<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Mon, 22 Jun 2026 11:56:33 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Mon, 22 Jun 2026 11:56:33 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی دہلی کے متعدد علاقے زیر آب ہونے پر حکام کی جام فلڈ گیٹس کھولنے کی کوششیں</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207721/</link>
      <description>&lt;p&gt;نئی دہلی میں دریائے جمنا کا پانی داخل ہونے کے بعد کے حکام پانی کو نکالنے میں مدد کے لیے ایک بیراج پر کچھ جام فلڈ گیٹس کھولنے کی کوششیں کررہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث بھارتی دارالحکومت کے کچھ حصوں میں ٹریفک معطل ہے جبکہ تاریخی یادگاریں دلدل میں گھِر گئی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ نئی دہلی اور پہاڑی شمالی ریاستوں میں غیر معمولی طور پر شدید بارشوں کے بعد  رواں ہفتے دریا کی سطح 45 برسوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دریا میں طغیانی کے سبب پانی ندی کے کناروں کو عبور کرتا ہوں شہر میں داخل ہوگیا جس کے باعث سیکڑوں افراد نقل  مکانی پر مجبور ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207673"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام نے بتایا کہ فوج اور ڈیزاسٹر ریلیف کے اہلکار دہلی میں سپریم کورٹ کے قریب نالے کے ایک ٹوٹے ہوئے ریگولیٹر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں سے پانی بہہ کر ایک اہم شاہراہ پر آرہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی کے وزیر برائے آبپاشی و سیلاب کنٹرول سوربھ بھردواج نے کہا کہ ’پانی کو شہر میں جانے سے روکنے کے لیے ہم ایک ڈیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس مقصد کے لیے بوریوں کے ڈھیر لگائے جارہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹیلی ویژن فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دن کے اوائل میں تاریخی لال قلعہ کی دیواروں کو پانی نے گھیر لیا ہے جبکہ کئی مقامات پر پر ٹرک اور بسیں خالی کھڑی ہیں، صرف ان کی ونڈ شیلڈز اور چھتیں پانی کے اوپر دکھائی دے رہی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/15140850c464ce2.jpg'  alt=' تاریخی لال قلعہ کی دیواروں کو پانی نے گھیر لیا ہے &amp;mdash;تصویر: اے ایف پی ' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تاریخی لال قلعہ کی دیواروں کو پانی نے گھیر لیا ہے —تصویر: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے شہر میں پانی میں ڈوب کر 3 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے بانی رہنما مہاتما گاندھی کی آخری یادگار راج گھاٹ کے آس پاس کی سڑکیں بھی ڈوب گئیں جبکہ کچھ پانی میموریل ایریا میں بھی داخل ہو گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ دریا میں پانی کی سطح میں کچھ کمی کے ساتھ جمعرات کو بند کیے گئے شہر کے تین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں سے ایک نے دوبارہ کام شروع کر دیا، جس سے پانی کی کچھ فراہمی بحال ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ شہر کے مرکزی علاقے میں ایک بیراج پر، فوج اور بحریہ کے اہلکار پانچ جام شدہ دروازوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کام کر رہے تھے جو دریا کے بہاؤ کو متاثر کر رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم جون سے شروع ہونے والے اس مون سون سیزن کے دوران دہلی میں معمول سے 91 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی میں اب تک 309 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے، جو کہ کم از کم 12 سال کے عرصے میں اس مہینے کی تیسری سب سے بڑی مقدار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر کے آئی ٹی او ایریا میں پولیس ہیڈ کوارٹرز سمیت کئی نجی اور سرکاری دفاتر بھی سیلاب کی زد میں آ گئے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>نئی دہلی میں دریائے جمنا کا پانی داخل ہونے کے بعد کے حکام پانی کو نکالنے میں مدد کے لیے ایک بیراج پر کچھ جام فلڈ گیٹس کھولنے کی کوششیں کررہے ہیں۔</p>
