<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:16:26 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:16:26 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لاپتا ٹائٹن آبدوز سے متعلق حفاظتی خدشات کا انکشاف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206380/</link>
      <description>&lt;p&gt;ہزاروں فٹ سمندر کی گہرائی میں لاپتا ہونے والی ٹائٹن آبدوز کی ملکیت رکھنے والی امریکی کمپنی اوشن گیٹ کے سابق ملازم نے 2018 میں ہی خبردار کردیا تھا کہ آبدوز کو حفاظتی مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/science-environment-65977432"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق امریکی عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ کمپنی کے میرین آپریشنز کے ڈائریکٹر ڈیوڈ لوچریج نے جائزہ رپورٹ میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزات کے مطابق آبدوز سے متعلق متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جن سے حفاظتی خدشات لاحق تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا تھا کہ آبدوز کو جانچ کی ضرورت ہے، موجودہ حالت میں جب یہ انتہائی گہرائیوں تک پہنچے گی تو مسافروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ لوچریج کا کہنا ہے کہ ان کی وارننگ کو نظر انداز کیا گیا، جس کے بعد اوشن گیٹ کے مالکان نے اجلاس طلب کیا لیکن انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/22122505dd1850b.jpg'  alt='فائل فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خفیہ معلومات ظاہر کرنے پر سابق ملازم پر مقدمہ دائر کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ لوچریج نے بھی بے جا برطرفی کا مقدمہ دائر کیا، تاہم سابق ملازم اور کمپنی کے درمیان تصفیہ ہوگیا، جس کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آسکیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی نے ڈیوڈ لوچریج سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مارچ 2018 میں میرین ٹیکنالوجی سوسائٹی کی طرف سے اوشن گیٹ کو بھیجے گئے ایک خط میں بھی ٹائی ٹینک کے قریب لاپتا ہونے والی آبدوز کی کمزور سیفٹی پر  خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق اوشن گیٹ کے ترجمان نے ڈیوڈ لوچریج کے اٹھائے گئے حفاظتی خطرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی جانب سے  ایک ’تجربہ‘ قرار دینے والی ٹائٹن آبدوز گہرے سمندر میں لاپتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/22122601ef28dbf.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسکائی نیوز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فائل فوٹو: اسکائی نیوز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ڈیوڈ نے دعویٰ کرتے ہوئے  انکشاف کیا ہےکہ آبدوز کو آزاد انسپکٹرز سے چیک نہیں کرایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز میں موجود ہُل (hull) ایسا حصہ ہے جہاں مسافر بیٹھتے ہیں، جو کاربن فائبر سے بنایا گیا تھا جس کے ایک سرے پر ٹائٹینیم کی پلیٹیں موجود ہیں اور دوسری جانب ایک چھوٹی کھڑکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورٹسماؤتھ یونیورسٹی میں میرین بائیولوجی کے لیکچرار ڈاکٹر نکولائی روٹرڈیم کہتے ہیں کہ عام طور پر ٹائٹینیم کا دائرہ 2 میٹر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمندری کی گہرائی کو برداشت کرنے کے لیے آپ کو انتہائی مضبوط مواد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹینیم یا اسٹیل کے مقابلے کاربن فائبر کے استعمال میں لاگت کم آتی ہے لیکن یہ ٹائٹن جیسے گہرے سمندری آبدوزوں کے لیے ناتجربہ کار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوشن گیٹ کے سی ای او رش اسٹاکٹن نے گزشتہ سال ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کاربن فائبر کا استعمال چھوٹی کشتی اور ہوا بازی میں کامیابی کے ساتھ کیا جاتا ہے، لیکن اسے آبدوزوں میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات میں ڈیوڈ لوچریج نے دعوی کیا کہ آبدوز کے ہُل نامی حصے کو صحیح طریقے سے چیک نہیں کیا گیا، کیونکہ اسی حصے پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور ممکنہ مسائل درپیش آسکتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آبدوز کے ماڈل میں موجود کاربن میں خامیاں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈیوڈ لوچریج نے ٹائٹن کے گلاس ویو پورٹ کے مسائل سے متعلق بھی سوال اُٹھائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ اتوار کو ٹائی ٹینک کی باقیات کو دیکھنے کے لیے جانے والی 22 فٹ کی چھوٹی آبدوز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش اس آبدوز پر سوار تھے جو ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب لاپتا ہوئی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ہزاروں فٹ سمندر کی گہرائی میں لاپتا ہونے والی ٹائٹن آبدوز کی ملکیت رکھنے والی امریکی کمپنی اوشن گیٹ کے سابق ملازم نے 2018 میں ہی خبردار کردیا تھا کہ آبدوز کو حفاظتی مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/science-environment-65977432">رپورٹ</a></strong> کے مطابق امریکی عدالتی دستاویزات سے معلوم ہوا کہ کمپنی کے میرین آپریشنز کے ڈائریکٹر ڈیوڈ لوچریج نے جائزہ رپورٹ میں خدشات کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>دستاویزات کے مطابق آبدوز سے متعلق متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی جن سے حفاظتی خدشات لاحق تھے۔