<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:17:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:17:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’بیٹا سمندر کی گہرائی میں روبک کیوب حل کرنے کا عالمی ریکارڈ بنانا چاہتا تھا‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206677/</link>
      <description>&lt;p&gt;بحر اوقیانوس میں تباہ شدہ ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے والد شہزادہ داؤد کے ہمراہ ساتھ جانے والے 19 سالہ سلیمان داؤد کی والدہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے بیٹے سمندر کی گہرائی میں جاکر عالمی ریکارڈ بنانے کے خواہاں تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے دیگر 3 افراد کے ہمراہ آبدوز (سب میرین) ’ٹائٹن‘ میں سوار تھے جو 19 جون کو سمندر میں لاپتا ہوگئی تھی اور 23 جون کو آبدوز کا ملبہ ملنے کے بعد اس میں سوار پانچوں افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز میں سوار افراد میں رطانوی ایکسپلورر ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی آبدوز کے ماہر پال ہنری نارجیولٹ، پاکستانی نژاد برطانوی ٹائیکون شہزادہ داؤد اور ان کا بیٹا سلیمان اور اوشن گیٹ ایکسپیڈیشنز کے چیف ایگزیکٹو افسر اسٹاکٹن رش شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206247"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی نژاد شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے کی موت کے بعد سلیمان داؤد کی پھوپھو نے انکشاف کیا تھا کہ وہ سمندر میں جانے سے خوف زدہ تھے، وہ صرف والد کو خوش کرنے کے لیے اس میں سوار ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اب سلیمان داؤد کی والدہ کا پہلا انٹرویو سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے سمندر میں جانے کے لیے پر جوش تھے اور وہ وہاں جانے پر کافی خوش تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-66015851"&gt;&lt;strong&gt;(بی بی سی)&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کو دیے گئے انٹرویو میں کرسٹین داؤد نے بتایا کہ ان کے بیٹے والد کے ہمراہ سمندر کی تہہ میں جانے کے لیے بہت خوش تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے روبک کیوب ساتھ لے گئے تھے، کیوں کہ وہ سمندر کی گہرائی میں اسے حل کرکے عالمی ریکارڈ بنانا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹین داؤد کے مطابق ان کے بیٹے نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو درخواست بھی دی تھی جب کہ شہزادہ داؤد نے بیٹے کے عالمی ریکارڈ بنانے کے لمحات کو ویڈیو میں قید کرنے کے لیے کیمرا بھی ساتھ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے جانے والی تھیں مگر اس وقت کورونا کی وبا کے باعث ان کا سفر منسوخ ہوا اور اس بار وہ خود پیچھے ہٹ گئیں، کیوں کہ ان کے بیٹے وہاں جانا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے بیٹے سے متعلق بتایا کہ ان کے بیٹے کو روبک کیوب حل کرنے کا بہت شوق تھا، وہ انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا اور وہ محض 12 سیکنڈز میں انہیں حل کرکے دیکھنے والوں کو پریشان کردیتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹین داؤد کا کہنا تھا کہ جب ان کے بیٹے اور شوہر کو لاپتا ہوئے 96 گھنٹے گزر گئے تھے، تب ہی انہوں نے شکست مانتے ہوئے ان کی موت پر یقین کرلیا تھا لیکن ان کی بیٹی علینہ آخری وقت تک پرامید تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ برطانیہ میں ان کے شوہر اور بیٹے کی نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی نے آبدور میں مرجانے والے تمام پانچوں افراد کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرسٹین داؤد نے اپنے شوہر کا مشن جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر نے کافی لوگوں کی مدد کی، وہ ہر وقت بچوں کی طرح پرجوش رہتے تھے، وہ اپنی بیٹی کی خاطر شوہر کے مشن کو جاری رکھیں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ شہزادہ داؤد کا خاندان پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے، ان کا خاندان اینگرو کمپنی سمیت متعدد تعلیمی اداروں اور دیگر کاروباری اداروں کا مالک ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا زیادہ تر خاندان برطانیہ میں مقیم ہے جب کہ ان کے خاندان نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولاجی (ایس آئی یو ٹی) سمیت دیگر ہسپتالوں کی تعمیر میں تعاون کر رکھا ہے جب کہ ان کا خاندان متعدد تعلیمی منصوبے بھی چلاتا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بحر اوقیانوس میں تباہ شدہ ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے والد شہزادہ داؤد کے ہمراہ ساتھ جانے والے 19 سالہ سلیمان داؤد کی والدہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے بیٹے سمندر کی گہرائی میں جاکر عالمی ریکارڈ بنانے کے خواہاں تھے۔</p>
