<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:07:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:07:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی برآمدات میں مسلسل دسویں مہینے تنزلی، جون میں 19 فیصد گھٹ گئیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206982/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کی اشیا کی برآمدات مالی سال 23-2022 کے دوران سالانہ بنیادوں پر 12.71 فیصد کمی کے بعد 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران 31 ارب 78 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1762840/exports-shrink-19pc-in-june-record-10th-straight-drop"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; میں پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں مسلسل دسویں مہینے کمی ہوئی، جون میں سالانہ بنیادوں پر یہ 18.72 فیصد گر کر 2 ارب 36 کروڑ ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں اندرونی و بیرونی عوامل ہیں، جن کے سبب خاص طور پر ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے مالی سال 2023 میں برآمدات کا ہدف 32 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو 4 ارب 46 کروڑ کے بڑے فرق سے پورا نہ ہوسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پورے مالی سال کے دوران وزارت تجارت کے اندر برآمدات میں کمی کے اسباب کو حل کرنے اور برآمد کنندگان کی مدد کے لیے حل تجویز کرنے کے لیے کسی بھی بیان یا اجلاس کی واضح غیر موجودگی رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر تجارت کی بنیادی مصروفیات بیرون ملک دورے کرنے پر رہی جبکہ وہ گرتی ہوئی برآمدات کے حوالے سے عوامی سطح پر بیان دینے میں ناکام رہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون میں درآمدات بھی 46.80 فیصد گر کر 4 اب 18 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 7 ارب 85 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، مالی سال 2022 کے دوران 80.13 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2023 میں درآمدات 31 فیصد تنزلی کے بعد 55 ارب 29 کروڑ ڈالر رہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے پُرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات کو دسمبر 2022 سے روک دیا تھا اور صرف خام مالی، نیم فرنشڈ اشیا، ادویات، فوڈ اور توانائی کی مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے نتیجے میں درآمدی بل کم ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکومت نے اب درآمدات پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے یا اسے سست کرنے جیسے اقدامات نہیں کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ 9 مہینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے معاہدے سے قبل یہ پیشگی شرط تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 کے دوران تجارتی خسارہ 43.03 فیصد گھٹ کر 27 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کے دوران 48 ارب 35 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا تھا، سالانہ بنیادوں پر جون میں تجارتی خسارہ 63.32 فیصد تنزلی کے بعد ایک ارب 81 کروڑ ڈالر رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمدات میں منفی نمو مالی سال 2022 کے پہلے مہینے جولائی میں شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جو ملک کے بیرونی کھاتے میں توازن پیدا کرنے میں مسائل پیدا کرے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیکسٹائل اور کپڑے کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، اس میں کمی سے کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برآمد کنندگان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی کے فقدان اور مؤثر طریقے سے ترجیح دینے میں ناکامی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی آرہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں تنزلی کی بنیادی وجہ میں سرمائے کی قلت، ریفنڈز کا پھنسنا جیسا کے سیلز ٹیکس، مؤخر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ٹیکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کا فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک شامل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے ریفنڈ کا تیز تر نظام ارادے کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے، اب ریفنڈز میں 72 گھنٹے کے بجائے 3 سے 5 مہینے لگتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 کے دوران برآمد کنندگان کو خام مال درآمد کرنے اور اسے دیگر مقامی ذرائع سے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کی اشیا کی برآمدات مالی سال 23-2022 کے دوران سالانہ بنیادوں پر 12.71 فیصد کمی کے بعد 27 ارب 54 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران 31 ارب 78 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1762840/exports-shrink-19pc-in-june-record-10th-straight-drop"><strong>رپورٹ</strong></a> میں پاکستان ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق برآمدات میں مسلسل دسویں مہینے کمی ہوئی، جون میں سالانہ بنیادوں پر یہ 18.72 فیصد گر کر 2 ارب 36 کروڑ ڈالر رہیں۔</p>
