلق ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ آئی وی ایف کے عمل سے گزرنے والی خواتین میں چند سال بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کی آکسفورڈ اکیڈمی کے جریدے ’ہیومن ری پروڈکٹشن‘ میں شائع ایک &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://academic.oup.com/humrep/advance-article/doi/10.1093/humrep/dead121/7202394"&gt;&lt;strong&gt;حالیہ تحقیق&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق آئی وی ایف کے حمل سے گزرنے والی ہر پانچ میں سے ایک خاتون میں قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے تحقیق کے لیے 11 مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا اور مجموعی طور پر انہوں نے 5 ہزار سے زائد ایسی خواتین کے کیسز کا جائزہ لیا، جنہوں نے آئی وی ایف سمیت دیگر طریقہ علاج کروائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے جاننے کی کوشش کی کہ بچوں کی پیدائش کے لیے مصنوعی طریقوں سے مدد حاصل کرنے والی خواتین کی تولیدی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے آئی وی ایف سمیت دیگر علاج کروانے والی خواتین کی تولیدی صحت کا 3 اور 15 سال بعد کا جائزہ لیا، جس سے انکشاف ہوا کہ متعدد خواتین قدرتی طور پر حاملہ ہوگئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نتائج سے معلوم ہوا کہ آئی وی ایف کے ذریعے ایک بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کی تولیدی صحت میں بہتری دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1087225"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے بتایا کہ آئی وی ایف یا دیگر طریقوں کی مدد سے پہلے بچے کی پیدائش کے تین سال بعد خواتین کی تولیدی صحت بہتر ہوئی اور ہر پانچ میں سے ایک خاتون کے ہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر آئی وی ایف یا دیگر علاج کے طریقوں سے مرد اور خواتین کی تولیدی صحت مجموعی طور پر بہتر ہوتی ہو، جس وجہ سے ہی ان کے ہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین کے مطابق عام طور پر بانجھ پن کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے، جب شادی شدہ جوڑے ایک سال کی کوششوں کے باوجود حمل ٹھہرانے میں ناکام ہو رہے ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن آئی وی ایف کے عمل سے گزرنے اور بچے کی پیدائش کے تین سال بعد ایسے جوڑوں میں چند ماہ کی کوششوں سے ہی حمل ٹھہرنے کو نوٹ کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی وی ایف سمیت اسی طرح کے دیگر طریقہ علاج مجموعی طور پر تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں مدگار ہوسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ایک حالیہ اور منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ بچوں کی پیدائش کے لیے ’ان وائٹرو فرٹیلیٹی (آئی وی ایف) کے عمل سے گزرنے والی بعض خواتین کے ہاں چند سال بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہر جاتا ہے۔</p>
<p>آئی وی ایف کے علاج کے ذریعے بانجھ پن کے مسائل سے دوچار خواتین کے انڈوں اور مرد حضرات کے اسپرم کو ادویات کے ذریعے ملایا جاتا ہے۔</p>
<p>اس وقت آئی وی ایف کا علاج پاکستان سمیت دنیا کے تقریبا تمام ممالک میں موجود ہے، اس کے ساتھ ہی حمل ٹھہرانے اور بچوں کی پیدائش میں مددگار دوسرے طریقہ علاج بھی کیے جاتے ہیں۔</p>
<p>عام طور پر آئی وی ایف یا بچوں کی پیدائش میں مدد دینے والے دوسرے طریقہ علاج کافی مہنگے ہوتے ہیں اور بعض ممالک میں انہیں معیوب بھی سمجھا جاتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1070145"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان جیسے ممالک میں بھی حالیہ چند سال میں آئی وی ایف کے طریقہ علاج کروانے میں تیزی دیکھی گئی ہے۔</p>
<p>آئی وی ایف کے ذریعے بچوں کی پیدائش کے بعد خواتین کی زرخیزی سے متعلق ایک حالیہ تحقیق سے معلوم ہوا کہ آئی وی ایف کے عمل سے گزرنے والی خواتین میں چند سال بعد قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>برطانیہ کی آکسفورڈ اکیڈمی کے جریدے ’ہیومن ری پروڈکٹشن‘ میں شائع ایک <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://academic.oup.com/humrep/advance-article/doi/10.1093/humrep/dead121/7202394"><strong>حالیہ تحقیق</strong></a> کے مطابق آئی وی ایف کے حمل سے گزرنے والی ہر پانچ میں سے ایک خاتون میں قدرتی طور پر حمل ٹھہرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔</p>
<p>ماہرین نے تحقیق کے لیے 11 مختلف تحقیقات کا مطالعہ کیا اور مجموعی طور پر انہوں نے 5 ہزار سے زائد ایسی خواتین کے کیسز کا جائزہ لیا، جنہوں نے آئی وی ایف سمیت دیگر طریقہ علاج کروائے تھے۔</p>
<p>ماہرین نے جاننے کی کوشش کی کہ بچوں کی پیدائش کے لیے مصنوعی طریقوں سے مدد حاصل کرنے والی خواتین کی تولیدی صحت پر کیا اثرات مرتب ہوئے؟</p>
<p>ماہرین نے آئی وی ایف سمیت دیگر علاج کروانے والی خواتین کی تولیدی صحت کا 3 اور 15 سال بعد کا جائزہ لیا، جس سے انکشاف ہوا کہ متعدد خواتین قدرتی طور پر حاملہ ہوگئی تھیں۔</p>
<p>نتائج سے معلوم ہوا کہ آئی وی ایف کے ذریعے ایک بچے کی پیدائش کے بعد خواتین کی تولیدی صحت میں بہتری دیکھی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1087225"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین نے بتایا کہ آئی وی ایف یا دیگر طریقوں کی مدد سے پہلے بچے کی پیدائش کے تین سال بعد خواتین کی تولیدی صحت بہتر ہوئی اور ہر پانچ میں سے ایک خاتون کے ہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرا۔</p>
<p>ماہرین کا کہنا تھا کہ ممکنہ طور پر آئی وی ایف یا دیگر علاج کے طریقوں سے مرد اور خواتین کی تولیدی صحت مجموعی طور پر بہتر ہوتی ہو، جس وجہ سے ہی ان کے ہاں قدرتی طور پر حمل ٹھہرے۔</p>
<p>ماہرین کے مطابق عام طور پر بانجھ پن کی تشخیص اس وقت ہوتی ہے، جب شادی شدہ جوڑے ایک سال کی کوششوں کے باوجود حمل ٹھہرانے میں ناکام ہو رہے ہوں۔</p>
<p>لیکن آئی وی ایف کے عمل سے گزرنے اور بچے کی پیدائش کے تین سال بعد ایسے جوڑوں میں چند ماہ کی کوششوں سے ہی حمل ٹھہرنے کو نوٹ کیا گیا۔</p>
<p>ماہرین نے مذکورہ معاملے پر مزید تحقیق کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا کہ آئی وی ایف سمیت اسی طرح کے دیگر طریقہ علاج مجموعی طور پر تولیدی صحت کو بہتر بنانے میں مدگار ہوسکتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206349</guid>
      <pubDate>Wed, 21 Jun 2023 20:39:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/21201240de17b3d.jpg?r=201259" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/21201240de17b3d.jpg?r=201259"/>
        <media:title>—فوٹو:  شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
