<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 16:16:34 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 16:16:34 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آئی ایم ایف معاہدہ: انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 10 روپے 55 پیسے سستا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206977/</link>
      <description>&lt;p&gt;عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے بعد بینک کے پہلے کاروباری روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 10 روپے 55 پیسے کم ہوکر 275 روپے 44 پیسے  کا ہوگیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ڈالر 275 روپے 44 پیسے پر بند ہوا اور روپے کی قدر 3.83 فیصد بہتر ہوئی جبکہ 27 جون کو ڈالر 285 روپے 99 پیسے پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1676194349296816128"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 5 روپے کا اضافہ ہوا تھا، ماہرین نے توقع ظاہر کی تھی کہ بینک تعطیلات کے بعد (آج) کھلیں گے تو یہ رجحان انٹربینک میں بھی جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق صبح کاروبار کے آغاز کے ساتھ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 15 روپے کم ہو کر 271 روپے کی سطح پر آگیا تھا جو تعطیلات سے قبل آخری روز 285.99 روپے پر بند ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان  کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد معیشت پر اچھا اثر آیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، اب امید ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی، اسٹاک بھی بہتر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہ بات دیکھنے والی ہے کہ ہم ریٹ کو کس حد تک کنٹرول کرسکتے ہیں، ڈالر کا نیچے آنا اور پھر اپنی جگہ قائم نہ رہنے سے لوگوں میں مایوسی پھیلتی ہے اور منفی اثرات آتے ہیں، پہلے کی طرح ایسا نہ ہو کہ ریٹ کم ہو اور پھر اوپر چلا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر ہم مجموعی طور پر چیزوں کو لے کر چلیں تب تو بات بن سکتی ہے نہیں تو پاکستان کی معیشت پر طویل مدت میں مشکلات رہیں گی کیونکہ ہم نے 3 سال میں تقریباً 50 سے 55 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹریس مارک کی سربراہ کومل منصور نے بتایا کہ مارکیٹ آج 272 سے 276 روپے کے درمیان مستحکم ہو سکتی ہے، اس کے بعد اسٹیٹ بینک کرنسی کی سطح کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ آج روپے کے مقابلے میں ڈالر کی تجارت کم سے کم 270 روپے اور زیادہ سے زیادہ 274 روپے 50 پیسے دیکھی گئی، انہوں نے بتایا کہ آج نیویارک بند ہے لہٰذا اس کا مکمل اثر کل ظاہر ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے ڈالر کی قدر گر کر 265 روپے تک آسکتی ہے، جیسے ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہونا شروع ہوگا تو جن لوگوں کے پاس ڈالرز ہیں وہ افراتفری کا شکار ہوسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ کو بینکنگ چینل کے ذریعے ترسیلات زر میں اضافہ نظر آئے گا کیونکہ اس رجحان میں لوگ خطرات مول نہیں لیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان نے 30 جون کو آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کا قلیل المدت انتہائی ضروری بیل آؤٹ پیکیج حاصل کیا تھا، جس سے معیشت کو مہلت ملی جس کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 کے 6 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فنڈز کے اجرا میں 8 مہینے کی تاخیر کے بعد 30 جون کو پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 9 مہینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>عالمی مالیاتی ادارے (آئی ایم ایف) کے ساتھ 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ معاہدے کے بعد بینک کے پہلے کاروباری روز انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر 10 روپے 55 پیسے کم ہوکر 275 روپے 44 پیسے  کا ہوگیا۔</p>
