<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:11:46 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:11:46 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آبدوز میں پھنسے افراد کی صحت کو کیا خطرات لاحق ہوسکتے ہیں؟</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206371/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہزاروں فٹ گہرے سمندر میں ایک چھوٹی سی آبدوز میں پھنس جانے کا تصور ہی دل دہلانے والا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لاپتا ہوجانے والی ٹائٹن آبدوز کی تلاش پانچویں روز بھی جاری ہے جہاں پاکستانی نژاد سیاحوں سمیت 5 افراد موجود ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان افراد کی حالت کے بارے میں اب تک کسی کو کچھ نہیں معلوم، تاہم سائنسدان جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ  آبدوز میں موجود ان افراد کی صحت کیسی ہوگی؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وقت انتہائی تیزی سے گزر رہا ہے، سائنسدانوں اور ریسکیو ورکرز کے لیے ہر ایک منٹ بہت قیمتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ آبدوز میں اب تک صرف 10 گھنٹے کی آکسیجن باقی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اتوار کو ٹائی ٹینک  کی باقیات کو دیکھنے کے لیے جانے والی 22 فٹ کی چھوٹی آبدوز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش اس آبدوز پر سوار تھے جو ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب لاپتا ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-65981277"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی کے  ہائپر بارک میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر کین لیڈز کہتے ہیں آبدوز میں سوار افراد کے لیے آکسیجن کا ختم ہونا ہی واحد خطرہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/221240199d4c589.jpg'  alt='برطانوی تاجر ہارڈنگ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، محقق پال ہنری نارجیولیٹ، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے&amp;mdash;فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;برطانوی تاجر ہارڈنگ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، محقق پال ہنری نارجیولیٹ، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے—فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہوسکتا ہے کہ آبدوز کی الیکٹرک پاور ختم ہوگئی ہو، جس کی وجہ سے امکان ہے کہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جائے گی، تو انسان گہری سانس لیتا رہے گا جس کی وجہ سے انسان کے جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا رہے گا، جس کے ممکنہ طور پر مہلک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر کین لیڈز کہتے ہیں کہ ’جب ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں اضافہ ہوگا تو یہ گیس اینیستھیٹک (بے ہوش کرنے والی گیس) میں تبدیل ہوجائے گی جس سے انسان گہری نیند  یعنی بے ہوشی کی حالت میں چلا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بتایا کہ خون کے خلیوں میں بہت زیادہ گیس ہونا خطرے کی علامت ہے، جسے ہائپر کیپنیا کہا جاتا ہے جس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو انسان موت کے منہ میں بھی جاسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رائل نیوی آبدوز کے سابق کپتان ریان رمسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹائٹن کے اندر کی ویڈیوز آن لائن دیکھی ہیں، فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ آبدوز سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا کوئی نظام نہیں ہے جسے اسکربرز کہا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آبدوز میں مومود افراد کو ہائپوتھرمیا کا خطرہ ہوسکتا ہے، جہاں جسم بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہائپوتھرمیا ایسی حالت کو کہتے ہیں جب آکسيجن کم ہونے سے سانس نہيں آتی، نسيں سکڑ جاتی ہيں، ڈی ہائیڈريشن ہوجاتی ہے، دل بند ہونے لگتا ہے اور جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان ریان رمسی کے مطابق اگر آبدوز سمندری تہہ پر ہے، تو پانی کا درجہ حرارت تقریباً 0 سینٹی گریڈ ہوگا،  اگر آبدوز کی الیکٹرک پاور بھی ختم ہو گئی ہے، تو بجلی پیدا نہیں ہوگی جس کی وجہ سے گرمی کا احساس بھی نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈاکٹر لیڈز کہتے ہیں کہ اگر وہ بے ہوش ہیں، تو وہ باہر نکلنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جبکہ کوسٹ گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ شاید بہت کم آکسیجن باقی ہے، مگر  آبدوز میں سوار افراد کسی حد تک زندگی کے لیے ضروری گیس بچا سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریان رامسی تسلیم کرتے ہیں کہ آبدوز میں موجود افراد جس دباؤ میں ہوں گے اس کے پیش نظر سانس لینا انتہائی مشکل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جہاں تک خوراک اور پانی کی بات ہے تو کوسٹ گارڈ کے مطابق مسافروں کے پاس محدود راشن موجود ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ان کے پاس کتنا راشن ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تمام چیلنجوں کے باوجود ڈاکٹرز اور ماہرین آبدوز کی تلاشی کے عمل  کو جلد روکنے کے خلاف ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ آکسیجن کی مقدار انتہائی کم ہونے کے باوجود عملہ زندہ رہنے کے قابل ہوسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہزاروں فٹ گہرے سمندر میں ایک چھوٹی سی آبدوز میں پھنس جانے کا تصور ہی دل دہلانے والا ہے۔</p>
