<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:52:27 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:52:27 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>تیونس میں کشتی ڈوبنے سے ایک تارک وطن ہلاک، 10 لاپتا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207319/</link>
      <description>&lt;p&gt;تیونس سے تعلق رکھنے والے 10 تارکین وطن بحیرہ روم کے قریب کشتی الٹنے سے لاپتا ہوگئے ہیں جبکہ مذکورہ واقعے میں ایک شخص ہلاک بھی ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک عدالتی اہلکار نے بتایا کہ اٹلی جانے والے کم از کم 10 تیونس تارکین وطن بحیرہ روم عبور کرتے وقت کشتی الٹنے سے لاپتا ہوگئے جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ تیونس کو نقل مکانی کے بحران کا سامنا ہے اور افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں غربت اور تنازعات کے پیش نظر وہاں سے بھاگ کر یورپ میں بہتر زندگی کی آس میں اکثر لوگ لیبیا سے یورپ اور امریکا کے مختلف ملکوں میں نقل مکانی کی کوشش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اعداد و شمار کے مطابق حالیہ سانحے کے بعد 2023 کی پہلی ششماہی سے اب تک لیبیا سے سمندر کے راستے بیرون ملک جانے کی کوشش میں ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی تعداد 600 سے زیادہ ہوگئی ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سفیکس شہر کے ایک جج فوزی مسمودی نے بتایا کہ تیونس کے ساحلی محافظوں نے 11 افراد کو کشتی سے بچا لیا جو ساحل سے زرزس شہر کے قریب روانہ ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انسانی حقوق کے گروپ تیونس کے فورم برائے اقتصادی اور سماجی حقوق نے کہا کہ کشتی ڈوبنے سے ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی تعداد 608 تک پہنچ گئی ہے اور کوسٹ گارڈ نے تیونس کے ساحلوں سے تقریباً 33 ہزار افراد کی کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر تیونس پر یورپی ممالک کا دباؤ ہے کہ وہ اپنے ساحلوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی روانگی کو روکے لیکن صدر قیس سعید نے کہا ہے کہ وہ سرحدی محافظ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تیونس میں بہت سے سیاہ فام تارکین وطن نسل پرستانہ تشدد کے سبب بے گھر ہو گئے ہیں جہاں اس سال کے اوائل میں صدر قیس سعید نے ان پر جارحانہ کارروائیاں میں تیز کرتے ہوئے ملک کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی ’مجرمانہ سازش‘ کا الزام لگایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیبیا افریقہ کے دیگر علاقوں سے تقریباً 21 ہزار غیرقانونی تارکین وطن کی میزبانی کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بچوں اور حاملہ خواتین سمیت سیکڑوں کو سردی میں بے گھر کر دیا گیا جہاں بہت سے تارکین وطن نے اپنے سفارت خانوں میں وطن واپسی کے لیے اندراج کرایا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دیگر لوگوں نے غیر محفوظ کشتیوں میں سوار ہو کر تیونس سے 130 کلومیٹر فاصلے پر واقع یورپیئن ساحل تک پہنچنے کی کوشش کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روم نے فروری میں کہا تھا کہ 32 ہزار سے زیادہ تارکین وطن جن میں تیونس کے 18 ہزار باشندے شامل ہیں، وہ تیونس سے گزشتہ سال اٹلی پہنچے تھے جبکہ مزید ہزاروں افراد ہمسایہ ملک لیبیا سے روانہ ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>تیونس سے تعلق رکھنے والے 10 تارکین وطن بحیرہ روم کے قریب کشتی الٹنے سے لاپتا ہوگئے ہیں جبکہ مذکورہ واقعے میں ایک شخص ہلاک بھی ہو گیا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ اور ’رائٹرز‘ کے مطابق ایک عدالتی اہلکار نے بتایا کہ اٹلی جانے والے کم از کم 10 تیونس تارکین وطن بحیرہ روم عبور کرتے وقت کشتی الٹنے سے لاپتا ہوگئے جبکہ ایک شخص ہلاک ہو گیا۔</p>
<p>خیال رہے کہ تیونس کو نقل مکانی کے بحران کا سامنا ہے اور افریقہ اور مشرق وسطیٰ میں غربت اور تنازعات کے پیش نظر وہاں سے بھاگ کر یورپ میں بہتر زندگی کی آس میں اکثر لوگ لیبیا سے یورپ اور امریکا کے مختلف ملکوں میں نقل مکانی کی کوشش کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198452"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اعداد و شمار کے مطابق حالیہ سانحے کے بعد 2023 کی پہلی ششماہی سے اب تک لیبیا سے سمندر کے راستے بیرون ملک جانے کی کوشش میں ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی تعداد 600 سے زیادہ ہوگئی ہے جو کہ پچھلے سال کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔</p>
<p>سفیکس شہر کے ایک جج فوزی مسمودی نے بتایا کہ تیونس کے ساحلی محافظوں نے 11 افراد کو کشتی سے بچا لیا جو ساحل سے زرزس شہر کے قریب روانہ ہوئی تھی۔</p>
<p>انسانی حقوق کے گروپ تیونس کے فورم برائے اقتصادی اور سماجی حقوق نے کہا کہ کشتی ڈوبنے سے ہلاک اور لاپتا ہونے والوں کی تعداد 608 تک پہنچ گئی ہے اور کوسٹ گارڈ نے تیونس کے ساحلوں سے تقریباً 33 ہزار افراد کی کشتیوں میں سوار ہونے کی کوشش کو ناکام بنا دیا ہے۔</p>
<p>ادھر تیونس پر یورپی ممالک کا دباؤ ہے کہ وہ اپنے ساحلوں سے بڑی تعداد میں لوگوں کی روانگی کو روکے لیکن صدر قیس سعید نے کہا ہے کہ وہ سرحدی محافظ کے طور پر کام نہیں کریں گے۔</p>
<p>تیونس میں بہت سے سیاہ فام تارکین وطن نسل پرستانہ تشدد کے سبب بے گھر ہو گئے ہیں جہاں اس سال کے اوائل میں صدر قیس سعید نے ان پر جارحانہ کارروائیاں میں تیز کرتے ہوئے ملک کی آبادیاتی ساخت کو تبدیل کرنے کی ’مجرمانہ سازش‘ کا الزام لگایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199499"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>لیبیا افریقہ کے دیگر علاقوں سے تقریباً 21 ہزار غیرقانونی تارکین وطن کی میزبانی کرتا ہے۔</p>
<p>بچوں اور حاملہ خواتین سمیت سیکڑوں کو سردی میں بے گھر کر دیا گیا جہاں بہت سے تارکین وطن نے اپنے سفارت خانوں میں وطن واپسی کے لیے اندراج کرایا ہے۔</p>
<p>دیگر لوگوں نے غیر محفوظ کشتیوں میں سوار ہو کر تیونس سے 130 کلومیٹر فاصلے پر واقع یورپیئن ساحل تک پہنچنے کی کوشش کی۔</p>
<p>ادھر روم نے فروری میں کہا تھا کہ 32 ہزار سے زیادہ تارکین وطن جن میں تیونس کے 18 ہزار باشندے شامل ہیں، وہ تیونس سے گزشتہ سال اٹلی پہنچے تھے جبکہ مزید ہزاروں افراد ہمسایہ ملک لیبیا سے روانہ ہو چکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207319</guid>
      <pubDate>Sun, 09 Jul 2023 22:35:39 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/09184046cf069b5.png?r=184112" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/09184046cf069b5.png?r=184112"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
