<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 17:05:29 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 17:05:29 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا کی میجر کرکٹ لیگ کا کل سے آغاز، پاکستان کے متعدد موجودہ اور سابق کرکٹرز شریک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207615/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکا میں 14 جولائی سے میجر لیگ کرکٹ (ایم ایل سی) کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں پاکستان سے امریکا منتقل ہونے والے متعدد سابق پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے چند بڑے نام بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فاسٹ باؤلر حارث رؤف اور شاداب خان کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کے چند بڑے نام بھی لیگ میں  نظر آئیں گے جس کے لیے 6 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایم ایل سی میں لاس اینجلس نائٹ رائیڈرز، ممبئی انڈینز نیویارک، ٹیکساس سپر کنگز، سان فرانسسکو یونی کورن، سیٹل اورکاس اور واشنگٹن فریڈم نامی 6 ٹیمیں شرکت کریں گی اور 19 دن تک جاری رہنے والے اس ایونٹ کے میچز ٹیکساس اور نارتھ کیرولینا میں کھیلے جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207501"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایونٹ میں سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل پاکستانی اسٹار حارث رؤف اور شاداب خان سان فرانسسکو یونی کورن کی نمائندگی کریں گے جبکہ عماد وسیم سیٹل اورکاس کی نمائندگی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیم مینجمنٹ، میڈیکل پینل اور سلیکشن کمیٹی کی منظوری کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے کھلاڑیوں کو این او سی جاری کر دیا تھا اور رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے ایک کھلاڑی کو این او سی کے اجرا کے لیے 25 ہزار امریکی ڈالر کی رقم کا تقاضا کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ پاکستان میں قومی ٹیم میں شمولیت سے محروم یا ریٹائر ہونے والے متعدد کھلاڑی بھی لیگ کا حصہ ہوں گے، جن میں حماد اعظم، سمیع اسلم، احسان عادل، سیف بدر، سعد علی اور مختار احمد شامل ہیں، یہ تمام کھلاڑی مقامی کرکٹرز کی حیثیت سے لیگ میں شرکت کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/TheRealPCBMedia/status/1678014522609782789"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;احسان عادل اور حماد اعظم لیگ میں فرنچائز نیویارک کی نمائندگی کریں گے جو معروف بھارتی فرنچائز ممبئی انڈینز کی ملکیت ہے، یہ دونوں کھلاڑی ملک کو ڈھائی سال قبل ہی خیرباد کہہ گئے تھے، البتہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان گزشتہ ہفتے ہی کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیگ کے ڈائریکٹر زبین سرکاری نے کہا کہ اگر آپ پاکستان یا ویسٹ انڈیز کے پروفیشنل کرکٹر ہیں تو آپ کو یہاں کی لیگ میں مقامی کرکٹر کی حیثیت سے کھیلنے کے لیے بورڈ کا این او سی دکھانا ہو گا یا پھر ریٹائرمنٹ لینا ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقامی سطح پر مواقع کی کمی، کھلاڑیوں کے مابین ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے سخت مقابلے یا پی سی بی کی جانب سے عدم توجہ کے باعث متعدد کرکٹرز نے امریکا کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207608"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;13 ٹیسٹ اور 4 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سمیع اسلم بھی انہی کرکٹرز میں شامل ہیں، جنہوں نے مستقل مواقع نہ ملنے پر امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، انہیں 2017 میں قومی ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا تھا اور ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے کے باوجود قومی ٹیم میں موقع نہ دیے جانے پر وہ 2020 میں امریکا ہجرت کر گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیع اسلم نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ کھلاڑی جو پاکستان سپر لیگ نہیں کھیل رہا، وہ یہاں آنا چاہتا ہے، میں ایسے کھلاڑیوں کو جانتا ہوں جو قائد اعظم ٹرافی میں ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں امریکا میں کھیلنے کا موقع ملے تو وہ مزید کچھ سوچے سمجھے یہاں آ جائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت ایسے کھلاڑیوں کو نوازتے ہیں جو ریڈ بال کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن پاکستان اپنے طویل فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ تنزلی کا شکار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سمیع اسلم نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی طویل فارمیٹ کی کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتا اور جو ایسا کر رہے ہیں، وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں، کھلاڑی جانتے ہیں کہ سلیکٹرز ان کھلاڑیوں کو منتخب نہیں کرتے جو چار روزہ کرکٹ میں کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ اس کے برعکس ان کو منتخب کیا جاتا ہے جو پاکستان سپر لیگ میں پرفارم کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ امریکی لیگ کے بانی بھارتی تاجر سمیر مہتا اور وجے سری نواسن ہیں، لیگ میں شامل 6 میں سے 4 ٹیمیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائزوں کی ملکیت ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکا میں 14 جولائی سے میجر لیگ کرکٹ (ایم ایل سی) کا آغاز ہونے جا رہا ہے جس میں پاکستان سے امریکا منتقل ہونے والے متعدد سابق پاکستانی کرکٹرز کے ساتھ ساتھ قومی ٹیم کے چند بڑے نام بھی ایکشن میں نظر آئیں گے۔</p>