<p>لاپتا ہوجانے والی ٹائٹن آبدوز کی تلاش پانچویں روز بھی جاری ہے جہاں پاکستانی نژاد سیاحوں سمیت 5 افراد موجود ہیں۔</p>
<p>ان افراد کی حالت کے بارے میں اب تک کسی کو کچھ نہیں معلوم، تاہم سائنسدان جاننے کی کوشش کررہے ہیں کہ  آبدوز میں موجود ان افراد کی صحت کیسی ہوگی؟</p>
<p>وقت انتہائی تیزی سے گزر رہا ہے، سائنسدانوں اور ریسکیو ورکرز کے لیے ہر ایک منٹ بہت قیمتی ہے، ماہرین کا خیال ہے کہ آبدوز میں اب تک صرف 10 گھنٹے کی آکسیجن باقی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اتوار کو ٹائی ٹینک  کی باقیات کو دیکھنے کے لیے جانے والی 22 فٹ کی چھوٹی آبدوز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود ہے۔</p>
<p>ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔</p>
<p>اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش اس آبدوز پر سوار تھے جو ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب لاپتا ہوئی۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-65981277">رپورٹ</a></strong> کے مطابق کینیڈا کی میموریل یونیورسٹی کے  ہائپر بارک میڈیسن کے ماہر ڈاکٹر کین لیڈز کہتے ہیں آبدوز میں سوار افراد کے لیے آکسیجن کا ختم ہونا ہی واحد خطرہ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch    media--uneven  media--stretch'>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/221240199d4c589.jpg'  alt='برطانوی تاجر ہارڈنگ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، محقق پال ہنری نارجیولیٹ، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے&mdash;فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>برطانوی تاجر ہارڈنگ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش، محقق پال ہنری نارجیولیٹ، پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے—فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>ہوسکتا ہے کہ آبدوز کی الیکٹرک پاور ختم ہوگئی ہو، جس کی وجہ سے امکان ہے کہ آکسیجن اور کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو کنٹرول کرنے میں کردار ادا کرتی ہوگی۔</p>
<p>جیسے جیسے آکسیجن کی مقدار کم ہوتی جائے گی، تو انسان گہری سانس لیتا رہے گا جس کی وجہ سے انسان کے جسم سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج ہوتا رہے گا، جس کے ممکنہ طور پر مہلک نتائج سامنے آسکتے ہیں۔</p>
<p>ڈاکٹر کین لیڈز کہتے ہیں کہ ’جب ہوا میں کاربن ڈائی آکسائڈ کی مقدار میں اضافہ ہوگا تو یہ گیس اینیستھیٹک (بے ہوش کرنے والی گیس) میں تبدیل ہوجائے گی جس سے انسان گہری نیند  یعنی بے ہوشی کی حالت میں چلا جاتا ہے۔</p>
<p>انہوں نے بتایا کہ خون کے خلیوں میں بہت زیادہ گیس ہونا خطرے کی علامت ہے، جسے ہائپر کیپنیا کہا جاتا ہے جس کا اگر علاج نہ کیا جائے تو انسان موت کے منہ میں بھی جاسکتا ہے۔</p>
<p>رائل نیوی آبدوز کے سابق کپتان ریان رمسی کا کہنا ہے کہ انہوں نے ٹائٹن کے اندر کی ویڈیوز آن لائن دیکھی ہیں، فوٹیج سے معلوم ہوتا ہے کہ آبدوز سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج کا کوئی نظام نہیں ہے جسے اسکربرز کہا جاتا ہے۔</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ یہ میرے نزدیک سب سے بڑا مسئلہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آبدوز میں مومود افراد کو ہائپوتھرمیا کا خطرہ ہوسکتا ہے، جہاں جسم بہت ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>ہائپوتھرمیا ایسی حالت کو کہتے ہیں جب آکسيجن کم ہونے سے سانس نہيں آتی، نسيں سکڑ جاتی ہيں، ڈی ہائیڈريشن ہوجاتی ہے، دل بند ہونے لگتا ہے اور جسم ٹھنڈا ہو جاتا ہے۔</p>
<p>کپتان ریان رمسی کے مطابق اگر آبدوز سمندری تہہ پر ہے، تو پانی کا درجہ حرارت تقریباً 0 سینٹی گریڈ ہوگا،  اگر آبدوز کی الیکٹرک پاور بھی ختم ہو گئی ہے، تو بجلی پیدا نہیں ہوگی جس کی وجہ سے گرمی کا احساس بھی نہیں ہوگا۔</p>
<p>ڈاکٹر لیڈز کہتے ہیں کہ اگر وہ بے ہوش ہیں، تو وہ باہر نکلنے کے لیے کچھ نہیں کرسکتے۔</p>
<p>جبکہ کوسٹ گارڈ نے خبردار کیا ہے کہ شاید بہت کم آکسیجن باقی ہے، مگر  آبدوز میں سوار افراد کسی حد تک زندگی کے لیے ضروری گیس بچا سکتے ہیں۔</p>
<p>ریان رامسی تسلیم کرتے ہیں کہ آبدوز میں موجود افراد جس دباؤ میں ہوں گے اس کے پیش نظر سانس لینا انتہائی مشکل ہے۔</p>
<p>جہاں تک خوراک اور پانی کی بات ہے تو کوسٹ گارڈ کے مطابق مسافروں کے پاس محدود راشن موجود ہے، مگر یہ واضح نہیں کہ ان کے پاس کتنا راشن ہے۔</p>
<p>ان تمام چیلنجوں کے باوجود ڈاکٹرز اور ماہرین آبدوز کی تلاشی کے عمل  کو جلد روکنے کے خلاف ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ آکسیجن کی مقدار انتہائی کم ہونے کے باوجود عملہ زندہ رہنے کے قابل ہوسکتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206371</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jun 2023 15:11:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/221008322ec9eb6.jpg?r=101300" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/221008322ec9eb6.jpg?r=101300"/>
        <media:title>لاپتا ہوجانے والے ٹائٹن آبدوز کی تلاش پانچویں روز بھی جاری ہے—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
