<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 02:25:17 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 02:25:17 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار میلان کنڈیرا انتقال کرگئے</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207548/</link>
      <description>&lt;p&gt;بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار، شاعر اور مضمون نگار میلان کنڈیرا 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیرملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق میلان کنڈیرا لائبریری کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ’میلان کنڈیرا کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد آج پیرس میں اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔‘&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناول نگار، شاعر اور مضمون نگار میلان کنڈیرا 1975 میں کمیونسٹ حکمرانی والے چیکو سلواکیہ سے نکلنے کے بعد فرانس میں مقیم تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کنڈیرا انسانی حالت سے نمٹنے والے تاریک، اشتعال انگیز ناولوں کے لیے جانے جاتے تھے اور اختلاف رائے کی وجہ سے چیکوسلواکیہ کی قومیت چھیننے کے تجربے کی عکاسی کرتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چیکوسلواکیہ نیوز ایجنسی سی ٹی کی  نے پیرس میں سفیر مائیکل فلیش مین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میلان کنڈیرا اپنے آبائی علاقے برنو میں دفن ہونا چاہتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1150168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کنڈیرا  یکم اپریل 1929 کو پیدا ہوئے جنہوں نے سائنس، ادب اور پھر یونیورسٹی میں اسکرین رائٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پراگ جانے سے پہلے برنو میں سیکنڈری اسکول کی تعلیم حاصل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے فرانسیسی شاعر گوئلام  کے کتابوں کا ترجمہ کیا اور شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے تخلیق میں مختصر کہانیاں بھی شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میلان کنڈیرا  نے پراگ فلم اسکول میں بھی پڑھایا جہاں ان کے طالب علموں میں مستقبل کے آسکر ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر میلوس فورمین بھی شامل تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کامیاب ناول ’دی جوک‘ ایک نوجوان کے بارے میں ہے جو یونیورسٹی اور کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ایک غلط سوچ پر مبنی مذاق پر نکال دیا گیا تھا جو کہ 1967 میں شائع ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1095329"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فرانس روانگی کے بعد میلان کنڈیرا  نے رینس یونیورسٹی اور پیرس میں قائم اسکول فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں بھی پڑھایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عوام سے شاذ و نادر ہی بات کرنے والے میلان کنڈیرا  سے 1979 میں ’دی بک آف لافٹر اینڈ فارگیٹنگ‘ کی اشاعت کے بعد چیکوسلواکیہ کی شہریت چھین لی گئی تھی، تاہم وہ 1981 میں فرانسیسی شہری بنے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب تک کی ان کی سب سے مشہور تخلیق ’دی انبیئرایبل لائٹنیس آف بینگ‘ 1984 میں شائع ہوئی جس پر 1987 میں ایک فلم بھی بنی تھی، ان کا یہ ناول آزادی اور جذبے کے بارے میں ایک اخلاقی کہانی ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بین الاقوامی شہرت یافتہ ناول نگار، شاعر اور مضمون نگار میلان کنڈیرا 94 برس کی عمر میں انتقال کر گئے۔</p>
<p>غیرملکی خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق میلان کنڈیرا لائبریری کے ترجمان نے تصدیق کی کہ ’میلان کنڈیرا کافی عرصہ علیل رہنے کے بعد آج پیرس میں اپنے گھر میں انتقال کر گئے۔‘</p>
<p>ناول نگار، شاعر اور مضمون نگار میلان کنڈیرا 1975 میں کمیونسٹ حکمرانی والے چیکو سلواکیہ سے نکلنے کے بعد فرانس میں مقیم تھے۔</p>
<p>میلان کنڈیرا انسانی حالت سے نمٹنے والے تاریک، اشتعال انگیز ناولوں کے لیے جانے جاتے تھے اور اختلاف رائے کی وجہ سے چیکوسلواکیہ کی قومیت چھیننے کے تجربے کی عکاسی کرتے تھے۔</p>
<p>چیکوسلواکیہ نیوز ایجنسی سی ٹی کی  نے پیرس میں سفیر مائیکل فلیش مین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ میلان کنڈیرا اپنے آبائی علاقے برنو میں دفن ہونا چاہتے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1150168"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>میلان کنڈیرا  یکم اپریل 1929 کو پیدا ہوئے جنہوں نے سائنس، ادب اور پھر یونیورسٹی میں اسکرین رائٹنگ کی تعلیم حاصل کرنے کے لیے پراگ جانے سے پہلے برنو میں سیکنڈری اسکول کی تعلیم حاصل کی۔</p>
<p>انہوں نے فرانسیسی شاعر گوئلام  کے کتابوں کا ترجمہ کیا اور شاعری کے ساتھ ساتھ ان کے تخلیق میں مختصر کہانیاں بھی شامل ہیں۔</p>
<p>میلان کنڈیرا  نے پراگ فلم اسکول میں بھی پڑھایا جہاں ان کے طالب علموں میں مستقبل کے آسکر ایوارڈ یافتہ ڈائریکٹر میلوس فورمین بھی شامل تھے۔</p>
<p>ان کا کامیاب ناول ’دی جوک‘ ایک نوجوان کے بارے میں ہے جو یونیورسٹی اور کمیونسٹ پارٹی کی طرف سے ایک غلط سوچ پر مبنی مذاق پر نکال دیا گیا تھا جو کہ 1967 میں شائع ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1095329"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فرانس روانگی کے بعد میلان کنڈیرا  نے رینس یونیورسٹی اور پیرس میں قائم اسکول فار ایڈوانسڈ اسٹڈیز میں بھی پڑھایا۔</p>
<p>عوام سے شاذ و نادر ہی بات کرنے والے میلان کنڈیرا  سے 1979 میں ’دی بک آف لافٹر اینڈ فارگیٹنگ‘ کی اشاعت کے بعد چیکوسلواکیہ کی شہریت چھین لی گئی تھی، تاہم وہ 1981 میں فرانسیسی شہری بنے۔</p>
<p>اب تک کی ان کی سب سے مشہور تخلیق ’دی انبیئرایبل لائٹنیس آف بینگ‘ 1984 میں شائع ہوئی جس پر 1987 میں ایک فلم بھی بنی تھی، ان کا یہ ناول آزادی اور جذبے کے بارے میں ایک اخلاقی کہانی ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207548</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Jul 2023 00:18:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/12213200f99f910.jpg?r=213434" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/12213200f99f910.jpg?r=213434"/>
        <media:title>میلان کنڈیرا: فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/12214353ddaedca.jpg?r=214416" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/12214353ddaedca.jpg?r=214416"/>
        <media:title>—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
