<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 10:20:23 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 10:20:23 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>آرٹیکل 370 کے خاتمے کا کیس: بھارتی سپریم کورٹ کا سماعت روز کرنے کا فیصلہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207434/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف درخواست پر 2 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین ایکسپریس کی &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/india/sc-hearing-article-370-jk-august-2-8825541/"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق بھارتی چیف جسٹس دھنَنجیا یشونت چندراچد، جسٹس سجنے کشان کول، جسٹس سجنیو کھنہ، جسٹس بی آر گیوائی اور جسٹس سوریا کانت پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے آئینی جواز اٹھانے والی درخواست پر سماعت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ نے بھارتی عدالت عظمیٰ کے حوالے سے بتایا کہ اس کیس کی سماعت 2 اگست کو 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگی اور روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس میں بتایا گیا کہ قبل ازیں بھارتی حکومت نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا، جس میں کہا گیا کہ اس سے خطے میں غیر معمولی ترقی، سیکیورٹی اور استحکام آیا ہے، یہ صورتحال پرانے نظام آرٹیکل 370 کے دوران نظر نہیں آئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین ایکسپریس نے بتایا کہ تاہم چیف جسٹس دھننجیا یشونت چندراچد نے سماعت کے دوران کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے حالیہ حلف نامے سے خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کی درخواستوں میں اٹھائے گئے آئینی مسائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس مقصد کے لیے اس پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ نے علیحدہ سے رپورٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے دستاویزات کی تیاری کے لیے دو وکلا کو نوڈل کونسل کے طور پر مقرر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مزید کہا گیا کہ تحریری گزارشات 27 جولائی کو یا اس سے پہلے جمع کروائی جائیں اور اس میں مزید اضافے کی اجازت نہیں ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1678636832874168322"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت ’صرف ایک آغاز‘ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ سماعت جلد ختم ہو جائے گی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد ہمارے سامنے ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ANI/status/1678646265876234240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، جس کے تحت بھارت کے دیگر شہروں کے لوگوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادیں حاصل کرنے اور مستقل رہائش کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آرٹیکل 370 کے باعث بھارت کی پارلیمنٹ کے پاس دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ ریاست میں قوانین نافذ کرنے کے محدود اختیارات تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بی جے پی کے اس فیصلے کو کشمیری عوام، عالمی تنظیموں اور ہندو قوم پرست حکمران جماعت کے ناقدین نے مسلم اکثریتی خطے کو ہندو آبادکاروں کے ذریعے شناخت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارتی سپریم کورٹ نے مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے خلاف درخواست پر 2 اگست سے روزانہ کی بنیاد پر سماعت کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔</p>
<p>انڈین ایکسپریس کی <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://indianexpress.com/article/india/sc-hearing-article-370-jk-august-2-8825541/"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق بھارتی چیف جسٹس دھنَنجیا یشونت چندراچد، جسٹس سجنے کشان کول، جسٹس سجنیو کھنہ، جسٹس بی آر گیوائی اور جسٹس سوریا کانت پر مشتمل 5 رکنی بینچ نے بھارتی حکومت کی جانب سے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے آئینی جواز اٹھانے والی درخواست پر سماعت کی۔</p>
<p>رپورٹ نے بھارتی عدالت عظمیٰ کے حوالے سے بتایا کہ اس کیس کی سماعت 2 اگست کو 10 بج کر 30 منٹ پر شروع ہوگی اور روزانہ کی بنیاد پر جاری رہے گی۔</p>
<p>اس میں بتایا گیا کہ قبل ازیں بھارتی حکومت نے عدالت میں حلف نامہ جمع کروایا، جس میں کہا گیا کہ اس سے خطے میں غیر معمولی ترقی، سیکیورٹی اور استحکام آیا ہے، یہ صورتحال پرانے نظام آرٹیکل 370 کے دوران نظر نہیں آئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انڈین ایکسپریس نے بتایا کہ تاہم چیف جسٹس دھننجیا یشونت چندراچد نے سماعت کے دوران کہا کہ بھارتی حکومت کی جانب سے مقبوضہ کشمیر کی موجودہ صورتحال کے حوالے سے حالیہ حلف نامے سے خصوصی حیثیت منسوخ کرنے کی درخواستوں میں اٹھائے گئے آئینی مسائل پر کوئی اثر نہیں پڑے گا اور اس مقصد کے لیے اس پر انحصار نہیں کیا جائے گا۔</p>
<p>بھارتی نیوز ایجنسی ’اے این آئی‘ نے علیحدہ سے رپورٹ کیا کہ سپریم کورٹ نے دستاویزات کی تیاری کے لیے دو وکلا کو نوڈل کونسل کے طور پر مقرر کیا۔</p>
<p>مزید کہا گیا کہ تحریری گزارشات 27 جولائی کو یا اس سے پہلے جمع کروائی جائیں اور اس میں مزید اضافے کی اجازت نہیں ہوگی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/1678636832874168322"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت ’صرف ایک آغاز‘ ہے۔</p>
<p>انہوں نے ’اے این آئی‘ کو بتایا کہ ہمیں امید ہے کہ سماعت جلد ختم ہو جائے گی اور سپریم کورٹ کا فیصلہ جلد ہمارے سامنے ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ANI/status/1678646265876234240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>یاد رہے کہ 5 اگست 2019 کو بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مقبوضہ کشمیر کو خصوصی حیثیت دلانے والے آرٹیکل 370 کا خاتمہ کردیا تھا، جس کے تحت بھارت کے دیگر شہروں کے لوگوں کو مقبوضہ جموں و کشمیر میں جائیدادیں حاصل کرنے اور مستقل رہائش کی اجازت حاصل ہوگئی ہے۔</p>
<p>آرٹیکل 370 کے باعث بھارت کی پارلیمنٹ کے پاس دفاع، خارجہ امور اور مواصلات کے علاوہ ریاست میں قوانین نافذ کرنے کے محدود اختیارات تھے۔</p>
<p>بی جے پی کے اس فیصلے کو کشمیری عوام، عالمی تنظیموں اور ہندو قوم پرست حکمران جماعت کے ناقدین نے مسلم اکثریتی خطے کو ہندو آبادکاروں کے ذریعے شناخت تبدیل کرنے کی کوشش قرار دیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207434</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Jul 2023 14:52:28 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/11134246bfff30c.jpg?r=134324" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/11134246bfff30c.jpg?r=134324"/>
        <media:title>مقبوضہ کشمیر کے سابق وزیراعلیٰ عمر عبداللہ نے ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آج کی سماعت ’صرف ایک آغاز‘ ہے— فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
