<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 16:06:08 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 16:06:08 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>اوشن گیٹ کو ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا تھا، ڈائریکٹر’ٹائٹینک’ جیمز کیمرون</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206435/</link>
      <description>&lt;p&gt;ماضی کی مقبول ہولی ووڈ فلم ’ٹائٹینک‘ کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون نے ٹائٹن آبدوز میں ہلاک ہونے والے افراد کا 1912 میں ٹائٹینک جہاز کے نقصان سے تشبیہ دیتے  اسے ایک المیہ قرار دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-65994707"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق جیمز کیمرون 33 بار ٹائٹینک کی باقیات خود جا کر دیکھ چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 19 جون کو ٹائٹینک جہاز کی باقیات کو دیکھنے کے لیے جانے والی 21 فٹ کی چھوٹی آبدوز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز میں اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش سوار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز کی تلاش کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ نے ریسکیو آپریشن شروع کیا جو 5 روز تک جاری رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز میں موجود افراد کے پاس آکسیجن کی اضافی سپلائی 22 جون کو پاکستانی وقت کے مطابق چار بجے ختم ہوگئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ لاپتا آبدوز ٹائٹن کی تلاش کے دوران سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے قریب سے کچھ ملبہ ملا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹائٹن آبدوز میں سوار مسافروں کے ایک دوست اور ڈائیونگ ماہر ڈیوڈ میرنز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ملبے میں ٹائٹن آبدوز کا لینڈنگ فریم بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے بعد آبدوز کی مالک کمپنی اوشن گیٹ نے اس میں سوار 2 پاکستانیوں سمیت پانچوں افراد کی موت کی تصدیق کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/23124201bb41ae0.jpg'  alt='فوتو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;فوتو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسی حوالے سے ہولی ووڈ کی ماضی کی مقبول ہولی ووڈ فلم ’ٹائٹینک‘ کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون کہتے ہیں کہ 18 جون کو جب آبدوز لاپتا ہوئی تو وہ بحری جہاز پر تھے، جب مجھے معلوم ہوا کہ آبدوز سے رابطہ منقطح ہوچکا ہے تو مجھے فوری طور پر کسی بڑے حادثے کا شبہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آبدوز کے ساتھ کیا ہوا ہوگا، جب آبدوز کا الیکٹرونک سسٹم غیر فعال ہوجائے اور رابطہ منقطح ہوجائے اور ٹریکنگ ٹرانسپونڈر بیک وقت ناکام ہوجائیں تو آبدوز اور اس میں سوار لوگوں کا زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہدایت کار نے کہا کہ میں نے فوری طور پر اپنے ذرائع سے فون پر رابطہ کیا، تقریبا ایک گھنٹے کے اندر مجھے کچھ حقائق ملے، وہ انتہائی گہرائی میں جارہے تھے، وہ 3 ہزار 800 میٹر کی گہرائی پر جانے کے لیے اُس وقت 3 ہزار 500 میٹر گہرے سمندر پر تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز کیمرون نے کہا کہ ’آبدوز سے رابطہ منقع ہوچکا تھا، کام کرنا بند کردیا تھا، میرے ذہن میں فوری طور پر خیال آیا کہ آبدوز implosion کا شکار ہوگیا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز کیمرون کہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ روز طویل اور  ڈراؤنے خواب کی طرح محسوس ہوئے تھے، ہرکوئی زیر آب آوازیں، آکسیجن کے بارے میں بات کررہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/23124541b5b3312.jpg'  alt='روبوٹک مشین جس نے ٹائٹن آبدوز کے ملبے کا کھوج لگایا &amp;mdash;فوٹو: رائٹرز' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;روبوٹک مشین جس نے ٹائٹن آبدوز کے ملبے کا کھوج لگایا —فوٹو: رائٹرز&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میں جانتا تھا کہ آبدوز وہیں پر موجود ہے جہاں اس میں سوار لوگ جانا چاہتے تھے، اور انہیں وہیں سے آبدوز کا ملبہ ملا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیمز کیمرون نے ٹائٹن آبدوز میں ہلاک ہونے والے افراد کا 1912 میں ٹائٹینک جہاز کے نقصان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹائٹن اور اس میں سوار لوگوں کی ہلاکت ایک بہت بڑا نقصان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کئی بار خبردار کرنے کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا، واقعے سے قبل اوشن گیٹ کو ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کمپنی میں کام کرنے والے لوگوں نے نوکری چھوڑ دی اور وجہ بھی نہیں بتائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر  نے مزید کہا کہ گہرے پانی میں غوطہ خوری کرنے والے لوگوں میں سے کچھ افراد نے (جن میں وہ خود شامل نہیں ہیں) اوشن گیٹ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ تباہی کے راستے پر جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ جیمز کیمرون پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے آبدوز کا گہرے پانی میں جانے کے تجربے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوشن گیٹ کے سابق ملازم نے 2018 میں ہی خبردار کردیا تھا کہ آبدوز کو حفاظتی مسائل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عدالتی دستاویزات کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ آبدوز کو جانچ کی ضرورت ہے، موجودہ حالت میں جب یہ انتہائی گہرائیوں تک پہنچے گی تو مسافروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ مارچ 2018 میں میرین ٹیکنالوجی سوسائٹی کی طرف سے اوشن گیٹ کو بھیجے گئے ایک خط میں بھی ٹائی ٹینک کے قریب لاپتا ہونے والی آبدوز کی کمزور سیفٹی پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوشن گیٹ کے شریک گولیرمو سوہلین نے آبدوز کے حفاظتی خدشات کے حوالے سے کمپنی پر کی گئی تنقید اور الزامات کو مسترد کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلم ڈائریکٹر جیمز کیمرون سمیت ٹائٹن کی حفاظتی خدشات پر تبصرہ کرنے والے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ماضی کی مقبول ہولی ووڈ فلم ’ٹائٹینک‘ کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون نے ٹائٹن آبدوز میں ہلاک ہونے والے افراد کا 1912 میں ٹائٹینک جہاز کے نقصان سے تشبیہ دیتے  اسے ایک المیہ قرار دے دیا۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) کی <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-65994707">رپورٹ</a></strong> کے مطابق جیمز کیمرون 33 بار ٹائٹینک کی باقیات خود جا کر دیکھ چکے ہیں۔</p>
<p>یاد رہے کہ 19 جون کو ٹائٹینک جہاز کی باقیات کو دیکھنے کے لیے جانے والی 21 فٹ کی چھوٹی آبدوز سے ہر قسم کا رابطہ منقطع ہوگیا تھا، جو شمالی بحر اوقیانوس کی سطح سے دو میل (تقریباً چار کلومیٹر)گہرائی میں موجود تھی۔</p>
<p>ٹائٹن نامی آبدوز امریکا میں قائم کمپنی اوشن گیٹ ایکسپیڈیشن چلاتی ہے، جس کی خصوصیات کے مطابق اسے 96 گھنٹے تک زیر آب رہنے کے لیے بنایا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>آبدوز میں اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین اور پاکستانی بزنس مین شہزادہ داؤد، ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی ارب پتی ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی ایکسپلورر پال ہنری نارجیولٹ، اوشین گیٹ کے سی ای او اسٹاکٹن رش سوار تھے۔</p>
<p>آبدوز کی تلاش کے لیے امریکی کوسٹ گارڈ نے ریسکیو آپریشن شروع کیا جو 5 روز تک جاری رہا۔</p>
<p>آبدوز میں موجود افراد کے پاس آکسیجن کی اضافی سپلائی 22 جون کو پاکستانی وقت کے مطابق چار بجے ختم ہوگئی تھی۔</p>
<p>جس کے بعد امریکی کوسٹ گارڈ کی جانب سے تصدیق کی گئی تھی کہ لاپتا آبدوز ٹائٹن کی تلاش کے دوران سمندر کی تہہ میں ٹائٹینک کے قریب سے کچھ ملبہ ملا ہے۔</p>
<p>ٹائٹن آبدوز میں سوار مسافروں کے ایک دوست اور ڈائیونگ ماہر ڈیوڈ میرنز نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ اس ملبے میں ٹائٹن آبدوز کا لینڈنگ فریم بھی شامل ہے۔</p>
