<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:01:09 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:01:09 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر دیے لیکن آخر ہم کب تک قرضے لیتے رہیں گے، شہباز شریف</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207452/</link>
      <description>&lt;p&gt;وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے خزانے میں جمع کرائے جس پر میں نے سعودی عرب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا، لیکن آخر ہم کب تک قرضے لیتے رہیں گے اور کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ملک بھر کی خواتین کے لیے ’وزیر اعظم بااختیار پروگرام‘ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہماری آبادی میں سے نصف سے بھی زیادہ حصہ خواتین ہیں اور ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بطور ماں کے بچوں کو گھر میں تعلیم کے علاوہ ان کی تربیت جیسے بڑوں کا احترام سکھاتی ہیں اور معاشرے میں بطور ماں ان کا بہت اہم کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/appcsocialmedia/status/1678743128008970240"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج 75 سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں خواتین کے حقوق، انہیں بااختیار بنانے، ان کا احترام، ان کے لیے مواقع مہیا نہیں کر سکے، چاہے اسلامی دنیا ہو یا مغربی ممالک، وہاں خواتین نے ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا تو وہ قومیں کہیں آگے بڑھ چکی ہیں اور پاکستان کو اس معاملے میں ابھی بہت سفر طے کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ 5 ارب روپے کا یہ پروگرام آٹے میں نمک کے برابر ہے، ہم نے اپنے سابقہ دور میں جنوبی پنجاب میں بچیوں کو مختلف ہنر سکھائے اور اس سلسلے میں بڑی سرمایہ کاری کی، ہم نے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیا اور بچیوں کا ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207252"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف پنجاب پہلا صوبہ تھا جس نے اس سلسلے میں کارروائی کا آغاز کیا اور اس کا دیہاتوں اور دور دراز قصبوں میں خواتین کو بہت فائدہ ہوا، مگر اس سے بڑھ کر ہمیں آج درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج معاشی ترقی اور خوشحالی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ آج ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے دو ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے خزانے میں جمع کرائے، میں نے سعودی عرب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا، انہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور ایک مرتبہ پھر جب آج پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے تو انہوں نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن آخر ہم کب تک قرضے لیتے رہیں گے اور کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے، یہ وہ چبھتا ہوا سوال ہے جو میں خود سے اور آپ سب سے کرنا چاہتا ہوں۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="بہنوں-اور-بیٹیوں-اب-رونے-دھونے-سے-کام-نہیں-چلے-گا" href="#بہنوں-اور-بیٹیوں-اب-رونے-دھونے-سے-کام-نہیں-چلے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’بہنوں اور بیٹیوں، اب رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مشرق میں ہمسایہ ملک نے 1991 میں آخری مرتبہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کیا اور اس کے بعد انہیں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑی، اس زمانے میں پاکستان اور ان کا مقابلہ تھا، ٹیکسٹائل میں ہم ان سے آگے تھے، اسٹیل میں ہم ان سے آگے تھے، ہمارے روپے کی قدر ان کے روپے سے زیادہ تھی لیکن آج کوئی موازنہ نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے کہا کہ میں