<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:56:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:56:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان اور آئی ایم ایف کے درمیان قرض معاہدے میں امریکا کا اہم کردار</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206932/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے حصول میں پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2019 کے 6 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فنڈز کے اجرا میں 8 مہینے کی تاخیر کے بعد  30 جون کو پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوگیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1762676/us-helps-pakistan-secure-imf-package"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق ایک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ امریکا نے پورے عمل کے دوران پاکستان کی سپورٹ کی لیکن اس بات پر بھی اصرار کیا کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت اصلاحات کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ اس حوالے سے دوبار ٹیلی فون پر بات چیت کی، یہ معاملہ دونوں رہنماؤں کے دوران بالمشافہ ملاقات کے دوران بھی زیر بحث آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206811"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ امریکی محکمہ خزانہ اور داخلہ کے حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہتا ہے، محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکریٹری برینٹ نائمن کے ساتھ کام کرتے ہیں جو بین الاقوامی سطح کے مالیاتی معاملات کو دیکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفارتخانے نے اہم امریکی قانون سازوں سے بھی معاونت طلب کی، جس میں سینیٹر لنزے گراہم بھی شامل ہیں، جنہوں نے آئی ایم ایف ڈیل سے قبل پاکستانی ٹیم سے ملاقات کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یہ پیش رفت جون کے آخر میں اس وقت ہوئی، جب وزیر اعظم شہباز شریف نے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور ان سے نومبر سے روکے گئے 1.1 ارب ڈالر کی اہم قسط جاری کرنے کا کہا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا نے عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) سے پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر کے بیل آؤٹ پیکیج کے حصول میں پس پردہ اہم کردار ادا کیا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2019 کے 6 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فنڈز کے اجرا میں 8 مہینے کی تاخیر کے بعد  30 جون کو پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوگیا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1762676/us-helps-pakistan-secure-imf-package"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق ایک سفارتی ذرائع نے بتایا کہ امریکا نے پورے عمل کے دوران پاکستان کی سپورٹ کی لیکن اس بات پر بھی اصرار کیا کہ وہ آئی ایم ایف کے ساتھ کیے گئے معاہدے کے تحت اصلاحات کرے۔</p>
<p>ان ذرائع کے مطابق وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سیکریٹری خارجہ انٹونی بلنکن کے ساتھ اس حوالے سے دوبار ٹیلی فون پر بات چیت کی، یہ معاملہ دونوں رہنماؤں کے دوران بالمشافہ ملاقات کے دوران بھی زیر بحث آیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206811"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانہ امریکی محکمہ خزانہ اور داخلہ کے حکام کے ساتھ باقاعدہ رابطے میں رہتا ہے، محکمہ خزانہ کے ڈپٹی انڈر سیکریٹری برینٹ نائمن کے ساتھ کام کرتے ہیں جو بین الاقوامی سطح کے مالیاتی معاملات کو دیکھتے ہیں۔</p>
<p>سفارتخانے نے اہم امریکی قانون سازوں سے بھی معاونت طلب کی، جس میں سینیٹر لنزے گراہم بھی شامل ہیں، جنہوں نے آئی ایم ایف ڈیل سے قبل پاکستانی ٹیم سے ملاقات کی تھی۔</p>
<p>تاہم یہ پیش رفت جون کے آخر میں اس وقت ہوئی، جب وزیر اعظم شہباز شریف نے پیرس میں آئی ایم ایف کی منیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا سے ملاقات کی اور ان سے نومبر سے روکے گئے 1.1 ارب ڈالر کی اہم قسط جاری کرنے کا کہا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206932</guid>
      <pubDate>Mon, 03 Jul 2023 14:27:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انور اقبال)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/0313155854a5e0d.jpg?r=142732" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/0313155854a5e0d.jpg?r=142732"/>
        <media:title>ذرائع کے مطابق وزیرخارجہ بلاول بھٹو زرداری نے امریکی سیکریٹری خارجہ اینٹونی بلکن کے ساتھ اس حوالے سے دوبار ٹیلی فون پر بات چیت کی — فائل/فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
