<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 15:22:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 15:22:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ترکیہ کا یونان پر تارکین وطن کی کشتیوں کو اپنے ساحلوں سے پیچھے دھکیلنے کا الزام</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206994/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ نے بحیرہ ایجیئن میں تین گنجائش سے زائد بھری ہوئی کشتیوں سے 95 تارکین وطن کو بچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یونان پر الزام لگایا کہ وہ کشتیوں کو اپنے ساحلوں سے ’پیچھے دھکیل‘ رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1762862/turkiye-accuses-greece-of-new-migrant-pushbacks"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق ترک وزارت داخلہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز یونانی جزیرے لیسبوس سے بالترتیب 37 اور 47 افراد کو لے جانے والی دو کشتیوں کو بچا لیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ اسی دن ترکیہ کی مغربی بندرگاہ سے متصل شہر ازمیر کے قریب ایک اور کشتی جس میں 11 افراد سوار تھے دیکھی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت نے تمام 95 افراد کو ’بے قاعدہ تارکین وطن‘ کے طور پر بیان کیا لیکن ان کے آبائی ممالک کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206853"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انقرہ اکثر یونان پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تارکین وطن کی کشتیوں کو ترکیہ کے پانیوں میں واپس دھکیلنے کا الزام لگاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب یونان کی جانب سے ترکیہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساحلوں سے نکلنے والے بے قاعدہ تارکین وطن کے حوالے سے آنکھیں بند کیے رکھتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ترکیہ کی جانب سے تازہ ترین الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب چند ہفتے قبل ہی سیکڑوں غیر قانونی تارکین وطن کو لے جانا والا &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawnnews.tv/news/1206402/"&gt;فشنگ ٹرالر الٹ گیا&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; تھا اور اس پر سوار افراد ڈوب گئے تھے، اس حادثے میں کم از کم 82 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یونانی کوسٹ گارڈز 104 افراد کو بچانے میں کامیاب ہوئے لیکن کچھ اندازوں کے مطابق جہاز میں سوار 560 کے قریب افراد ہلاک شدگان میں شامل ہو سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی ’فرونٹیکس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جب اس نے سانحے سے قبل یونانی حکام کو فضائی مدد کی پیشکش کی تھی تو ان کی جانب سے اسے ’کوئی جواب نہیں‘ ملا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ نے بحیرہ ایجیئن میں تین گنجائش سے زائد بھری ہوئی کشتیوں سے 95 تارکین وطن کو بچانے کا دعویٰ کرتے ہوئے یونان پر الزام لگایا کہ وہ کشتیوں کو اپنے ساحلوں سے ’پیچھے دھکیل‘ رہا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1762862/turkiye-accuses-greece-of-new-migrant-pushbacks">رپورٹ</a></strong> کے مطابق ترک وزارت داخلہ نے بتایا کہ ہفتے کے روز یونانی جزیرے لیسبوس سے بالترتیب 37 اور 47 افراد کو لے جانے والی دو کشتیوں کو بچا لیا گیا۔</p>
<p>وزارت داخلہ نے مزید کہا کہ اسی دن ترکیہ کی مغربی بندرگاہ سے متصل شہر ازمیر کے قریب ایک اور کشتی جس میں 11 افراد سوار تھے دیکھی گئی۔</p>
<p>وزارت نے تمام 95 افراد کو ’بے قاعدہ تارکین وطن‘ کے طور پر بیان کیا لیکن ان کے آبائی ممالک کے بارے میں کوئی تفصیلات فراہم نہیں کیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206853"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انقرہ اکثر یونان پر بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تارکین وطن کی کشتیوں کو ترکیہ کے پانیوں میں واپس دھکیلنے کا الزام لگاتا ہے۔</p>
<p>دوسری جانب یونان کی جانب سے ترکیہ پر الزام لگایا جاتا ہے کہ وہ اپنے ساحلوں سے نکلنے والے بے قاعدہ تارکین وطن کے حوالے سے آنکھیں بند کیے رکھتا ہے۔</p>
<p>ترکیہ کی جانب سے تازہ ترین الزامات اس وقت سامنے آئے ہیں جب چند ہفتے قبل ہی سیکڑوں غیر قانونی تارکین وطن کو لے جانا والا <strong><a href="https://www.dawnnews.tv/news/1206402/">فشنگ ٹرالر الٹ گیا</a></strong> تھا اور اس پر سوار افراد ڈوب گئے تھے، اس حادثے میں کم از کم 82 افراد کی ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی تھی۔</p>
<p>یونانی کوسٹ گارڈز 104 افراد کو بچانے میں کامیاب ہوئے لیکن کچھ اندازوں کے مطابق جہاز میں سوار 560 کے قریب افراد ہلاک شدگان میں شامل ہو سکتے ہیں۔</p>
<p>یورپی یونین کی سرحدی ایجنسی ’فرونٹیکس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ جب اس نے سانحے سے قبل یونانی حکام کو فضائی مدد کی پیشکش کی تھی تو ان کی جانب سے اسے ’کوئی جواب نہیں‘ ملا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206994</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jul 2023 16:51:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/04145106bc48453.jpg?r=165146" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/04145106bc48453.jpg?r=165146"/>
        <media:title>ترکیہ نے بحیرہ ایجیئن میں تین گنجائش سے زائد بھری ہوئی کشتیوں سے 95 تارکین وطن کو بچالیا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
