<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 24 Jun 2026 00:42:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 24 Jun 2026 00:42:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بجٹ پر نظرِ ثانی کرنے کے بعد حکومت کو معاہدے کیلئے آئی ایم ایف کی منظوری کا انتظار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206584/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبات کے مطابق بجٹ پر نظر ثانی کرنے کے بعد حکومت کو اشد ضروری بیل آؤٹ فنڈز حاصل کرنے کے لیے آئندہ چند روز میں عالمی قرض دہندہ ادارے کی جانب سے منظوری کے اعلان کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1761807/govt-waits-for-imf-nod-after-revising-budget"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ایک عہدیدار نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے عملے اور وزارت خزانہ کے درمیان تقریباً تمام اضطرابی مسائل کو ہفتہ کو وزیر خزانہ کی اختتامی بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل دور کر دیا گیا تھا،‘ ایک عہدیدار نے مزید کہا کہ نویں جائزے کی کامیاب تکمیل کے بارے میں اعلان آئی ایم ایف کا استحقاق ہے اور اب محض رسمی کارروائی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عہدیدار نے کہا کہ اب یہ آئی ایم ایف مشن پر منحصر ہے کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کے لیے حتمی تاریخوں کا تعین کرے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ 30 جون تک کے کیلنڈر پر نہیں ہے جب 2019 کے ساڑھے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی بیک ٹو بیک ملاقاتیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ پارلیمنٹ میں بحث کے بعد 9 جون کو پیش کیے جانے والے ابتدائی بجٹ میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہاکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پہلی بار ہے کہ پارلیمنٹ نے ایسا بجٹ منظور کیا جس پر اس نے بحث نہیں کی اور پارلیمانی بحث ختم ہونے کے بعد بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا گیا’۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تبدیلیوں میں 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات، اخراجات میں 85 ارب روپے کی کٹوتی، غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد پر ایمنسٹی واپس لینا، درآمدی پابندیوں کا خاتمہ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں 16 ارب روپے کا اضافہ اور پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حکام نے اصرار کیا کہ آئندہ مالی سال کے پہلے روز یعنی یکم جولائی کو پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;درحقیقت حکام کا خیال تھا کہ اس اضافے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی جب تک کہ پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں تیزی سے کمی نہ آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ حکام اسلامی ترقیاتی بینک سے آئی ایم ایف کے فنڈز آنے تک زرمبادلہ کے کم ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے پہلے سے اعلان کردہ 4 ارب ڈالر کے پورٹ فولیو میں سے زیادہ سے زیادہ پیشگی ادائیگی کے لیے بات کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آئندہ تعطیلات، نظامی سست روی اور انتظامی تاخیر کی وجہ سے درآمدی پابندیوں کے خاتمے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;4 ارب ڈالر سے زیادہ کی درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب 86 کروڑ ڈالر کے زرِمبادلہ درکار ہیں، جس میں مرکزی بینک کی 3 ارب 54 کروڑ ڈالر کی ہولڈنگ بھی شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں آئی ایم ایف کی رہائشی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;9 جون کو بجٹ کے اعلان کے بعد انہوں نے عوامی طور پر بجٹ کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بجٹ نے ٹیکس کی بنیاد کو زیادہ ترقی پسند انداز میں وسیع کرنے کا موقع گنوا دیا اور نئے ٹیکس اخراجات کی طویل فہرست نے ٹیکس کے نظام کی شفافیت کو مزید کم کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایستھر پیریز روئیز نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم فنڈ پروگرام کی شرائط اور گورننس کے ایجنڈے کے خلاف ہے اور اس سے ایک نقصان دہ نظیر پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے بجٹ کو منظور کرنے سے پہلے اسے بہتر کرنے کا کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان میں حکام نے کہا کہ اب ان مطالبات کو پورا کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبات کے مطابق بجٹ پر نظر ثانی کرنے کے بعد حکومت کو اشد ضروری بیل آؤٹ فنڈز حاصل کرنے کے لیے آئندہ چند روز میں عالمی قرض دہندہ ادارے کی جانب سے منظوری کے اعلان کی توقع ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1761807/govt-waits-for-imf-nod-after-revising-budget">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ایک عہدیدار نے کہا کہ ’آئی ایم ایف کے عملے اور وزارت خزانہ کے درمیان تقریباً تمام اضطرابی مسائل کو ہفتہ کو وزیر خزانہ کی اختتامی بجٹ تقریر سے چند گھنٹے قبل دور کر دیا گیا تھا،‘ ایک عہدیدار نے مزید کہا کہ نویں جائزے کی کامیاب تکمیل کے بارے میں اعلان آئی ایم ایف کا استحقاق ہے اور اب محض رسمی کارروائی ہے۔</p>
