<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 17:17:15 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 17:17:15 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نانگا پربت پر پھنسے پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی نے واپسی کا سفر شروع کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207037/</link>
      <description>&lt;p&gt;دنیا کی بلند ترین چوٹی نانگا پربت پر بھنسے پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی کا آذربائیجان کےکوہ پیما کی مدد سے نیچے اترنے کا سفر جاری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1763046"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق 3 جولائی کو پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی دنیا کی نویں بلند ترین 8 ہزار 126 میٹر بلند نانگا پربت میں خراب موسم کے باعث پھنس گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابتدائی اطلاعات کے مطابق آصف بھٹی نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش میں کیمپ فور پر سنو بلائینڈنیس کا شکار ہو چکے ہیں جس کے بعد ان کے لیے آنکھیں کھولنا ممکن نہیں رہا اور وہ کیمپ 4 میں پھنس گئے ہیں جو 7 ہزار 500 سے 8 ہزار میٹر بلندی پر ہے، انہیں مدد کی ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;45 سالہ آصف بھٹی نے وہاں سے نکلنے کے لیے بیس کیمپ کے کوہ پیماؤں سے مدد طلب کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206960"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ آذربائیجان کےکوہ پیما اسرافیل اشوری نے کیمپ فور  پر آصف بھٹی کی مدد کی اور وہ آہستہ آہستہ انہیں کیمپ تھری کی جانب لارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کیمپ 3 میں دو اطالوی کوہ پیما بھی موجود تھے جہاں آصف بھٹی رات قیام کریں گے اور آج (بدھ) صبح اپنی واپسی کا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے بتایا کہ آصف بھٹی کی حالت بہتر ہے اور ان کی صحت اچھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شمشال میں قراقر ایکسپڈیشن سے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ بھی آصف بھٹی کے ریسکیو مشن کے لیے تیاری کر رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تنظیم نے کہا تھا کہ وہ اس وقت انہیں دوسرے کیمپ میں منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اڑان نہ بھرسکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KarakoramClub/status/1676181765960941568"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے  گلگت بلتستان اور فوج کے حکام کو کوہ پیما آصف بھٹی کو فوری طور پر ریسکیو کرنے کی ہدایت بھی کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آصف بھٹی کے بیٹے کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنے والد کے جلد ریسکیو کی اپیل کے بعد وزیراعظم نے یہ ہدایات جاری کی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی تھیں کہ وہ آصف بھٹی کے بیٹے سے رابطہ کریں اور انہیں ان کے والد کے ریسکیو کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/KarakoramClub/status/1676227380862386176/photo/2"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں 3 جولائی کو  اسی مہم کے دوران دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنےکی کوشش میں پولش سیاح چل بسا تھا، پولش سیاح کی موت خطرناک اونچائی میں صحت کی خرابی کے باعث ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الپائن کلب آف پاکستان نے کہا تھا کہ پولش کوہ پیما پاول ٹوماسز کوپیک کی موت 7ہزار 400 میٹر کی بلندی پر ہوئی تھی، وہ 2 جولائی کو چوٹی سر کرنے کی کوشش کرنے والی 7 رکنی پولش ایکسپیڈیشن کا حصہ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیامر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق پاول ٹوماسز کوپیک کے ساتھی کوہ پیماوں نے پہاڑ پر چڑھائی جاری رکھی تھی تاہم  پولش ٹیم کی واپسی کے بعد لاش کو واپس واپس لانے کا منصوبہ بنایا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے کچھ روز قبل پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے سر کیا تھا، وہ نانگا پربت سر کرنے والی پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نائلہ کیانی کے علاوہ ثمینہ بیگ اور دیگر پاکستانی کوہ پیماؤں نے بھی نانگا پربت سر کیا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>دنیا کی بلند ترین چوٹی نانگا پربت پر بھنسے پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی کا آذربائیجان کےکوہ پیما کی مدد سے نیچے اترنے کا سفر جاری ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1763046">رپورٹ</a></strong> کے مطابق 3 جولائی کو پاکستانی کوہ پیما آصف بھٹی دنیا کی نویں بلند ترین 8 ہزار 126 میٹر بلند نانگا پربت میں خراب موسم کے باعث پھنس گئے تھے۔</p>
