<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 09:56:44 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 09:56:44 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نریندر مودی کی بھارت میں عدم برداشت کی تردید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206488/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کی تردید کی ہے حالانکہ بدسلوکی کے واقعات بڑھنے اطلاعات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘  کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1761410/modi-in-denial-over-intolerance-in-india"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران انسانی حقوق اور دیگر جمہوری اقدار پر بات کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ اپنے ملک میں مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے حقوق بہتر کرنے اور آزادی اظہار کے لیے کیا اقدامات اٹھائیں گے، جس پر نریندر مودی نے کہا کہ اس کو بہتر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا آئین، ہماری حکومت اور ہم نے ثابت کیا ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کر سکتی ہے، جب میں ڈیلیور کی بات کرتا ہوں تو (میری حکومت میں) ذات، مذہب، صنف، اور کسی امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206466"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین امریکن مسلم کونسل کے ڈائریکٹر اور احتجاج کرنے والے اجیت ساہی نے کہا کہ یہ سب پر عیاں ہے کہ بھارت میں حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جمعرات کو سیکڑوں مظاہرین وائٹ ہاؤس کے قریب جمع ہوئے، نریندر مودر کو سوچنا چاہیے کہ پریس بریفینگ کے دوران ان سے اس حوالے سے پہلا سوال کیوں پوچھا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت میں اقلیتوں پر حملوں کی رپورٹس پر نظر رکھنے والے گروپ ہندوتوا واچ کے بانی رقیب حمید نائیک نے کہا کہ نریندر مودی کا تبصرہ (ان کی حکومت کی جانب سے کوئی مذہبی امتیاز نہیں) مکمل جھوٹ ہے، بھارت مذہبی اقلیتوں کے لیے بلیک ہول بن چکا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی نے واشنگٹن میں امریکی اور بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیز کے چیف ایگزیکٹیو سے بھی ملاقات کی، ریاستی دورے کا آخری دن خلا، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت دیگر شعبوں میں امریکا-بھارت گہرے تعاون کے وعدے کیے گئے، ایپل کے ٹم کک، گوگل کے سندر پچائی اور مائیکرو سافٹ کے ستیہ نڈیلا امریکی صدر جو بائیڈن اور نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی نے اپنی حکومت میں اقلیتوں کے ساتھ امتیازی سلوک روا رکھنے کی تردید کی ہے حالانکہ بدسلوکی کے واقعات بڑھنے اطلاعات ہیں۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘  کی <a href="https://www.dawn.com/news/1761410/modi-in-denial-over-intolerance-in-india"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق امریکی صدر جو بائیڈن نے کہا کہ انہوں نے وائٹ ہاؤس میں بھارتی وزیر اعظم کے ساتھ بات چیت کے دوران انسانی حقوق اور دیگر جمہوری اقدار پر بات کی۔</p>
<p>پریس کانفرنس کے دوران ان سے سوال پوچھا گیا کہ آپ اپنے ملک میں مسلمانوں و دیگر اقلیتوں کے حقوق بہتر کرنے اور آزادی اظہار کے لیے کیا اقدامات اٹھائیں گے، جس پر نریندر مودی نے کہا کہ اس کو بہتر کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔</p>
<p>انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا آئین، ہماری حکومت اور ہم نے ثابت کیا ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کر سکتی ہے، جب میں ڈیلیور کی بات کرتا ہوں تو (میری حکومت میں) ذات، مذہب، صنف، اور کسی امتیازی سلوک کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206466"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انڈین امریکن مسلم کونسل کے ڈائریکٹر اور احتجاج کرنے والے اجیت ساہی نے کہا کہ یہ سب پر عیاں ہے کہ بھارت میں حقوق کی خلاف ورزی ہوتی ہے، جمعرات کو سیکڑوں مظاہرین وائٹ ہاؤس کے قریب جمع ہوئے، نریندر مودر کو سوچنا چاہیے کہ پریس بریفینگ کے دوران ان سے اس حوالے سے پہلا سوال کیوں پوچھا گیا۔</p>
<p>بھارت میں اقلیتوں پر حملوں کی رپورٹس پر نظر رکھنے والے گروپ ہندوتوا واچ کے بانی رقیب حمید نائیک نے کہا کہ نریندر مودی کا تبصرہ (ان کی حکومت کی جانب سے کوئی مذہبی امتیاز نہیں) مکمل جھوٹ ہے، بھارت مذہبی اقلیتوں کے لیے بلیک ہول بن چکا ہے۔</p>
<p>نریندر مودی نے واشنگٹن میں امریکی اور بھارتی ٹیکنالوجی کمپنیز کے چیف ایگزیکٹیو سے بھی ملاقات کی، ریاستی دورے کا آخری دن خلا، مصنوعی ذہانت اور کوانٹم کمپیوٹنگ سمیت دیگر شعبوں میں امریکا-بھارت گہرے تعاون کے وعدے کیے گئے، ایپل کے ٹم کک، گوگل کے سندر پچائی اور مائیکرو سافٹ کے ستیہ نڈیلا امریکی صدر جو بائیڈن اور نریندر مودی کے ساتھ ملاقات کرنے والوں میں شامل تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206488</guid>
      <pubDate>Sat, 24 Jun 2023 11:18:52 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/24111035d5c8dac.jpg?r=111753" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/24111035d5c8dac.jpg?r=111753"/>
        <media:title>انہوں نے صحافیوں کو بتایا کہ ہمارا آئین، ہماری حکومت اور ہم نے ثابت کیا ہے کہ جمہوریت ڈیلیور کر سکتی ہے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