<p>عہدیدار نے کہا کہ اب یہ آئی ایم ایف مشن پر منحصر ہے کہ وہ ایگزیکٹو بورڈ کی منظوری اور فنڈز کے اجرا کے لیے حتمی تاریخوں کا تعین کرے، تاہم انہوں نے تسلیم کیا کہ یہ 30 جون تک کے کیلنڈر پر نہیں ہے جب 2019 کے ساڑھے 6 ارب ڈالر کی توسیعی فنڈ سہولت کی میعاد ختم ہونے والی ہے۔</p>
<p>وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ ہفتے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے بھی بیک ٹو بیک ملاقاتیں کیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206506"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایک سرکاری عہدیدار نے ڈان کو بتایا کہ پارلیمنٹ میں بحث کے بعد 9 جون کو پیش کیے جانے والے ابتدائی بجٹ میں نمایاں تبدیلی کی گئی ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہاکہ آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ پہلی بار ہے کہ پارلیمنٹ نے ایسا بجٹ منظور کیا جس پر اس نے بحث نہیں کی اور پارلیمانی بحث ختم ہونے کے بعد بڑی تبدیلیوں کا اعلان کردیا گیا’۔</p>
<p>ان تبدیلیوں میں 215 ارب روپے کے اضافی ٹیکس اقدامات، اخراجات میں 85 ارب روپے کی کٹوتی، غیر ملکی زرمبادلہ کی آمد پر ایمنسٹی واپس لینا، درآمدی پابندیوں کا خاتمہ، بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کی مختص رقم میں 16 ارب روپے کا اضافہ اور پیٹرولیم لیوی کو 50 روپے سے بڑھا کر 60 روپے فی لیٹر کرنے کے اختیارات شامل ہیں۔</p>
<p>تاہم حکام نے اصرار کیا کہ آئندہ مالی سال کے پہلے روز یعنی یکم جولائی کو پیٹرولیم لیوی میں اضافہ نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206549"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>درحقیقت حکام کا خیال تھا کہ اس اضافے کی ضرورت ہی نہیں ہوگی جب تک کہ پیٹرولیم مصنوعات کی کھپت میں تیزی سے کمی نہ آئے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ حکام اسلامی ترقیاتی بینک سے آئی ایم ایف کے فنڈز آنے تک زرمبادلہ کے کم ذخائر کو برقرار رکھنے کے لیے اس کے پہلے سے اعلان کردہ 4 ارب ڈالر کے پورٹ فولیو میں سے زیادہ سے زیادہ پیشگی ادائیگی کے لیے بات کر رہے ہیں۔</p>
<p>آئندہ تعطیلات، نظامی سست روی اور انتظامی تاخیر کی وجہ سے درآمدی پابندیوں کے خاتمے میں بھی کچھ وقت لگے گا۔</p>
<p>4 ارب ڈالر سے زیادہ کی درآمدی کنسائنمنٹس کی کلیئرنس کے لیے مجموعی طور پر 8 ارب 86 کروڑ ڈالر کے زرِمبادلہ درکار ہیں، جس میں مرکزی بینک کی 3 ارب 54 کروڑ ڈالر کی ہولڈنگ بھی شامل ہے۔</p>
<p>پاکستان میں آئی ایم ایف کی رہائشی نمائندہ ایستھر پیریز روئیز نے تبصرہ کرنے کی درخواست کا جواب نہیں دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205963"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>9 جون کو بجٹ کے اعلان کے بعد انہوں نے عوامی طور پر بجٹ کے اقدامات پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ بجٹ نے ٹیکس کی بنیاد کو زیادہ ترقی پسند انداز میں وسیع کرنے کا موقع گنوا دیا اور نئے ٹیکس اخراجات کی طویل فہرست نے ٹیکس کے نظام کی شفافیت کو مزید کم کر دیا۔</p>
<p>ایستھر پیریز روئیز نے اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا کہ نئی ٹیکس ایمنسٹی اسکیم فنڈ پروگرام کی شرائط اور گورننس کے ایجنڈے کے خلاف ہے اور اس سے ایک نقصان دہ نظیر پیدا ہوتی ہے۔ انہوں نے حکومت سے بجٹ کو منظور کرنے سے پہلے اسے بہتر کرنے کا کہا تھا۔</p>
<p>پاکستان میں حکام نے کہا کہ اب ان مطالبات کو پورا کرلیا گیا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206584</guid>
      <pubDate>Mon, 26 Jun 2023 08:31:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (خلیق کیانی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/26080559fbedcb1.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/26080559fbedcb1.jpg"/>
        <media:title>وزیراعظم شہباز شریف نے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر سے بیک ٹو بیک ملاقاتیں کیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
