<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 22:09:05 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 22:09:05 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>افغانستان: طالبان کا ایک ماہ کے اندر خواتین کے بیوٹی سیلون بند کرنے کا حکم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1206995/</link>
      <description>&lt;p&gt;افغان طالبان نے ملک بھر میں ایک ماہ کے اندر خواتین کے بیوٹی سیلون بند کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق افغان خواتین کے عوامی مقامات میں جانے کی رسائی کو مزید کم کرنے کے لیے وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ملک بھر میں ایک ماہ کے اندر بیوٹی سیلون بند کرنے کا حکم دے دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان صادق عاکف نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین کے بیوٹی پارلرز بند کرنے کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175270"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ بیرونی قوتوں کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے سے خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی بیرونی حکومتیں اور اقوام متحدہ کے حکام مذمت کرتے رہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال افغان طالبان نے ملک میں بچیوں کے ہائی اسکول بند کرنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعات میں جانے پر پابندی عائد کرنے اور بڑی تعداد میں افغان خواتین کو امدادی گروپوں کے ساتھ کام کرنے سے روک دیا تھا جبکہ جم، پارکس اور پبلک باتھ ہاؤسز سمیت متعدد مقامات کو خواتین کے لیے بند کردیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ 2001 میں امریکا میں حملوں کے بعد افغانستان سے طالبان حکام کا تختہ الٹنے کے بعد کابل سمیت متعدد شہروں میں خواتین کی بیوٹی سیلون میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182446"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم دو سال قبل طالبان حکام کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد کافی بیوٹی سیلون کھلے رہے جہاں ان کے سائن بورڈ اور کھڑکیاں چھپا لی گئی تھیں اور کچھ خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین صارفین کو سروسز فراہم کی جارہی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے کہا ہے کہ خواتین پر عائد کی گئی پابندیاں طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے لیے ہونے والی ممکنہ پیش رفت میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغان اقدار اور اسلامی قوانین کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>افغان طالبان نے ملک بھر میں ایک ماہ کے اندر خواتین کے بیوٹی سیلون بند کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق افغان خواتین کے عوامی مقامات میں جانے کی رسائی کو مزید کم کرنے کے لیے وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر نے ملک بھر میں ایک ماہ کے اندر بیوٹی سیلون بند کرنے کا حکم دے دیا۔</p>
<p>وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے ترجمان صادق عاکف نے کہا کہ ملک بھر میں خواتین کے بیوٹی پارلرز بند کرنے کے لیے ایک مہینے کا وقت دیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1175270"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیال رہے کہ بیرونی قوتوں کے انخلا کے بعد اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے سے خواتین پر بڑھتی ہوئی پابندیوں کی بیرونی حکومتیں اور اقوام متحدہ کے حکام مذمت کرتے رہتے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ سال افغان طالبان نے ملک میں بچیوں کے ہائی اسکول بند کرنے کے ساتھ ساتھ لڑکیوں کے اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے جامعات میں جانے پر پابندی عائد کرنے اور بڑی تعداد میں افغان خواتین کو امدادی گروپوں کے ساتھ کام کرنے سے روک دیا تھا جبکہ جم، پارکس اور پبلک باتھ ہاؤسز سمیت متعدد مقامات کو خواتین کے لیے بند کردیا گیا تھا۔</p>
<p>واضح رہے کہ 2001 میں امریکا میں حملوں کے بعد افغانستان سے طالبان حکام کا تختہ الٹنے کے بعد کابل سمیت متعدد شہروں میں خواتین کی بیوٹی سیلون میں اضافہ ہوتا جا رہا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1182446"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم دو سال قبل طالبان حکام کے اقتدار میں واپس آنے کے بعد کافی بیوٹی سیلون کھلے رہے جہاں ان کے سائن بورڈ اور کھڑکیاں چھپا لی گئی تھیں اور کچھ خواتین کو ملازمتیں فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ خواتین صارفین کو سروسز فراہم کی جارہی تھیں۔</p>
<p>ادھر مغربی حکومتوں اور بین الاقوامی تنظیموں نے کہا ہے کہ خواتین پر عائد کی گئی پابندیاں طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کرنے کے لیے ہونے والی ممکنہ پیش رفت میں رکاوٹیں ڈال رہی ہیں۔</p>
<p>طالبان حکام کا کہنا ہے کہ وہ افغان اقدار اور اسلامی قوانین کے تحت خواتین کے حقوق کا احترام کرتے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1206995</guid>
      <pubDate>Tue, 04 Jul 2023 16:45:16 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/04145134692001a.jpg?r=164636" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/04145134692001a.jpg?r=164636"/>
        <media:title>— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
