<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 19:51:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 19:51:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین کا پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع پر غور</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207295/</link>
      <description>&lt;p&gt;یورپی یونین  پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع پر غور  کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1763743/eu-considers-extending-pakistans-gsp-status"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق رواں سال کے آخر میں ختم ہونے والے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں مزید چار سال کے لیے توسیع کی تجویز  ہنگامی صورتحال کے اقدام کے طور پر  پیش کی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین  نے اسکیم کو مزید 10 برس تک جاری رکھنے کے لیے نئی قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ  اس معاملے پر یورپی یونین  یورپی یونین کونسل اور  پارلیمنٹ کے درمیان تعطل موجود ہے،  یورپی یونین  کونسل   پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی توسیع کے معاملے کو   مہاجرین کے معاملے سے جوڑنا چاہتی ہے جب کہ
یورپی یونین پارلیمنٹ ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کا دورہ کرنے والی یورپی یونین کی رہنما نے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا  یورپی یونین  پارلیمنٹ کا پختہ یقین ہے کہ تجارت کو ہجرت کے مسئلے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عارضی اقدام کے طور پر یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ موجودہ اسکیم کی مدت میں چار برس کی توسیع کردی جائے،  اس تجویز کو اب یورپی یونین پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا، یورپی عہدیدار کے مطابق مجوزہ اسکیم میں ضرور توسیع کردی جائے گی لیکن اس کی مدت کا فیصلہ قانون ساز کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1013715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے کہا کہ آئندہ دہائی کے دوران،  جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ ممالک نئی قانون سازی کے تحت اس درجے کے حصول کے لیے اہل ہی نہ ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بارہا کہا گیا ہے کہ اس اسکیم کو حاصل کرنے کے خواہاں تمام ممالک کے لیے یکساں شرائط و ضوابط ہوں گے  اور اس معاملے میں کوئی ’پک اینڈ چوز‘ نہیں ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت اسکیم کے خواہش مند ممالک کو یورپی یونین کی منڈیوں تک سامان کی ڈیوٹی فری رسائی کی اہلیت کے لیے اس کے مقرر کردہ 30 سے زائد کنونشنز پر عمل درآمد کا لائحہ عمل پیش کرنا ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے ایک بیان میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کی سفیر نے کہا کہ وہ پاکستان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایک اور یورپی عہدیدار نے یہ بھی  کہا کہ نئی شرائط پاکستان کے لیے چیلنجنگ ثابت ہو سکتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/HamidMirPAK/status/1677074366398361601"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>یورپی یونین  پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں توسیع پر غور  کر رہا ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1763743/eu-considers-extending-pakistans-gsp-status">رپورٹ</a></strong> کے مطابق رواں سال کے آخر میں ختم ہونے والے پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس میں مزید چار سال کے لیے توسیع کی تجویز  ہنگامی صورتحال کے اقدام کے طور پر  پیش کی گئی ہے۔</p>
<p>یورپی یونین  نے اسکیم کو مزید 10 برس تک جاری رکھنے کے لیے نئی قانون سازی کرنے کا فیصلہ کیا ہے لیکن ایسا لگتا ہے کہ  اس معاملے پر یورپی یونین  یورپی یونین کونسل اور  پارلیمنٹ کے درمیان تعطل موجود ہے،  یورپی یونین  کونسل   پاکستان کے جی ایس پی پلس اسٹیٹس کی توسیع کے معاملے کو   مہاجرین کے معاملے سے جوڑنا چاہتی ہے جب کہ
یورپی یونین پارلیمنٹ ایسا کرنے کو تیار نہیں ہے۔</p>
<p>پاکستان کا دورہ کرنے والی یورپی یونین کی رہنما نے پاکستانی صحافیوں کے ساتھ بات چیت کے دوران کہا  یورپی یونین  پارلیمنٹ کا پختہ یقین ہے کہ تجارت کو ہجرت کے مسئلے سے نہیں جوڑا جانا چاہیے۔</p>
<p>عارضی اقدام کے طور پر یہ تجویز پیش کی گئی ہے کہ موجودہ اسکیم کی مدت میں چار برس کی توسیع کردی جائے،  اس تجویز کو اب یورپی یونین پارلیمنٹ میں ووٹنگ کے لیے پیش کیا جائے گا، یورپی عہدیدار کے مطابق مجوزہ اسکیم میں ضرور توسیع کردی جائے گی لیکن اس کی مدت کا فیصلہ قانون ساز کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/3  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1013715"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>تاہم یورپی یونین کے ایک عہدیدار نے کہا کہ آئندہ دہائی کے دوران،  جی ایس پی پلس اسٹیٹس حاصل کرنا بہت مشکل ہوگا اور ہو سکتا ہے کہ کچھ ممالک نئی قانون سازی کے تحت اس درجے کے حصول کے لیے اہل ہی نہ ہوں۔</p>
<p>یہ بارہا کہا گیا ہے کہ اس اسکیم کو حاصل کرنے کے خواہاں تمام ممالک کے لیے یکساں شرائط و ضوابط ہوں گے  اور اس معاملے میں کوئی ’پک اینڈ چوز‘ نہیں ہوگا۔
نئی پالیسی کے تحت اسکیم کے خواہش مند ممالک کو یورپی یونین کی منڈیوں تک سامان کی ڈیوٹی فری رسائی کی اہلیت کے لیے اس کے مقرر کردہ 30 سے زائد کنونشنز پر عمل درآمد کا لائحہ عمل پیش کرنا ہوگا۔</p>
<p>اپنے ایک بیان میں پاکستان میں تعینات یورپی یونین کی سفیر نے کہا کہ وہ پاکستان پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں، ایک اور یورپی عہدیدار نے یہ بھی  کہا کہ نئی شرائط پاکستان کے لیے چیلنجنگ ثابت ہو سکتی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/HamidMirPAK/status/1677074366398361601"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207295</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Jul 2023 09:19:20 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/09091057dc3ca60.jpg?r=092649" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/09091057dc3ca60.jpg?r=092649"/>
        <media:title>رواں سال کے آخر میں ختم ہونے والے پاکستان کے اسٹیٹس میں مزید 4 سالہ توسیع کی تجویز  ہنگامی اقدام کے طور پر  پیش کی گئی ہے—فائل فوٹو:رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
