<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 18:37:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 18:37:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیل کے بعد روس سے درآمد شدہ مزید اشیا پاکستان پہنچنے لگیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207297/</link>
      <description>&lt;p&gt;ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹ (ٹی آئی آر) معاہدے کے تحت روس سے دالوں اور دیگر سامان سے لدے کم از کم دو کارگو کنٹینرز جمعہ کو رات دیر گئے طورخم بارڈر پر پہنچے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1763726/after-oil-more-goods-start-arriving-from-russia"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق حکام نے بتایا کہ اپنی نوعیت کی یہ پہلی کھیپ ٹی آئی آر کے دوطرفہ تجارتی معاہدے کا حصہ ہے جس پر رواں سال مارچ میں وفاقی وزیر برائے مواصلات اسعد محمود کے ماسکو دورے کے دوران روس کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط اور پہلی کھیپ کی آمد کے بعد اب دونوں ممالک باضابطہ طور پر باہمی تجارت کے ذریعے منسلک ہو گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ طورخم پر کسٹم حکام کی جانب سے کلیئرنس دینے کے بعد دونوں گاڑیوں کو پاکستان میں ان کی منزل کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205214"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نائب صدر ظہیر اللہ نے کہا کہ ملک کو موجودہ مالیاتی دلدل سے نکالنے کے لیے روس کے ساتھ تجارت ضروری ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ درآمدی پالیسیوں میں نرمی کرے اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے قابل عمل اور عملی ایس آر اوز (قانونی ریگولیٹری آرڈرز) وضع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کسٹمز حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے سامان کے ساتھ چاول، ادویات، تازہ پھل اور سبزیاں برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ وہ روس سے ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل مشینری بھی درآمد کر سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;h3&gt;&lt;a id="ایل-پی-جی-ٹینکرز" href="#ایل-پی-جی-ٹینکرز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;ایل پی جی ٹینکرز&lt;/h3&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب ازبکستان سے درآمد شدہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے کر آنے والے کم از کم 50 ٹینکرز کو الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) نہ ہونے کی وجہ سے طورخم بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ ٹینکرز گزشتہ ایک ماہ سے جلال آباد کے قریب سرحد کے افغان حصے میں پھنسے ہوئے ہیں، تمام 50 ٹینکرز سرحد پر داخلےکی اجازت نہ ملنے کے بعد جلال آباد واپس لوٹ گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں کسٹم حکام نے 13 جون کو تاتارا انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ای آئی ایف فراہم کرنے سے ایک بار کی چھوٹ دی تھی، جو طورخم پہنچنے کے بعد کم از کم 15 ایسے ٹینکرز کی درآمد کنندہ تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے کہا کہ ای آئی ایف کنسائنمنٹ کے برآمد کنندہ کو ادائیگی اور بعد میں کسٹم کلیئرنس کے وقت سامان کے اعلان فارم کا اجرا کی بنیادی شرط ہوتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاتارا انٹرپرائزز نے رواں سال کے اوائل میں ازبکستان کے ساتھ60 ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا کیونکہ سستی قیمت کی وجہ سے مقامی مارکیٹوں میں اس کی اشد ضرورت تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205842"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بقیہ ایل پی جی ٹینکرز کو کلیئر کرنے کے ذمہ دار کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ مجیب اللہ شنواری نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے پشاور میں کسٹم حکام کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں وزارت تجارت اور پیٹرولیم کے حکام کے ساتھ طویل بات چیت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان حکام نے ای آئی ایف کے حصول پر اصرار کیا جبکہ مستقبل میں بارٹر ٹریڈ کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرنے کا آپشن بھی پیش کیا، جسے حال ہی میں وفاقی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی فی الحال باقی تمام ٹینکرز کو کلیئر کرنے کے لیے ای آئی ایف کی خریداری کے عمل میں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان ٹینکرز کو فوری کلیئر کرنے کی ضرورت ایل پی جی کی انتہائی آتش گیر نوعیت کی وجہ سے پیدا ہوئی، جس کو طویل مدت