<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:42:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:42:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: مسلمان شخص کو تشدد کر کے قتل کرنے والے مجرموں کو 10، 10 سال قید کی سزا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207115/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی ایک عدالت نے مسلمان شہری کو تشدد کر کے قتل کرنے کے جرم میں 10 افراد میں سے ہر ایک کو 10 سال قید کی سزا سنائی، جسے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ اور ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1763139/10-indians-sentenced-to-10-years-for-lynching-muslim-man-in-2019"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق سال 2019 میں مقتول تبریز انصاری کو ایک کھمبے سے باندھ کر 12 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس دوران وہ روتا ہوا اس ہجوم سے فریاد کرتا رہا جس نے اس پر چوری کا الزام عائد کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس واقعے کی ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اس میں دیکھا گیا تھا کہ 24 سالہ نوجوان کو ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا تھا، یہ نعرہ سخت گیر ہندو استعمال کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعد ازاں پولیس نے تبریز انصاری کو تشویش ناک حالت میں چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا اور اسے کچھ روز بعد ہسپتال پہنچایا جہاں وہ دورانِ حراست دم توڑ گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1105809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوامی سطح پر احتجاج کے بعد پولیس نے 12 ہندو مردوں کو گرفتار کیا تھا جن میں سے 2 کو بعد میں عدم ثبوت وجہ سے بری کر دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقیہ 10 افراد کو گزشتہ ہفتے مجرمانہ قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی جو کہ قتل کے برابر نہیں ہوتا، ان میں سے ہر ایک مجرم کو 10 سال قید کی سزا دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تبریز انصاری کی بیوہ شائستہ پروین نے پولیس پر اپنے شوہر کے قتل میں مدد کرنے کا الزام لگایا تھا، انہوں نے کہا کہ وہ سزا میں اضافے کی اپیل کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں عدالتی حکم کا احترام کرتی ہوں لیکن میں اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوں، ہم انصاف کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1110423"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی، جنہیں مذہبی تشدد کے خلاف بات نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نے اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ انہیں تبریز انصاری کے قتل سے ’تکلیف‘ پہنچی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت پر اقلیتی مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب آنکھیں بند کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ 2014 میں برسرِ اقتدار آنے والی نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تحت ہندو ہجوم کو حوصلہ ملا ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی ایک عدالت نے مسلمان شہری کو تشدد کر کے قتل کرنے کے جرم میں 10 افراد میں سے ہر ایک کو 10 سال قید کی سزا سنائی، جسے تشدد کا نشانہ بنانے کے ساتھ اور ہندو مذہبی نعرے لگانے پر مجبور کیا گیا تھا۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1763139/10-indians-sentenced-to-10-years-for-lynching-muslim-man-in-2019">رپورٹ</a></strong> کے مطابق سال 2019 میں مقتول تبریز انصاری کو ایک کھمبے سے باندھ کر 12 گھنٹے تک تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا، اس دوران وہ روتا ہوا اس ہجوم سے فریاد کرتا رہا جس نے اس پر چوری کا الزام عائد کیا تھا۔</p>
<p>اس واقعے کی ایک ویڈیو جو سوشل میڈیا پر وائرل ہوئی تھی اس میں دیکھا گیا تھا کہ 24 سالہ نوجوان کو ’جے شری رام‘ کے نعرے لگانے پر مجبور کیا جارہا تھا، یہ نعرہ سخت گیر ہندو استعمال کرتے ہیں۔</p>
<p>بعد ازاں پولیس نے تبریز انصاری کو تشویش ناک حالت میں چوری کے الزام میں گرفتار کرلیا تھا اور اسے کچھ روز بعد ہسپتال پہنچایا جہاں وہ دورانِ حراست دم توڑ گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1105809"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>عوامی سطح پر احتجاج کے بعد پولیس نے 12 ہندو مردوں کو گرفتار کیا تھا جن میں سے 2 کو بعد میں عدم ثبوت وجہ سے بری کر دیا گیا تھا۔</p>
<p>بقیہ 10 افراد کو گزشتہ ہفتے مجرمانہ قتل کے جرم میں سزا سنائی گئی تھی جو کہ قتل کے برابر نہیں ہوتا، ان میں سے ہر ایک مجرم کو 10 سال قید کی سزا دی گئی۔</p>
<p>تبریز انصاری کی بیوہ شائستہ پروین نے پولیس پر اپنے شوہر کے قتل میں مدد کرنے کا الزام لگایا تھا، انہوں نے کہا کہ وہ سزا میں اضافے کی اپیل کریں گی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ’میں عدالتی حکم کا احترام کرتی ہوں لیکن میں اس سے پوری طرح مطمئن نہیں ہوں، ہم انصاف کے لیے اعلیٰ عدالتوں سے رجوع کریں گے‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1110423"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی، جنہیں مذہبی تشدد کے خلاف بات نہ کرنے پر تنقید کا نشانہ بنایا جاتا ہے، نے اس واقعے کے بعد کہا تھا کہ انہیں تبریز انصاری کے قتل سے ’تکلیف‘ پہنچی۔</p>
<p>نریندر مودی کی ہندو قوم پرست حکومت پر اقلیتی مسلمانوں پر ہونے والے حملوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی جانب آنکھیں بند کرنے کا الزام لگایا جاتا ہے۔</p>
<p>انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا کہنا ہے کہ 2014 میں برسرِ اقتدار آنے والی نریندر مودی کی بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے تحت ہندو ہجوم کو حوصلہ ملا ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207115</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Jul 2023 14:03:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/06122217bb02b8a.jpg?r=140219" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/06122217bb02b8a.jpg?r=140219"/>
        <media:title>عوامی سطح پر احتجاج کے بعد پولیس نے 12 ہندو مردوں کو گرفتار کیا تھا — فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
