<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 06:16:31 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 06:16:31 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>حادثے کی شکار آبدوز کی کمپنی نے اپنی مہم معطل کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207160/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹائینک کا ملبہ دیکھنے کی مہم کے دوران حادثے کا شکار ہونے والے آبدوز کی کمپنی نے کہا ہے کہ اس نے اپنی تمام مہمات غیرمعینہ مدت تک معطل کردی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;امریکی کمپنی اوشین گیٹ نے اپنی ویب سائٹ میں کہا کہ اس نے اپنی تمام مہمات کا عمل اور کمرشل آپریشنز معطل کردیے ہیں جبکہ دو ہفتے قبل ہی آبدوز کے حادثے میں دو پاکستانیوں سمیت کمپنی کے سی ای او اسٹاکٹن رش اور دیگر ہلاک ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 18 جون کو ٹائی ٹینک کا صدی پرانا ملبہ دیکھنے کے لیے بحرِ اوقیانوس میں سفر کے دوران ٹائٹن آبدوز زیرآب لاپتا ہوگئی تھی اور 22 جون کو امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا تھا کہ آبدوز دباؤ کے باعث پھٹ گئی تھی جس کے نتیجے میں 2 پاکستانیوں سمیت اس میں سوار پانچوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آبدوز پر اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین شہزادہ داؤد اور ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی مہم جو ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی آبدوز کے ماہر پال ہنری نارجیولٹ اور اوشین گیٹ ایکسپیڈیشنز کے امریکی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹاکٹن رش سوار تھے جنہوں نے ٹائٹینک کا سفر کرنے کے لیے آبدوز دی اور فی کس ڈھائی لاکھ ڈالر وصول کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206799"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرین نے گزشتہ ہفتے حادثے کی شکار آبدوز کا ملبہ برآمد کرلیا تھا اور  نیو فاؤنڈ لینڈ میں سینٹ جان بندرگاہ پر ہورائزن آرکٹک جہاز سے ایک کرین کے ذریعے سفید شیٹ میں لپٹے ہوئے ٹائٹن آبدوز کے برآمد شدہ ٹکڑوں کو اتارا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جس کے ساتھ ہی ملبے کی تلاش کے لیے جاری ایک طویل اور کٹھن آپریشن بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اوشین گیٹ ایکسپیڈیشن کی جانب سے چلائی جانے والی گہرے سمندر کی آبدوز کے ٹکڑے ایک روبوٹک ڈائیونگ گاڑی کے ذریعے ٹائی ٹینک سے تقریباً 488 میٹر کے فاصلے پر سمندری تہہ میں دریافت کیے گئے تھے، ملبہ ملنے کے ساتھ ہی ٹائٹن میں سوار افراد کی تلاش کے لیے جاری 5 روزہ آپریشن ختم ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی مہم کا حصہ بننے والی افراد سے فی کس ڈھائی لاکھ ڈالروصول کرتی تھی لیکن مہم کے محفوظ ہونے سے متعلق ماضی کے خدشات اس حادثے کے بعد زیادہ واضح ہوگئے تھے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹائینک کا ملبہ دیکھنے کی مہم کے دوران حادثے کا شکار ہونے والے آبدوز کی کمپنی نے کہا ہے کہ اس نے اپنی تمام مہمات غیرمعینہ مدت تک معطل کردی ہیں۔</p>
<p>امریکی کمپنی اوشین گیٹ نے اپنی ویب سائٹ میں کہا کہ اس نے اپنی تمام مہمات کا عمل اور کمرشل آپریشنز معطل کردیے ہیں جبکہ دو ہفتے قبل ہی آبدوز کے حادثے میں دو پاکستانیوں سمیت کمپنی کے سی ای او اسٹاکٹن رش اور دیگر ہلاک ہوگئے تھے۔</p>
<p>خیال رہے کہ 18 جون کو ٹائی ٹینک کا صدی پرانا ملبہ دیکھنے کے لیے بحرِ اوقیانوس میں سفر کے دوران ٹائٹن آبدوز زیرآب لاپتا ہوگئی تھی اور 22 جون کو امریکی کوسٹ گارڈ نے کہا تھا کہ آبدوز دباؤ کے باعث پھٹ گئی تھی جس کے نتیجے میں 2 پاکستانیوں سمیت اس میں سوار پانچوں افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے تھے۔</p>
<p>آبدوز پر اینگرو کارپوریشن کے وائس چیئرمین شہزادہ داؤد اور ان کا 19 سالہ بیٹا سلیمان، برطانوی مہم جو ہمیش ہارڈنگ، فرانسیسی آبدوز کے ماہر پال ہنری نارجیولٹ اور اوشین گیٹ ایکسپیڈیشنز کے امریکی بانی اور چیف ایگزیکٹو آفیسر اسٹاکٹن رش سوار تھے جنہوں نے ٹائٹینک کا سفر کرنے کے لیے آبدوز دی اور فی کس ڈھائی لاکھ ڈالر وصول کیے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206799"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرین نے گزشتہ ہفتے حادثے کی شکار آبدوز کا ملبہ برآمد کرلیا تھا اور  نیو فاؤنڈ لینڈ میں سینٹ جان بندرگاہ پر ہورائزن آرکٹک جہاز سے ایک کرین کے ذریعے سفید شیٹ میں لپٹے ہوئے ٹائٹن آبدوز کے برآمد شدہ ٹکڑوں کو اتارا گیا تھا۔</p>
<p>جس کے ساتھ ہی ملبے کی تلاش کے لیے جاری ایک طویل اور کٹھن آپریشن بالآخر اپنے انجام کو پہنچا۔</p>
<p>اوشین گیٹ ایکسپیڈیشن کی جانب سے چلائی جانے والی گہرے سمندر کی آبدوز کے ٹکڑے ایک روبوٹک ڈائیونگ گاڑی کے ذریعے ٹائی ٹینک سے تقریباً 488 میٹر کے فاصلے پر سمندری تہہ میں دریافت کیے گئے تھے، ملبہ ملنے کے ساتھ ہی ٹائٹن میں سوار افراد کی تلاش کے لیے جاری 5 روزہ آپریشن ختم ہوا تھا۔</p>
<p>کمپنی مہم کا حصہ بننے والی افراد سے فی کس ڈھائی لاکھ ڈالروصول کرتی تھی لیکن مہم کے محفوظ ہونے سے متعلق ماضی کے خدشات اس حادثے کے بعد زیادہ واضح ہوگئے تھے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207160</guid>
      <pubDate>Thu, 06 Jul 2023 23:54:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/062353125116912.jpg?r=235423" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/062353125116912.jpg?r=235423"/>
        <media:title>—فقائل/فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