<p>جس کے بعد آبدوز کی مالک کمپنی اوشن گیٹ نے اس میں سوار 2 پاکستانیوں سمیت پانچوں افراد کی موت کی تصدیق کردی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/23124201bb41ae0.jpg'  alt='فوتو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>فوتو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>اسی حوالے سے ہولی ووڈ کی ماضی کی مقبول ہولی ووڈ فلم ’ٹائٹینک‘ کے ڈائریکٹر جیمز کیمرون کہتے ہیں کہ 18 جون کو جب آبدوز لاپتا ہوئی تو وہ بحری جہاز پر تھے، جب مجھے معلوم ہوا کہ آبدوز سے رابطہ منقطح ہوچکا ہے تو مجھے فوری طور پر کسی بڑے حادثے کا شبہ ہوا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آبدوز کے ساتھ کیا ہوا ہوگا، جب آبدوز کا الیکٹرونک سسٹم غیر فعال ہوجائے اور رابطہ منقطح ہوجائے اور ٹریکنگ ٹرانسپونڈر بیک وقت ناکام ہوجائیں تو آبدوز اور اس میں سوار لوگوں کا زندہ رہنا مشکل ہوجاتا ہے۔</p>
<p>ہدایت کار نے کہا کہ میں نے فوری طور پر اپنے ذرائع سے فون پر رابطہ کیا، تقریبا ایک گھنٹے کے اندر مجھے کچھ حقائق ملے، وہ انتہائی گہرائی میں جارہے تھے، وہ 3 ہزار 800 میٹر کی گہرائی پر جانے کے لیے اُس وقت 3 ہزار 500 میٹر گہرے سمندر پر تھے۔</p>
<p>جیمز کیمرون نے کہا کہ ’آبدوز سے رابطہ منقع ہوچکا تھا، کام کرنا بند کردیا تھا، میرے ذہن میں فوری طور پر خیال آیا کہ آبدوز implosion کا شکار ہوگیا ہوگا۔</p>
<p>جیمز کیمرون کہتے ہیں کہ گزشتہ کچھ روز طویل اور  ڈراؤنے خواب کی طرح محسوس ہوئے تھے، ہرکوئی زیر آب آوازیں، آکسیجن کے بارے میں بات کررہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/06/23124541b5b3312.jpg'  alt='روبوٹک مشین جس نے ٹائٹن آبدوز کے ملبے کا کھوج لگایا &mdash;فوٹو: رائٹرز' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>روبوٹک مشین جس نے ٹائٹن آبدوز کے ملبے کا کھوج لگایا —فوٹو: رائٹرز</figcaption>
    </figure></p>
<p>میں جانتا تھا کہ آبدوز وہیں پر موجود ہے جہاں اس میں سوار لوگ جانا چاہتے تھے، اور انہیں وہیں سے آبدوز کا ملبہ ملا۔</p>
<p>جیمز کیمرون نے ٹائٹن آبدوز میں ہلاک ہونے والے افراد کا 1912 میں ٹائٹینک جہاز کے نقصان سے تشبیہ دیتے ہوئے کہا کہ ٹائٹن اور اس میں سوار لوگوں کی ہلاکت ایک بہت بڑا نقصان ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ بدقسمتی سے کئی بار خبردار کرنے کے باوجود یہ واقعہ پیش آیا، واقعے سے قبل اوشن گیٹ کو ممکنہ خطرات سے خبردار کیا گیا تھا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کمپنی میں کام کرنے والے لوگوں نے نوکری چھوڑ دی اور وجہ بھی نہیں بتائی۔</p>
<p>ڈائریکٹر  نے مزید کہا کہ گہرے پانی میں غوطہ خوری کرنے والے لوگوں میں سے کچھ افراد نے (جن میں وہ خود شامل نہیں ہیں) اوشن گیٹ کو خط لکھا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ تباہی کے راستے پر جا رہے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ جیمز کیمرون پہلے شخص نہیں ہیں جنہوں نے آبدوز کا گہرے پانی میں جانے کے تجربے پر تشویش کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>اوشن گیٹ کے سابق ملازم نے 2018 میں ہی خبردار کردیا تھا کہ آبدوز کو حفاظتی مسائل کا سامنا ہے۔</p>
<p>عدالتی دستاویزات کے مطابق انہوں نے کہا تھا کہ آبدوز کو جانچ کی ضرورت ہے، موجودہ حالت میں جب یہ انتہائی گہرائیوں تک پہنچے گی تو مسافروں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔</p>
<p>اس کے علاوہ مارچ 2018 میں میرین ٹیکنالوجی سوسائٹی کی طرف سے اوشن گیٹ کو بھیجے گئے ایک خط میں بھی ٹائی ٹینک کے قریب لاپتا ہونے والی آبدوز کی کمزور سیفٹی پر خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔</p>
<p>اوشن گیٹ کے شریک گولیرمو سوہلین نے آبدوز کے حفاظتی خدشات کے حوالے سے کمپنی پر کی گئی تنقید اور الزامات کو مسترد کردیا۔</p>
<p>بی بی سی ریڈیو 4 کے پروگرام میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ فلم ڈائریکٹر جیمز کیمرون سمیت ٹائٹن کی حفاظتی خدشات پر تبصرہ کرنے والے پوری طرح آگاہ نہیں ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206435</guid>
      <pubDate>Fri, 23 Jun 2023 18:34:04 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/231210044e5b1a3.jpg?r=124303" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/231210044e5b1a3.jpg?r=124303"/>
        <media:title>جیمز کیمرون کہتے ہیں کہ 18 جون کو جب آبدوز لاپتا ہوئی تو وہ بحری جہاز پر تھے—فوٹو: رائٹرز/بی بی سی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
