<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Wed, 13 May 2026 03:43:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Wed, 13 May 2026 03:43:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فرانس: صدر میکرون کا سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر پابندی کا عندیہ، مخالفین کا سخت ردعمل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207077/</link>
      <description>&lt;p&gt;فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر پابندی کا عندیہ دینے کے بعد ان کے مخالفین کی طرف سے شدید ردِعمل کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق میئرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے بارے میں سوچنا ہوگا، ہمیں ان پر پابندی عائد کرنی ہوگی، جب چیزیں قابو سے باہر ہوجائیں تو ہم شاید ان کو کنٹرول کرنے یا پابندی عائد کرنے کا سوچیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایمانوئل میکرون اور ان کے وزرا نے نشاندہی کی ہے کہ 27 جون کو ٹریفک اسٹاپ پر 17 سالہ نوجوان ناہیل ایم کے پولیس کی فائرنگ سے قتل کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی تصاویر اور ویڈیوز کو پھیلانے میں سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، ٹیلی گرام میسنجر کا بہت بڑا کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صدر نے کہا کہ جب سوشل میڈیا قتل کی منصوبہ بندی یا کوشش کرنے کا آلہ بن جائے تو یہ حقیقت میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گرینز رہنما میرین توندی لیئر نے نشریاتی ادارے فرناس انٹر کو بتایا کہ ’یہ تشویش ناک ہے کہ جب ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ سوشل نیٹورکس پر پابندی عائد کرنا ہی واحد حل ہے تو خود سے پوچھیں کہ آپ کس نکتہ پر پہنچے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/franceinter/status/1676469109834366979"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس کے دائیں اور بائیں بازو کے دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس تجویز پر سخت تنقید کی۔
کنزرویٹو پارلیمانی سربراہ اولیور مارلیکس نے بھی ٹوئٹر پر لکھا کہ چین، ایران یا شمالی کوریا کی طرح سوشل نیٹ ورک پر پابندی عائد کریں، یہاں تک کہ اگر یہ توجہ ہٹانے کے لیے اشتعال انگیزی ہے، تو یہ بہت برا عمل ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/oliviermarleix/status/1676285887129198602"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر  ایمانوئیل میکرون کے پارلیمانی ساتھیوں نے بھی آواز اٹھائی کہ سوشل نیٹ ورکس کو منقطع کرنے کا مطلب اس خیال سے دستبردار ہونا ہوگا کہ جمہوریت اس کے خلاف آنے والے آلات سے زیادہ مضبوط ہے، یہ ایک غلطی ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ڈیجیٹل ٹرانزیشن کے وزیر جین نائل بیروت نے کہا ہک سوشل میڈیا نیٹورکس پر پابندی عائد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کابینہ کے ترجمان اولیور ویران نے آج وزرا کی ملاقات کے بعد کہا کہ اس کے بجائے حکومت قانون سازوں کو اس بات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھا کرنا چاہتی ہے کہ موجودہ سوشل نیٹ ورک بل کو کس طرح بہتر کیا جائے جو کہ اس وقت زیر بحث ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کو بڑے پیمانے پر پرتشدد مظاہروں پر قابو پانے کے لیے سوشل میڈیا نیٹ ورکس پر پابندی کا عندیہ دینے کے بعد ان کے مخالفین کی طرف سے شدید ردِعمل کا سامنا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق میئرز کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ ہمیں سوشل میڈیا نیٹ ورکس کے بارے میں سوچنا ہوگا، ہمیں ان پر پابندی عائد کرنی ہوگی، جب چیزیں قابو سے باہر ہوجائیں تو ہم شاید ان کو کنٹرول کرنے یا پابندی عائد کرنے کا سوچیں گے۔</p>
<p>ایمانوئل میکرون اور ان کے وزرا نے نشاندہی کی ہے کہ 27 جون کو ٹریفک اسٹاپ پر 17 سالہ نوجوان ناہیل ایم کے پولیس کی فائرنگ سے قتل کے خلاف ملک بھر میں ہونے والے پرتشدد مظاہروں کی تصاویر اور ویڈیوز کو پھیلانے میں سنیپ چیٹ، ٹک ٹاک، ٹیلی گرام میسنجر کا بہت بڑا کردار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206943"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>صدر نے کہا کہ جب سوشل میڈیا قتل کی منصوبہ بندی یا کوشش کرنے کا آلہ بن جائے تو یہ حقیقت میں بہت بڑا مسئلہ ہے۔</p>
<p>گرینز رہنما میرین توندی لیئر نے نشریاتی ادارے فرناس انٹر کو بتایا کہ ’یہ تشویش ناک ہے کہ جب ہم اس نتیجے پر پہنچیں کہ سوشل نیٹورکس پر پابندی عائد کرنا ہی واحد حل ہے تو خود سے پوچھیں کہ آپ کس نکتہ پر پہنچے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/franceinter/status/1676469109834366979"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانس کے دائیں اور بائیں بازو کے دیگر اپوزیشن رہنماؤں نے بھی اس تجویز پر سخت تنقید کی۔
کنزرویٹو پارلیمانی سربراہ اولیور مارلیکس نے بھی ٹوئٹر پر لکھا کہ چین، ایران یا شمالی کوریا کی طرح سوشل نیٹ ورک پر پابندی عائد کریں، یہاں تک کہ اگر یہ توجہ ہٹانے کے لیے اشتعال انگیزی ہے، تو یہ بہت برا عمل ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/oliviermarleix/status/1676285887129198602"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ادھر  ایمانوئیل میکرون کے پارلیمانی ساتھیوں نے بھی آواز اٹھائی کہ سوشل نیٹ ورکس کو منقطع کرنے کا مطلب اس خیال سے دستبردار ہونا ہوگا کہ جمہوریت اس کے خلاف آنے والے آلات سے زیادہ مضبوط ہے، یہ ایک غلطی ہوگی۔</p>
<p>تاہم ڈیجیٹل ٹرانزیشن کے وزیر جین نائل بیروت نے کہا ہک سوشل میڈیا نیٹورکس پر پابندی عائد کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں آیا۔</p>
<p>کابینہ کے ترجمان اولیور ویران نے آج وزرا کی ملاقات کے بعد کہا کہ اس کے بجائے حکومت قانون سازوں کو اس بات پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے اکٹھا کرنا چاہتی ہے کہ موجودہ سوشل نیٹ ورک بل کو کس طرح بہتر کیا جائے جو کہ اس وقت زیر بحث ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207077</guid>
      <pubDate>Wed, 05 Jul 2023 20:57:02 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/05201143dd1b5e8.jpg?r=202419" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/05201143dd1b5e8.jpg?r=202419"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