قوم کی قابل بہنوں اور بیٹیوں سے کہوں گا کہ اب رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا، اس طرح تباہی ہمارا مقدر ہوگی، ہمیں اپنے حالات کو سنبھالنے کے لیے کھڑا ہونا ہو گا اور ماضی سے سبق حاصل کرنا ہو گا اور ایک جاندار قوم کی طرح آگے بڑھنا ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت باصلاحیت لوگ ہیں، یہاں بڑے بڑے ازہان بیٹھے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مواقع پیدا کیے جائیں اور ان باصلاحیت لوگوں کو اس کا پورا فائدہ فراہم کیا جائے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالجز میں ہماری قوم کی بیٹیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں جس پر اس وقت سرکار کا تقریباً 15 سے 20 لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے، ان کو انتہائی رعایت کے ساتھ یہ تعلیم فراہم کی جاتی ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت سی بیٹیاں ہسپتال میں دکھی انسانیت کی خدمت کرتی ہیں، وہیں ایسی تعداد میں بھی کمی نہیں کہ وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شادی کر کے گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں، یہ وہ مسئلہ ہے جسے ہمیں حل کرنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اقوام عالم میں اپنے پاکستان کو ممتاز کروانا ہے اور لوہا منوانا ہے تو پھر مردوں اور خواتین کو مل کر پاکستان کی ترقی میں حصہ لینا ہو گا، ہمیں انہیں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;h4&gt;&lt;a id="پورے-سیاسی-کیریئر-میں-اس-سے-زیادہ-سخت-معاشی-چیلنج-نہیں-دیکھا" href="#پورے-سیاسی-کیریئر-میں-اس-سے-زیادہ-سخت-معاشی-چیلنج-نہیں-دیکھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;’پورے سیاسی کیریئر میں اس سے زیادہ سخت معاشی چیلنج نہیں دیکھا‘&lt;/h4&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ایک مرتبہ پھر معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلا ایک سال مالی لحاظ سے بہت سخت گزرا ہے، میں نے اپنے پورے سیاسی کیریئر میں اس سے زیادہ سخت معاشی چیلنج نہیں دیکھا، پچھلے سال تباہ کن سیلاب آیا، عالمی کساد بازاری تھی، بہت زیادہ مہنگائی ہوئی، پھر یوکرین میں جنگ چھڑ گئی، تیل اور گیس بہت مہنگی ہو گئی، ان تمام عوامل نے ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہباز شریف نے خطاب کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس کے بعد ہمیں آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کافی وقت لگ گیا، اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ بہت حد تک طے ہو گیا، کل 12 تاریخ کو آئی ایم ایف کا بورڈ بیٹھے گا اور دعا کیجیے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو جائے، یہ کوئی فخریہ بات نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کب تک آئی ایم ایف کے پاس جاتے رہیں گے اور کب تک یہ زنجیریں ہمارے پاؤں میں بندھی رہیں گی، اگر ہمیں یہ زنجیریں توڑنی ہیں تو ہمیں اپنی پوری اجتماعی صلاحیت بروئے کار لانا ہو گی اور تمام وسائل اپنی نسل کے قدموں میں نچھاور کرنا ہوں گے ورنہ اس کے بغیر یہ ملک آگے ترقی نہیں کرسکتا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم میں جرمنی اور جاپان نیست و نابود ہو گئے، کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے لیکن 50 سال میں وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے، انہوں نے دن رات محنت کی جس کی تاریخ گواہ ہے اور آج جاپان اور جرمنی ایک طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ جرمنی نے ہیمبرگ یونیورسٹی بنائی، جاپان نے ٹوکیو یونیورسٹی بنائی، ریسرچ سینٹر بنائے، اس خطے میں مسلمانوں نے ملکہ کی یاد میں بڑے بڑے مقبرے بنائے اور انہوں نے جامعات اور تحقیقی ادارے بنائے، آج وہ کہاں سے کہاں نکل گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ آج ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے 2 ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے خزانے میں جمع کرائے جس پر میں نے سعودی عرب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا، لیکن آخر ہم کب تک قرضے لیتے رہیں گے اور کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے۔</p>