<p>اسٹیٹ بینک کے اعداد وشمار کے مطابق ڈالر 275 روپے 44 پیسے پر بند ہوا اور روپے کی قدر 3.83 فیصد بہتر ہوئی جبکہ 27 جون کو ڈالر 285 روپے 99 پیسے پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/StateBank_Pak/status/1676194349296816128"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ روز اوپن مارکیٹ میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی کرنسی کی قدر میں 5 روپے کا اضافہ ہوا تھا، ماہرین نے توقع ظاہر کی تھی کہ بینک تعطیلات کے بعد (آج) کھلیں گے تو یہ رجحان انٹربینک میں بھی جاری رہے گا۔</p>
<p>فاریکس ایسوسی ایشن آف پاکستان کے مطابق صبح کاروبار کے آغاز کے ساتھ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر 15 روپے کم ہو کر 271 روپے کی سطح پر آگیا تھا جو تعطیلات سے قبل آخری روز 285.99 روپے پر بند ہوا تھا۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان  کے سیکریٹری جنرل ظفر پراچا نے بتایا کہ آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدے کے بعد معیشت پر اچھا اثر آیا ہے، سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہوا ہے، اب امید ہے کہ بیرونی سرمایہ کاری بھی آئے گی، اسٹاک بھی بہتر ہوا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206942"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کا مزید کہنا تھا کہ لیکن یہ بات دیکھنے والی ہے کہ ہم ریٹ کو کس حد تک کنٹرول کرسکتے ہیں، ڈالر کا نیچے آنا اور پھر اپنی جگہ قائم نہ رہنے سے لوگوں میں مایوسی پھیلتی ہے اور منفی اثرات آتے ہیں، پہلے کی طرح ایسا نہ ہو کہ ریٹ کم ہو اور پھر اوپر چلا جائے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر ہم مجموعی طور پر چیزوں کو لے کر چلیں تب تو بات بن سکتی ہے نہیں تو پاکستان کی معیشت پر طویل مدت میں مشکلات رہیں گی کیونکہ ہم نے 3 سال میں تقریباً 50 سے 55 ارب ڈالر کی ادائیگیاں کرنی ہیں۔</p>
<p>ٹریس مارک کی سربراہ کومل منصور نے بتایا کہ مارکیٹ آج 272 سے 276 روپے کے درمیان مستحکم ہو سکتی ہے، اس کے بعد اسٹیٹ بینک کرنسی کی سطح کی رہنمائی میں اہم کردار ادا کرے گا۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ آج روپے کے مقابلے میں ڈالر کی تجارت کم سے کم 270 روپے اور زیادہ سے زیادہ 274 روپے 50 پیسے دیکھی گئی، انہوں نے بتایا کہ آج نیویارک بند ہے لہٰذا اس کا مکمل اثر کل ظاہر ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206921"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میٹس گلوبل کے ڈائریکٹر سعد بن نصیر نے کہا کہ ہمارا اندازہ ہے ڈالر کی قدر گر کر 265 روپے تک آسکتی ہے، جیسے ہی زرمبادلہ کے ذخائر میں اضافہ ہونا شروع ہوگا تو جن لوگوں کے پاس ڈالرز ہیں وہ افراتفری کا شکار ہوسکتے ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو آپ کو بینکنگ چینل کے ذریعے ترسیلات زر میں اضافہ نظر آئے گا کیونکہ اس رجحان میں لوگ خطرات مول نہیں لیں گے۔</p>
<p>ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین ملک بوستان نے گزشتہ روز بتایا تھا کہ آئی ایم ایف معاہدے کے بعد منگل کو انٹربینک مارکیٹ میں بھی ڈالر کی قدر میں کمی کا سلسلہ جاری رہے گا۔</p>
<p>پاکستان نے 30 جون کو آئی ایم ایف سے 3 ارب ڈالر کا قلیل المدت انتہائی ضروری بیل آؤٹ پیکیج حاصل کیا تھا، جس سے معیشت کو مہلت ملی جس کے ڈیفالٹ ہونے کے خدشات کا اظہار کیا جارہا تھا۔</p>
<p>2019 کے 6 ارب ڈالر کے معاہدے کے تحت فنڈز کے اجرا میں 8 مہینے کی تاخیر کے بعد 30 جون کو پاکستان اور عالمی مالیاتی فنڈ کے درمیان 9 مہینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی انتظامات (ایس بی اے) پر عملے کی سطح کا معاہدہ ہوا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206977</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jul 2023 17:01:43 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (تلقین زبیری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/0409525686bffd8.jpg?r=134230" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/0409525686bffd8.jpg?r=134230"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