<p>ابتدائی اطلاعات کے مطابق آصف بھٹی نانگا پربت کو سر کرنے کی کوشش میں کیمپ فور پر سنو بلائینڈنیس کا شکار ہو چکے ہیں جس کے بعد ان کے لیے آنکھیں کھولنا ممکن نہیں رہا اور وہ کیمپ 4 میں پھنس گئے ہیں جو 7 ہزار 500 سے 8 ہزار میٹر بلندی پر ہے، انہیں مدد کی ضرورت تھی۔</p>
<p>45 سالہ آصف بھٹی نے وہاں سے نکلنے کے لیے بیس کیمپ کے کوہ پیماؤں سے مدد طلب کی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206960"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ آذربائیجان کےکوہ پیما اسرافیل اشوری نے کیمپ فور  پر آصف بھٹی کی مدد کی اور وہ آہستہ آہستہ انہیں کیمپ تھری کی جانب لارہے ہیں۔</p>
<p>کیمپ 3 میں دو اطالوی کوہ پیما بھی موجود تھے جہاں آصف بھٹی رات قیام کریں گے اور آج (بدھ) صبح اپنی واپسی کا سفر دوبارہ شروع کریں گے۔</p>
<p>ذرائع نے بتایا کہ آصف بھٹی کی حالت بہتر ہے اور ان کی صحت اچھی ہے۔</p>
<p>شمشال میں قراقر ایکسپڈیشن سے کوہ پیماؤں کا ایک گروپ بھی آصف بھٹی کے ریسکیو مشن کے لیے تیاری کر رہا تھا۔</p>
<p>تنظیم نے کہا تھا کہ وہ اس وقت انہیں دوسرے کیمپ میں منتقل کرنے کے لیے ہیلی کاپٹر کا انتظار کر رہے ہیں، تاہم خراب موسم کی وجہ سے ہیلی کاپٹر اڑان نہ بھرسکا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KarakoramClub/status/1676181765960941568"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>سرکاری خبر رساں ادارے اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ روز وزیراعظم شہباز شریف نے  گلگت بلتستان اور فوج کے حکام کو کوہ پیما آصف بھٹی کو فوری طور پر ریسکیو کرنے کی ہدایت بھی کی تھیں۔</p>
<p>آصف بھٹی کے بیٹے کی جانب سے سوشل میڈیا پر اپنے والد کے جلد ریسکیو کی اپیل کے بعد وزیراعظم نے یہ ہدایات جاری کی تھیں۔</p>
<p>وزیراعظم نے گلگت بلتستان کے چیف سیکرٹری کو ہدایت کی تھیں کہ وہ آصف بھٹی کے بیٹے سے رابطہ کریں اور انہیں ان کے والد کے ریسکیو کے لیے فوری اقدامات کی یقین دہانی کرائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/KarakoramClub/status/1676227380862386176/photo/2"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>قبل ازیں 3 جولائی کو  اسی مہم کے دوران دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی نانگا پربت سر کرنےکی کوشش میں پولش سیاح چل بسا تھا، پولش سیاح کی موت خطرناک اونچائی میں صحت کی خرابی کے باعث ہوئی تھی۔</p>
<p>الپائن کلب آف پاکستان نے کہا تھا کہ پولش کوہ پیما پاول ٹوماسز کوپیک کی موت 7ہزار 400 میٹر کی بلندی پر ہوئی تھی، وہ 2 جولائی کو چوٹی سر کرنے کی کوشش کرنے والی 7 رکنی پولش ایکسپیڈیشن کا حصہ تھے۔</p>
<p>دیامر کے ڈپٹی کمشنر کے مطابق پاول ٹوماسز کوپیک کے ساتھی کوہ پیماوں نے پہاڑ پر چڑھائی جاری رکھی تھی تاہم  پولش ٹیم کی واپسی کے بعد لاش کو واپس واپس لانے کا منصوبہ بنایا جائے گا۔</p>
<p>یاد رہے کہ نانگا پربت دنیا کی نویں بلند ترین چوٹی ہے جسے کچھ روز قبل پاکستان کی خاتون کوہ پیما نائلہ کیانی نے سر کیا تھا، وہ نانگا پربت سر کرنے والی پہلی پاکستانی کوہ پیما بن گئی ہیں۔</p>
<p>نائلہ کیانی کے علاوہ ثمینہ بیگ اور دیگر پاکستانی کوہ پیماؤں نے بھی نانگا پربت سر کیا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207037</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Jul 2023 10:27:34 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (جمیل نگری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/05095229f8a7ea4.jpg?r=100629" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/05095229f8a7ea4.jpg?r=100629"/>
        <media:title>فائل فوٹو: قراقرم کلب ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