<p>ملک بھر کی خواتین کے لیے ’وزیر اعظم بااختیار پروگرام‘ کے اجرا کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ ہماری آبادی میں سے نصف سے بھی زیادہ حصہ خواتین ہیں اور ہمارے معاشرے کا ایک بڑا طبقہ بطور ماں کے بچوں کو گھر میں تعلیم کے علاوہ ان کی تربیت جیسے بڑوں کا احترام سکھاتی ہیں اور معاشرے میں بطور ماں ان کا بہت اہم کردار ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--right  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/appcsocialmedia/status/1678743128008970240"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج 75 سال گزرنے کے باوجود پاکستان میں خواتین کے حقوق، انہیں بااختیار بنانے، ان کا احترام، ان کے لیے مواقع مہیا نہیں کر سکے، چاہے اسلامی دنیا ہو یا مغربی ممالک، وہاں خواتین نے ملکی ترقی میں بڑھ چڑھ کر اپنا کردار ادا کیا تو وہ قومیں کہیں آگے بڑھ چکی ہیں اور پاکستان کو اس معاملے میں ابھی بہت سفر طے کرنا ہے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ 5 ارب روپے کا یہ پروگرام آٹے میں نمک کے برابر ہے، ہم نے اپنے سابقہ دور میں جنوبی پنجاب میں بچیوں کو مختلف ہنر سکھائے اور اس سلسلے میں بڑی سرمایہ کاری کی، ہم نے لڑکیوں کی تعلیم کو فروغ دیا اور بچیوں کا ماہانہ وظیفہ بھی مقرر کیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207252"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیر اعظم نے کہا کہ خواتین پر تشدد کے خلاف پنجاب پہلا صوبہ تھا جس نے اس سلسلے میں کارروائی کا آغاز کیا اور اس کا دیہاتوں اور دور دراز قصبوں میں خواتین کو بہت فائدہ ہوا، مگر اس سے بڑھ کر ہمیں آج درپیش چیلنجز میں سب سے بڑا چیلنج معاشی ترقی اور خوشحالی ہے۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ آج ہمارے برادر ملک سعودی عرب نے دو ارب ڈالر اسٹیٹ بینک کے خزانے میں جمع کرائے، میں نے سعودی عرب کا دل کی گہرائیوں سے شکریہ ادا کیا، انہوں نے ہمیشہ مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا اور ایک مرتبہ پھر جب آج پاکستان کو مشکلات کا سامنا ہے تو انہوں نے پاکستان کا بھرپور ساتھ دیا، لیکن آخر ہم کب تک قرضے لیتے رہیں گے اور کب تک قرضوں کی زندگی بسر کرتے رہیں گے، یہ وہ چبھتا ہوا سوال ہے جو میں خود سے اور آپ سب سے کرنا چاہتا ہوں۔</p>
<h4><a id="بہنوں-اور-بیٹیوں-اب-رونے-دھونے-سے-کام-نہیں-چلے-گا" href="#بہنوں-اور-بیٹیوں-اب-رونے-دھونے-سے-کام-نہیں-چلے-گا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’بہنوں اور بیٹیوں، اب رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا‘</h4>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ہمارے مشرق میں ہمسایہ ملک نے 1991 میں آخری مرتبہ آئی ایم ایف کے ساتھ پروگرام کیا اور اس کے بعد انہیں دوبارہ آئی ایم ایف کے پاس جانے کی ضرورت نہیں پڑی، اس زمانے میں پاکستان اور ان کا مقابلہ تھا، ٹیکسٹائل میں ہم ان سے آگے تھے، اسٹیل میں ہم ان سے آگے تھے، ہمارے روپے کی قدر ان کے روپے سے زیادہ تھی لیکن آج کوئی موازنہ نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207387"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شہباز شریف نے کہا کہ میں قوم کی قابل بہنوں اور بیٹیوں سے کہوں گا کہ اب رونے دھونے سے کام نہیں چلے گا، اس طرح تباہی ہمارا مقدر ہوگی، ہمیں اپنے حالات کو سنبھالنے کے لیے کھڑا ہونا ہو گا اور ماضی سے سبق حاصل کرنا ہو گا اور ایک جاندار قوم کی طرح آگے بڑھنا ہو گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بہت