<p>برآمدات میں کمی کی بنیادی وجوہات میں اندرونی و بیرونی عوامل ہیں، جن کے سبب خاص طور پر ٹیکسٹائل یونٹس کی بندش کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔</p>
<p>حکومت نے مالی سال 2023 میں برآمدات کا ہدف 32 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو 4 ارب 46 کروڑ کے بڑے فرق سے پورا نہ ہوسکا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205246"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پورے مالی سال کے دوران وزارت تجارت کے اندر برآمدات میں کمی کے اسباب کو حل کرنے اور برآمد کنندگان کی مدد کے لیے حل تجویز کرنے کے لیے کسی بھی بیان یا اجلاس کی واضح غیر موجودگی رہی۔</p>
<p>وزیر تجارت کی بنیادی مصروفیات بیرون ملک دورے کرنے پر رہی جبکہ وہ گرتی ہوئی برآمدات کے حوالے سے عوامی سطح پر بیان دینے میں ناکام رہے۔</p>
<p>جون میں درآمدات بھی 46.80 فیصد گر کر 4 اب 18 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ برس کے اسی مہینے میں 7 ارب 85 کروڑ ڈالر ریکارڈ کی گئی تھیں، مالی سال 2022 کے دوران 80.13 ارب ڈالر کے مقابلے میں 2023 میں درآمدات 31 فیصد تنزلی کے بعد 55 ارب 29 کروڑ ڈالر رہیں۔</p>
<p>حکومت نے پُرتعیش اور غیر ضروری اشیا کی درآمدات کو دسمبر 2022 سے روک دیا تھا اور صرف خام مالی، نیم فرنشڈ اشیا، ادویات، فوڈ اور توانائی کی مصنوعات کی درآمدات کی حوصلہ افزائی کی گئی، جس کے نتیجے میں درآمدی بل کم ہوا۔</p>
<p>حکومت نے اب درآمدات پر پابندیاں ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان لیٹر آف کریڈٹ (ایل سیز) کھولنے یا اسے سست کرنے جیسے اقدامات نہیں کرے گا، آئی ایم ایف کے ساتھ 9 مہینے کے لیے 3 ارب ڈالر کے اسٹینڈ بائی ارینجمنٹ کے معاہدے سے قبل یہ پیشگی شرط تھی۔</p>
<p>مالی سال 2023 کے دوران تجارتی خسارہ 43.03 فیصد گھٹ کر 27 ارب 54 کروڑ ڈالر ریکارڈ کیا گیا جو گزشتہ مالی سال کے دوران 48 ارب 35 کروڑ ڈالر تک پہنچ چکا تھا، سالانہ بنیادوں پر جون میں تجارتی خسارہ 63.32 فیصد تنزلی کے بعد ایک ارب 81 کروڑ ڈالر رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1202036"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>برآمدات میں منفی نمو مالی سال 2022 کے پہلے مہینے جولائی میں شروع ہوئی جبکہ اگست میں معمولی اضافہ دیکھا گیا تھا، برآمدات میں کمی ایک تشویشناک عنصر ہے، جو ملک کے بیرونی کھاتے میں توازن پیدا کرنے میں مسائل پیدا کرے گا۔</p>
<p>ٹیکسٹائل اور کپڑے کا ملکی برآمدات میں 60 فیصد سے زائد حصہ ہے، اس میں کمی سے کی وجہ سے مجموعی برآمدات میں کمی ہوئی۔</p>
<p>برآمد کنندگان نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی حکمت عملی کے فقدان اور مؤثر طریقے سے ترجیح دینے میں ناکامی کے باعث ٹیکسٹائل کی برآمدات میں کمی آرہی ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ برآمدات میں تنزلی کی بنیادی وجہ میں سرمائے کی قلت، ریفنڈز کا پھنسنا جیسا کے سیلز ٹیکس، مؤخر سیلز ٹیکس، انکم ٹیکس، مقامی ٹیکسز اور لیویز پر ڈیوٹی ڈرا بیک، ٹیکنالوجی کو اَپ گریڈ کرنے کا فنڈ اور ڈیوٹی ڈرا بیک شامل ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ بدقسمتی سے ریفنڈ کا تیز تر نظام ارادے کے مطابق کام نہیں کر رہا ہے، اب ریفنڈز میں 72 گھنٹے کے بجائے 3 سے 5 مہینے لگتے ہیں۔</p>
<p>مالی سال 2023 کے دوران برآمد کنندگان کو خام مال درآمد کرنے اور اسے دیگر مقامی ذرائع سے حاصل کرنے میں مشکلات پیش آئیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206982</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jul 2023 15:31:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/04115000b30d8c8.jpg?r=153130" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/04115000b30d8c8.jpg?r=153130"/>
        <media:title>حکومت نے مالی سال 2023 میں برآمدات کا ہدف 32 ارب ڈالر مقرر کیا تھا جو 4 ارب 46 کروڑ کے بڑے فرق سے پورا نہ ہوسکا — فائل فوٹو: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