<p>شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے سلیمان داؤد ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے دیگر 3 افراد کے ہمراہ آبدوز (سب میرین) ’ٹائٹن‘ میں سوار تھے جو 19 جون کو سمندر میں لاپتا ہوگئی تھی اور 23 جون کو آبدوز کا ملبہ ملنے کے بعد اس میں سوار پانچوں افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی تھی۔</p>
<p>آبدوز میں سوار افراد میں رطانوی ایکسپلورر ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی آبدوز کے ماہر پال ہنری نارجیولٹ، پاکستانی نژاد برطانوی ٹائیکون شہزادہ داؤد اور ان کا بیٹا سلیمان اور اوشن گیٹ ایکسپیڈیشنز کے چیف ایگزیکٹو افسر اسٹاکٹن رش شامل تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206247"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستانی نژاد شہزادہ داؤد اور ان کے بیٹے کی موت کے بعد سلیمان داؤد کی پھوپھو نے انکشاف کیا تھا کہ وہ سمندر میں جانے سے خوف زدہ تھے، وہ صرف والد کو خوش کرنے کے لیے اس میں سوار ہوئے۔</p>
<p>تاہم اب سلیمان داؤد کی والدہ کا پہلا انٹرویو سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے بتایا ہے کہ ان کے بیٹے سمندر میں جانے کے لیے پر جوش تھے اور وہ وہاں جانے پر کافی خوش تھے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.bbc.com/news/world-us-canada-66015851"><strong>(بی بی سی)</strong></a> کو دیے گئے انٹرویو میں کرسٹین داؤد نے بتایا کہ ان کے بیٹے والد کے ہمراہ سمندر کی تہہ میں جانے کے لیے بہت خوش تھے۔</p>
<p>انہوں نے انکشاف کیا کہ ان کے بیٹے روبک کیوب ساتھ لے گئے تھے، کیوں کہ وہ سمندر کی گہرائی میں اسے حل کرکے عالمی ریکارڈ بنانا چاہتے تھے۔</p>
<p>کرسٹین داؤد کے مطابق ان کے بیٹے نے گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ کو درخواست بھی دی تھی جب کہ شہزادہ داؤد نے بیٹے کے عالمی ریکارڈ بنانے کے لمحات کو ویڈیو میں قید کرنے کے لیے کیمرا بھی ساتھ لیا تھا۔</p>
<p>ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ پہلے وہ اپنے شوہر کے ہمراہ ٹائٹینک کا ملبہ دیکھنے کے لیے جانے والی تھیں مگر اس وقت کورونا کی وبا کے باعث ان کا سفر منسوخ ہوا اور اس بار وہ خود پیچھے ہٹ گئیں، کیوں کہ ان کے بیٹے وہاں جانا چاہتے تھے۔</p>
<p>انہوں نے بیٹے سے متعلق بتایا کہ ان کے بیٹے کو روبک کیوب حل کرنے کا بہت شوق تھا، وہ انہیں ہر وقت اپنے ساتھ رکھتا تھا اور وہ محض 12 سیکنڈز میں انہیں حل کرکے دیکھنے والوں کو پریشان کردیتا تھا۔</p>
<p>کرسٹین داؤد کا کہنا تھا کہ جب ان کے بیٹے اور شوہر کو لاپتا ہوئے 96 گھنٹے گزر گئے تھے، تب ہی انہوں نے شکست مانتے ہوئے ان کی موت پر یقین کرلیا تھا لیکن ان کی بیٹی علینہ آخری وقت تک پرامید تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206380"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے اس بات پر اطمینان کا اظہار کیا کہ برطانیہ میں ان کے شوہر اور بیٹے کی نماز جنازہ پڑھانے والے مولوی نے آبدور میں مرجانے والے تمام پانچوں افراد کی مغفرت کے لیے دعائیں کیں۔</p>
<p>کرسٹین داؤد نے اپنے شوہر کا مشن جاری رکھنے کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر نے کافی لوگوں کی مدد کی، وہ ہر وقت بچوں کی طرح پرجوش رہتے تھے، وہ اپنی بیٹی کی خاطر شوہر کے مشن کو جاری رکھیں گی۔</p>
<p>خیال رہے کہ شہزادہ داؤد کا خاندان پاکستان کے امیر ترین خاندانوں میں سے ایک ہے، ان کا خاندان اینگرو کمپنی سمیت متعدد تعلیمی اداروں اور دیگر کاروباری اداروں کا مالک ہے۔</p>
<p>ان کا زیادہ تر خاندان برطانیہ میں مقیم ہے جب کہ ان کے خاندان نے سندھ انسٹی ٹیوٹ آف یورولاجی (ایس آئی یو ٹی) سمیت دیگر ہسپتالوں کی تعمیر میں تعاون کر رکھا ہے جب کہ ان کا خاندان متعدد تعلیمی منصوبے بھی چلاتا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206677</guid>
      <pubDate>Tue, 27 Jun 2023 20:37:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/06/27170134e3db91b.jpg?r=170205" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/06/27170134e3db91b.jpg?r=170205"/>
        <media:title>بیٹا سمندر کی گہرائی میں جانے کے لیے خوش تھا، والدہ سلیمان داؤد
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