باصلاحیت لوگ ہیں، یہاں بڑے بڑے ازہان بیٹھے ہیں لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ مواقع پیدا کیے جائیں اور ان باصلاحیت لوگوں کو اس کا پورا فائدہ فراہم کیا جائے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ میڈیکل کالجز میں ہماری قوم کی بیٹیاں تعلیم حاصل کرتی ہیں جس پر اس وقت سرکار کا تقریباً 15 سے 20 لاکھ روپیہ خرچ ہوتا ہے، ان کو انتہائی رعایت کے ساتھ یہ تعلیم فراہم کی جاتی ہے لیکن انتہائی افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ جہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد بہت سی بیٹیاں ہسپتال میں دکھی انسانیت کی خدمت کرتی ہیں، وہیں ایسی تعداد میں بھی کمی نہیں کہ وہ میڈیکل کی تعلیم حاصل کرنے کے بعد شادی کر کے گھروں میں بیٹھ جاتی ہیں، یہ وہ مسئلہ ہے جسے ہمیں حل کرنا ہے۔</p>
<p>وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ ہمیں اقوام عالم میں اپنے پاکستان کو ممتاز کروانا ہے اور لوہا منوانا ہے تو پھر مردوں اور خواتین کو مل کر پاکستان کی ترقی میں حصہ لینا ہو گا، ہمیں انہیں مواقع فراہم کرنا ہوں گے۔</p>
<h4><a id="پورے-سیاسی-کیریئر-میں-اس-سے-زیادہ-سخت-معاشی-چیلنج-نہیں-دیکھا" href="#پورے-سیاسی-کیریئر-میں-اس-سے-زیادہ-سخت-معاشی-چیلنج-نہیں-دیکھا" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>’پورے سیاسی کیریئر میں اس سے زیادہ سخت معاشی چیلنج نہیں دیکھا‘</h4>
<p>انہوں نے ایک مرتبہ پھر معاشی حالات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پچھلا ایک سال مالی لحاظ سے بہت سخت گزرا ہے، میں نے اپنے پورے سیاسی کیریئر میں اس سے زیادہ سخت معاشی چیلنج نہیں دیکھا، پچھلے سال تباہ کن سیلاب آیا، عالمی کساد بازاری تھی، بہت زیادہ مہنگائی ہوئی، پھر یوکرین میں جنگ چھڑ گئی، تیل اور گیس بہت مہنگی ہو گئی، ان تمام عوامل نے ہمارے لیے ایک بڑا چیلنج کھڑا کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207410"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>شہباز شریف نے خطاب کا سلسلہ جاری رکھتے ہوئے مزید کہا کہ اس کے بعد ہمیں آئی ایم ایف سے مذاکرات میں کافی وقت لگ گیا، اللہ کا شکر ہے کہ وہ مرحلہ بہت حد تک طے ہو گیا، کل 12 تاریخ کو آئی ایم ایف کا بورڈ بیٹھے گا اور دعا کیجیے کہ آئی ایم ایف کے ساتھ ہمارا معاہدہ ہو جائے، یہ کوئی فخریہ بات نہیں بلکہ لمحہ فکریہ ہے کہ ہم کب تک آئی ایم ایف کے پاس جاتے رہیں گے اور کب تک یہ زنجیریں ہمارے پاؤں میں بندھی رہیں گی، اگر ہمیں یہ زنجیریں توڑنی ہیں تو ہمیں اپنی پوری اجتماعی صلاحیت بروئے کار لانا ہو گی اور تمام وسائل اپنی نسل کے قدموں میں نچھاور کرنا ہوں گے ورنہ اس کے بغیر یہ ملک آگے ترقی نہیں کرسکتا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جنگ عظیم دوئم میں جرمنی اور جاپان نیست و نابود ہو گئے، کروڑوں لوگ لقمہ اجل بن گئے لیکن 50 سال میں وہ اپنے پیروں پر کھڑے ہو گئے، انہوں نے دن رات محنت کی جس کی تاریخ گواہ ہے اور آج جاپان اور جرمنی ایک طاقت کی حیثیت رکھتے ہیں۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ جرمنی نے ہیمبرگ یونیورسٹی بنائی، جاپان نے ٹوکیو یونیورسٹی بنائی، ریسرچ سینٹر بنائے، اس خطے میں مسلمانوں نے ملکہ کی یاد میں بڑے بڑے مقبرے بنائے اور انہوں نے جامعات اور تحقیقی ادارے بنائے، آج وہ کہاں سے کہاں نکل گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207452</guid>
      <pubDate>Tue, 11 Jul 2023 18:52:03 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/1117193521df5eb.png?r=185502" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/1117193521df5eb.png?r=185502"/>
        <media:title>وزیر اعظم شہباز شریف خواتین کے لیے وزیر اعظم بااختیار پروگرام کے اجرا کے موقع پرخطاب کررہے تھے — فوٹو: ڈان نیوز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