تک رکھنے کی صورت میں خطرہ لاحق تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ٹرانسپورٹ انٹرنیشنل روٹ (ٹی آئی آر) معاہدے کے تحت روس سے دالوں اور دیگر سامان سے لدے کم از کم دو کارگو کنٹینرز جمعہ کو رات دیر گئے طورخم بارڈر پر پہنچے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1763726/after-oil-more-goods-start-arriving-from-russia">رپورٹ</a></strong> کے مطابق حکام نے بتایا کہ اپنی نوعیت کی یہ پہلی کھیپ ٹی آئی آر کے دوطرفہ تجارتی معاہدے کا حصہ ہے جس پر رواں سال مارچ میں وفاقی وزیر برائے مواصلات اسعد محمود کے ماسکو دورے کے دوران روس کے ساتھ دستخط کیے گئے تھے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ معاہدے پر دستخط اور پہلی کھیپ کی آمد کے بعد اب دونوں ممالک باضابطہ طور پر باہمی تجارت کے ذریعے منسلک ہو گئے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ طورخم پر کسٹم حکام کی جانب سے کلیئرنس دینے کے بعد دونوں گاڑیوں کو پاکستان میں ان کی منزل کی طرف جانے کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205214"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>خیبر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹریز کے نائب صدر ظہیر اللہ نے کہا کہ ملک کو موجودہ مالیاتی دلدل سے نکالنے کے لیے روس کے ساتھ تجارت ضروری ہے۔</p>
<p>انہوں نے وفاقی حکومت پر زور دیا کہ وہ درآمدی پالیسیوں میں نرمی کرے اور دوطرفہ تجارت کے فروغ کے لیے قابل عمل اور عملی ایس آر اوز (قانونی ریگولیٹری آرڈرز) وضع کرے۔</p>
<p>کسٹمز حکام کا کہنا تھا کہ پاکستان کھیلوں کے سامان کے ساتھ چاول، ادویات، تازہ پھل اور سبزیاں برآمد کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے جبکہ وہ روس سے ٹیکسٹائل اور ٹیکسٹائل مشینری بھی درآمد کر سکتا ہے۔</p>
<h3><a id="ایل-پی-جی-ٹینکرز" href="#ایل-پی-جی-ٹینکرز" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>ایل پی جی ٹینکرز</h3>
<p>دوسری جانب ازبکستان سے درآمد شدہ مائع پیٹرولیم گیس (ایل پی جی) لے کر آنے والے کم از کم 50 ٹینکرز کو الیکٹرانک امپورٹ فارم (ای آئی ایف) نہ ہونے کی وجہ سے طورخم بارڈر کے راستے پاکستان میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کردیا گیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1203662"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ ٹینکرز گزشتہ ایک ماہ سے جلال آباد کے قریب سرحد کے افغان حصے میں پھنسے ہوئے ہیں، تمام 50 ٹینکرز سرحد پر داخلےکی اجازت نہ ملنے کے بعد جلال آباد واپس لوٹ گئے۔</p>
<p>قبل ازیں کسٹم حکام نے 13 جون کو تاتارا انٹرپرائزز پرائیویٹ لمیٹڈ کو ای آئی ایف فراہم کرنے سے ایک بار کی چھوٹ دی تھی، جو طورخم پہنچنے کے بعد کم از کم 15 ایسے ٹینکرز کی درآمد کنندہ تھی۔</p>
<p>حکام نے کہا کہ ای آئی ایف کنسائنمنٹ کے برآمد کنندہ کو ادائیگی اور بعد میں کسٹم کلیئرنس کے وقت سامان کے اعلان فارم کا اجرا کی بنیادی شرط ہوتی ہے۔</p>
<p>تاتارا انٹرپرائزز نے رواں سال کے اوائل میں ازبکستان کے ساتھ60 ہزار ٹن ایل پی جی درآمد کرنے کا معاہدہ کیا تھا کیونکہ سستی قیمت کی وجہ سے مقامی مارکیٹوں میں اس کی اشد ضرورت تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205842"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بقیہ ایل پی جی ٹینکرز کو کلیئر کرنے کے ذمہ دار کسٹم کلیئرنگ ایجنٹ مجیب اللہ شنواری نے ڈان کو بتایا کہ انہوں نے پشاور میں کسٹم حکام کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں وزارت تجارت اور پیٹرولیم کے حکام کے ساتھ طویل بات چیت کی۔</p>
<p>ان حکام نے ای آئی ایف کے حصول پر اصرار کیا جبکہ مستقبل میں بارٹر ٹریڈ کے ذریعے ایل پی جی درآمد کرنے کا آپشن بھی پیش کیا، جسے حال ہی میں وفاقی حکومت نے متعارف کرایا تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ ان کی کمپنی فی الحال باقی تمام ٹینکرز کو کلیئر کرنے کے لیے ای آئی ایف کی خریداری کے عمل میں ہے۔</p>
<p>ان ٹینکرز کو فوری کلیئر کرنے کی ضرورت ایل پی جی کی انتہائی آتش گیر نوعیت کی وجہ سے پیدا ہوئی، جس کو طویل مدت تک رکھنے کی صورت میں خطرہ لاحق تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207297</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Jul 2023 13:30:37 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ابراہیم شینواری)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/0909533345ad170.jpg?r=133100" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/0909533345ad170.jpg?r=133100"/>
        <media:title>کنٹینرز روس سے درآمدی اشیا لے کر جمعہ کو طورخم بارڈر پہنچے تھے — تصویر: ڈان
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