<p>خبررساں ادارے رائٹرز کی رپورٹ کے مطابق سیلاب کے باعث بھارتی دارالحکومت کے کچھ حصوں میں ٹریفک معطل ہے جبکہ تاریخی یادگاریں دلدل میں گھِر گئی ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ نئی دہلی اور پہاڑی شمالی ریاستوں میں غیر معمولی طور پر شدید بارشوں کے بعد  رواں ہفتے دریا کی سطح 45 برسوں میں اپنی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی تھی۔</p>
<p>دریا میں طغیانی کے سبب پانی ندی کے کناروں کو عبور کرتا ہوں شہر میں داخل ہوگیا جس کے باعث سیکڑوں افراد نقل  مکانی پر مجبور ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207673"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکام نے بتایا کہ فوج اور ڈیزاسٹر ریلیف کے اہلکار دہلی میں سپریم کورٹ کے قریب نالے کے ایک ٹوٹے ہوئے ریگولیٹر کو ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جہاں سے پانی بہہ کر ایک اہم شاہراہ پر آرہا تھا۔</p>
<p>دہلی کے وزیر برائے آبپاشی و سیلاب کنٹرول سوربھ بھردواج نے کہا کہ ’پانی کو شہر میں جانے سے روکنے کے لیے ہم ایک ڈیم بنانے کی کوشش کر رہے ہیں، اس مقصد کے لیے بوریوں کے ڈھیر لگائے جارہے ہیں۔</p>
<p>ٹیلی ویژن فوٹیج میں دکھایا گیا ہے کہ دن کے اوائل میں تاریخی لال قلعہ کی دیواروں کو پانی نے گھیر لیا ہے جبکہ کئی مقامات پر پر ٹرک اور بسیں خالی کھڑی ہیں، صرف ان کی ونڈ شیلڈز اور چھتیں پانی کے اوپر دکھائی دے رہی ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/15140850c464ce2.jpg'  alt=' تاریخی لال قلعہ کی دیواروں کو پانی نے گھیر لیا ہے &mdash;تصویر: اے ایف پی ' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تاریخی لال قلعہ کی دیواروں کو پانی نے گھیر لیا ہے —تصویر: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>پولیس نے شہر میں پانی میں ڈوب کر 3 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی ہے۔</p>
<p>بھارت کے بانی رہنما مہاتما گاندھی کی آخری یادگار راج گھاٹ کے آس پاس کی سڑکیں بھی ڈوب گئیں جبکہ کچھ پانی میموریل ایریا میں بھی داخل ہو گیا۔</p>
<p>دہلی کے وزیراعلی اروند کیجریوال نے کہا کہ دریا میں پانی کی سطح میں کچھ کمی کے ساتھ جمعرات کو بند کیے گئے شہر کے تین واٹر ٹریٹمنٹ پلانٹس میں سے ایک نے دوبارہ کام شروع کر دیا، جس سے پانی کی کچھ فراہمی بحال ہوئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207322"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اروند کیجریوال نے مزید کہا کہ شہر کے مرکزی علاقے میں ایک بیراج پر، فوج اور بحریہ کے اہلکار پانچ جام شدہ دروازوں کو دوبارہ کھولنے کے لیے کام کر رہے تھے جو دریا کے بہاؤ کو متاثر کر رہے تھے۔</p>
<p>یکم جون سے شروع ہونے والے اس مون سون سیزن کے دوران دہلی میں معمول سے 91 فیصد زیادہ بارش ریکارڈ کی گئی ۔</p>
<p>بھارت کے محکمہ موسمیات کے مطابق جولائی میں اب تک 309 ملی میٹر بارش ہو چکی ہے، جو کہ کم از کم 12 سال کے عرصے میں اس مہینے کی تیسری سب سے بڑی مقدار ہے۔</p>
<p>شہر کے آئی ٹی او ایریا میں پولیس ہیڈ کوارٹرز سمیت کئی نجی اور سرکاری دفاتر بھی سیلاب کی زد میں آ گئے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207721</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Jul 2023 14:39:22 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/15140824c727695.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/15140824c727695.jpg"/>
        <media:title>سیلاب کے باعث بھارتی دارالحکومت کے کچھ حصوں میں ٹریفک معطل ہے—تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