<p>فاسٹ باؤلر حارث رؤف اور شاداب خان کے ساتھ ساتھ دنیا کے مختلف ممالک کے چند بڑے نام بھی لیگ میں  نظر آئیں گے جس کے لیے 6 ٹیمیں تشکیل دی گئی ہیں۔</p>
<p>ایم ایل سی میں لاس اینجلس نائٹ رائیڈرز، ممبئی انڈینز نیویارک، ٹیکساس سپر کنگز، سان فرانسسکو یونی کورن، سیٹل اورکاس اور واشنگٹن فریڈم نامی 6 ٹیمیں شرکت کریں گی اور 19 دن تک جاری رہنے والے اس ایونٹ کے میچز ٹیکساس اور نارتھ کیرولینا میں کھیلے جائیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207501"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ایونٹ میں سینٹرل کنٹریکٹ کے حامل پاکستانی اسٹار حارث رؤف اور شاداب خان سان فرانسسکو یونی کورن کی نمائندگی کریں گے جبکہ عماد وسیم سیٹل اورکاس کی نمائندگی کریں گے۔</p>
<p>ٹیم مینجمنٹ، میڈیکل پینل اور سلیکشن کمیٹی کی منظوری کے بعد پاکستان کرکٹ بورڈ(پی سی بی) نے کھلاڑیوں کو این او سی جاری کر دیا تھا اور رپورٹس کے مطابق پی سی بی نے ایک کھلاڑی کو این او سی کے اجرا کے لیے 25 ہزار امریکی ڈالر کی رقم کا تقاضا کیا تھا۔</p>
<p>اس کے علاوہ پاکستان میں قومی ٹیم میں شمولیت سے محروم یا ریٹائر ہونے والے متعدد کھلاڑی بھی لیگ کا حصہ ہوں گے، جن میں حماد اعظم، سمیع اسلم، احسان عادل، سیف بدر، سعد علی اور مختار احمد شامل ہیں، یہ تمام کھلاڑی مقامی کرکٹرز کی حیثیت سے لیگ میں شرکت کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/TheRealPCBMedia/status/1678014522609782789"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>احسان عادل اور حماد اعظم لیگ میں فرنچائز نیویارک کی نمائندگی کریں گے جو معروف بھارتی فرنچائز ممبئی انڈینز کی ملکیت ہے، یہ دونوں کھلاڑی ملک کو ڈھائی سال قبل ہی خیرباد کہہ گئے تھے، البتہ انہوں نے انٹرنیشنل کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان گزشتہ ہفتے ہی کیا تھا۔</p>
<p>لیگ کے ڈائریکٹر زبین سرکاری نے کہا کہ اگر آپ پاکستان یا ویسٹ انڈیز کے پروفیشنل کرکٹر ہیں تو آپ کو یہاں کی لیگ میں مقامی کرکٹر کی حیثیت سے کھیلنے کے لیے بورڈ کا این او سی دکھانا ہو گا یا پھر ریٹائرمنٹ لینا ہوگی۔</p>
<p>مقامی سطح پر مواقع کی کمی، کھلاڑیوں کے مابین ٹیم میں جگہ بنانے کے لیے سخت مقابلے یا پی سی بی کی جانب سے عدم توجہ کے باعث متعدد کرکٹرز نے امریکا کو اپنا مسکن بنا لیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207608"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>13 ٹیسٹ اور 4 ون ڈے انٹرنیشنل میچوں میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والے سمیع اسلم بھی انہی کرکٹرز میں شامل ہیں، جنہوں نے مستقل مواقع نہ ملنے پر امریکا منتقل ہونے کا فیصلہ کیا، انہیں 2017 میں قومی ٹیم سے ڈراپ کردیا گیا تھا اور ڈومیسٹک کرکٹ میں پرفارم کرنے کے باوجود قومی ٹیم میں موقع نہ دیے جانے پر وہ 2020 میں امریکا ہجرت کر گئے تھے۔</p>
<p>سمیع اسلم نے ڈان ڈاٹ کام سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہر وہ کھلاڑی جو پاکستان سپر لیگ نہیں کھیل رہا، وہ یہاں آنا چاہتا ہے، میں ایسے کھلاڑیوں کو جانتا ہوں جو قائد اعظم ٹرافی میں ٹیموں کی قیادت کر رہے ہیں اور وہ کہہ رہے ہیں کہ اگر انہیں امریکا میں کھیلنے کا موقع ملے تو وہ مزید کچھ سوچے سمجھے یہاں آ جائیں گے۔</p>
<p>انہوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ آسٹریلیا، انگلینڈ اور بھارت ایسے کھلاڑیوں کو نوازتے ہیں جو ریڈ بال کرکٹ کھیلتے ہیں لیکن پاکستان اپنے طویل فارمیٹ کے کھلاڑیوں کو نظر انداز کرتا ہے، یہی وجہ ہے کہ پاکستان میں ٹیسٹ کرکٹ تنزلی کا شکار ہے۔</p>
<p>سمیع اسلم نے کہا کہ پاکستان میں کوئی بھی طویل فارمیٹ کی کرکٹ نہیں کھیلنا چاہتا اور جو ایسا کر رہے ہیں، وہ ایسا کرنے پر مجبور ہیں، کھلاڑی جانتے ہیں کہ سلیکٹرز ان کھلاڑیوں کو منتخب نہیں کرتے جو چار روزہ کرکٹ میں کارکردگی دکھاتے ہیں بلکہ اس کے برعکس ان کو منتخب کیا جاتا ہے جو پاکستان سپر لیگ میں پرفارم کرتے ہیں۔</p>
<p>مذکورہ امریکی لیگ کے بانی بھارتی تاجر سمیر مہتا اور وجے سری نواسن ہیں، لیگ میں شامل 6 میں سے 4 ٹیمیں انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کی فرنچائزوں کی ملکیت ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207615</guid>
      <pubDate>Thu, 13 Jul 2023 23:09:17 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (برشنا کاسی)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/132222395ffd6b0.png?r=222446" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/132222395ffd6b0.png?r=222446"/>
        <media:title>پاکستانی اسٹار حارث رؤف اور شاداب خان سان فرانسسکو یونی کورن کی نمائندگی کریں گے— فوٹو: میجر کرکٹ لیگ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