</p>
<p>انہوں نے کہا تھا کہ آبدوز کو جانچ کی ضرورت ہے، موجودہ حالت میں جب یہ انتہائی گہرائیوں تک پہنچے گی تو مسافروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔</p>
<p>ڈیوڈ لوچریج کا کہنا ہے کہ ان کی وارننگ کو نظر انداز کیا گیا، جس کے بعد اوشن گیٹ کے مالکان نے اجلاس طلب کیا لیکن انہیں نوکری سے نکال دیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/22122505dd1850b.jpg'  alt='فائل فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق کمپنی نے خفیہ معلومات ظاہر کرنے پر سابق ملازم پر مقدمہ دائر کیا تھا۔</p>
<p>ڈیوڈ لوچریج نے بھی بے جا برطرفی کا مقدمہ دائر کیا، تاہم سابق ملازم اور کمپنی کے درمیان تصفیہ ہوگیا، جس کے بارے میں مزید معلومات سامنے نہیں آسکیں۔</p>
<p>بی بی سی نے ڈیوڈ لوچریج سے رابطہ کرنے کی کوشش کی لیکن انہوں نے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔</p>
<p>اس کے علاوہ مارچ 2018 میں میرین ٹیکنالوجی سوسائٹی کی طرف سے اوشن گیٹ کو بھیجے گئے ایک خط میں بھی ٹائی ٹینک کے قریب لاپتا ہونے والی آبدوز کی کمزور سیفٹی پر  خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق اوشن گیٹ کے ترجمان نے ڈیوڈ لوچریج کے اٹھائے گئے حفاظتی خطرات پر تبصرہ کرنے سے انکار کردیا۔</p>
<p>کمپنی کی جانب سے  ایک ’تجربہ‘ قرار دینے والی ٹائٹن آبدوز گہرے سمندر میں لاپتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/22122601ef28dbf.jpg'  alt='فائل فوٹو: اسکائی نیوز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فائل فوٹو: اسکائی نیوز</figcaption>
    </figure></p>
<p>دوسری جانب ڈیوڈ نے دعویٰ کرتے ہوئے  انکشاف کیا ہےکہ آبدوز کو آزاد انسپکٹرز سے چیک نہیں کرایا گیا تھا۔</p>
<p>آبدوز میں موجود ہُل (hull) ایسا حصہ ہے جہاں مسافر بیٹھتے ہیں، جو کاربن فائبر سے بنایا گیا تھا جس کے ایک سرے پر ٹائٹینیم کی پلیٹیں موجود ہیں اور دوسری جانب ایک چھوٹی کھڑکی ہے۔</p>
<p>پورٹسماؤتھ یونیورسٹی میں میرین بائیولوجی کے لیکچرار ڈاکٹر نکولائی روٹرڈیم کہتے ہیں کہ عام طور پر ٹائٹینیم کا دائرہ 2 میٹر ہوتا ہے۔</p>
<p>سمندری کی گہرائی کو برداشت کرنے کے لیے آپ کو انتہائی مضبوط مواد کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ پانی کے دباؤ میں مسلسل اضافہ ہوتا رہتا ہے۔</p>
<p>ٹائٹینیم یا اسٹیل کے مقابلے کاربن فائبر کے استعمال میں لاگت کم آتی ہے لیکن یہ ٹائٹن جیسے گہرے سمندری آبدوزوں کے لیے ناتجربہ کار ہے۔</p>
<p>اوشن گیٹ کے سی ای او رش اسٹاکٹن نے گزشتہ سال ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ کاربن فائبر کا استعمال چھوٹی کشتی اور ہوا بازی میں کامیابی کے ساتھ کیا جاتا ہے، لیکن اسے آبدوزوں میں استعمال نہیں کیا گیا ہے۔</p>
<p>عدالتی دستاویزات میں ڈیوڈ لوچریج نے دعوی کیا کہ آبدوز کے ہُل نامی حصے کو صحیح طریقے سے چیک نہیں کیا گیا، کیونکہ اسی حصے پر بہت زیادہ دباؤ ہوتا ہے اور ممکنہ مسائل درپیش آسکتے تھے۔</p>
<p>انہوں نے دعویٰ کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ آبدوز کے ماڈل میں موجود کاربن میں خامیاں ہیں۔</p>
<p>ڈیوڈ لوچریج نے ٹائٹن کے گلاس ویو پورٹ کے مسائل سے متعلق بھی سوال اُٹھائے تھے۔</p>
<p>یاد رہے کہ اتوار کو ٹائی ٹینک کی باقیات کو دیکھنے کے لیے جانے والی 22 فٹ کی چھوٹی آبدوز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود ہے۔</p>
<p>ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔</p>
<p>اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش اس آبدوز پر سوار تھے جو ٹائی ٹینک کے ملبے کے قریب لاپتا ہوئی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206380</guid>
      <pubDate>Thu, 22 Jun 2023 14:34:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/22122217f279a3f.jpg?r=145819" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/22122217f279a3f.jpg?r=145819"/>
        <media:title>دستاویزات کے مطابق آبدوز سے متعلق متعدد مسائل کی نشاندہی کی گئی تھی— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
