<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 21 Apr 2026 05:52:41 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 21 Apr 2026 05:52:41 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>استحکام پاکستان پارٹی کے عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال وفاقی کابینہ کا حصہ رہیں گے، ترجمان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207735/</link>
      <description>&lt;p&gt;استحکام پاکستان پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے رہنما عون چوہدری اور نعمان احمد لنگڑیال وفاقی کابینہ میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پارٹی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پارٹی چیئرمین جہانگیر ترین کی سربراہی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے اور متحد و مستحکم رکھنے کے لیے دونوں رہنما عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال حکومت کی مدت ختم ہونے تک وفاقی کابینہ کا حصہ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/Dr_FirdousAwan/status/1680150365273198592"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال بالترتیب وزیر اعظم کے مشیر برائے کھیل اور سیاحت اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اس سے قبل استحکام پاکستان پارٹی کے صدر نے دونوں معاونین کو مستعفی ہونے کی ہدایات دی تھیں جس پر انہوں نے اپنے استعفے جہانگیر ترین جمع کرا دیے تھے کیونکہ استحکام پاکستان پارٹی کا پی ڈی ایم حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205835"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تاہم آئی ایم ایف سے معاہدے اور موجودہ ملکی سیاسی و معاشی حالات کی وجہ سے باہمی مشاورت اور رجامندی سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے دونوں معاونین حکومت کی مدت پوری ہونے تک کابینہ اک حصہ رہیں گے اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چوہدری کو گزشتہ سال اپریل میں اس وقت وزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا جب وزیر اعظم شہباز شریف کی 37 رکنی کابینہ نے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو ہٹانے کے بعد حلف اٹھایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;فروری تک وفاقی کابینہ کے اراکین کی کل تعداد 85 تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="استحکام-پاکستان-پارٹی-کے-قیام-کا-اعلان" href="#استحکام-پاکستان-پارٹی-کے-قیام-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کا اعلان&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;استحکام پاکستان پارٹی میں عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال سمیت پی ٹی آئی چھوڑ کر آنے والے متعدد رہنماؤں نے شمولیت اختیار کی تھی اور 9 مئی کے مظاہروں پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد گزشتہ ماہ اس کا باضابطہ طور پر قیام عمل میں آیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں القادر ٹرسٹ کیس میں رینجرز کی مدد سے قومی احتساب بیورو کی جانب سے عمران کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205596"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی حراست کے خلاف ربدترین ردعمل دیکھنے میں آیا تھا اور کچھ عناصر نے فوجی تنصیبات سمیت سرکاری اور نجی املاک کے ساتھ توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بعد سے پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا اور متعدد رہنماؤں کو اس احتجاج کی منصوبہ بندی، اسے انجام دینے اور توڑ پھوڑ کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان میں سے بہت سے لوگوں نے رہائی کے فوراً بعد پارٹی سے علیحدگی اور لاتعلقی کا اعلان کیا اور استحکام پاکستان پارٹی کے سرپرست اعلیٰ جہانگیر خان ترین سے ہاتھ ملا لیا جو پی ٹی آئی میں منحرف ہونے والوں کے ایک گروپ کی قیادت کرنے سے قبل عمران کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ماہ لاہور میں استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کے باضابطہ اعلان کے موقع پر جہانگیر ترین کے ساتھ اس تقریب میں پی ٹی آئی کے کئی سابق رہنما بھی موجود تھے جن میں سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل، پی ٹی آئی کے سابق فنانسر علیم خان، آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم تنویر الیاس، سابق وزرا عامر کیانی، فواد چوہدری علی زیدی، فیاض الحسن چوہان، فردوس عاشق اعوان، سعید اکبر نوانی، مراد راس اور نعمان لنگڑیال سمیت دیگر شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>استحکام پاکستان پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ اس کے رہنما عون چوہدری اور نعمان احمد لنگڑیال وفاقی کابینہ میں اپنی خدمات جاری رکھیں گے۔</p>
<p>پارٹی ترجمان فردوس عاشق اعوان نے ایک ٹوئٹ میں کہا کہ پارٹی چیئرمین جہانگیر ترین کی سربراہی میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو مشکلات سے نکالنے اور متحد و مستحکم رکھنے کے لیے دونوں رہنما عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال حکومت کی مدت ختم ہونے تک وفاقی کابینہ کا حصہ رہیں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/Dr_FirdousAwan/status/1680150365273198592"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال بالترتیب وزیر اعظم کے مشیر برائے کھیل اور سیاحت اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اس سے قبل استحکام پاکستان پارٹی کے صدر نے دونوں معاونین کو مستعفی ہونے کی ہدایات دی تھیں جس پر انہوں نے اپنے استعفے جہانگیر ترین جمع کرا دیے تھے کیونکہ استحکام پاکستان پارٹی کا پی ڈی ایم حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205835"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>فردوس عاشق اعوان نے کہا کہ تاہم آئی ایم ایف سے معاہدے اور موجودہ ملکی سیاسی و معاشی حالات کی وجہ سے باہمی مشاورت اور رجامندی سے فیصلہ کیا گیا ہے کہ ملک کو عدم استحکام سے بچانے کے لیے دونوں معاونین حکومت کی مدت پوری ہونے تک کابینہ اک حصہ رہیں گے اور ملکی تعمیر و ترقی میں اپنا حصہ ڈالتے رہیں گے۔</p>
<p>چوہدری کو گزشتہ سال اپریل میں اس وقت وزیر اعظم کا مشیر مقرر کیا گیا تھا جب وزیر اعظم شہباز شریف کی 37 رکنی کابینہ نے پی ٹی آئی کی سابقہ حکومت کو ہٹانے کے بعد حلف اٹھایا تھا۔</p>
<p>فروری تک وفاقی کابینہ کے اراکین کی کل تعداد 85 تھی۔</p>
<h1><a id="استحکام-پاکستان-پارٹی-کے-قیام-کا-اعلان" href="#استحکام-پاکستان-پارٹی-کے-قیام-کا-اعلان" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کا اعلان</h1>
<p>استحکام پاکستان پارٹی میں عون چوہدری اور نعمان لنگڑیال سمیت پی ٹی آئی چھوڑ کر آنے والے متعدد رہنماؤں نے شمولیت اختیار کی تھی اور 9 مئی کے مظاہروں پر سابق وزیر اعظم عمران خان کی پارٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کے بعد گزشتہ ماہ اس کا باضابطہ طور پر قیام عمل میں آیا تھا۔</p>
<p>اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے میں القادر ٹرسٹ کیس میں رینجرز کی مدد سے قومی احتساب بیورو کی جانب سے عمران کی گرفتاری کے بعد 9 مئی کو ملک بھر میں مظاہرے پھوٹ پڑے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1205596"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کی حراست کے خلاف ربدترین ردعمل دیکھنے میں آیا تھا اور کچھ عناصر نے فوجی تنصیبات سمیت سرکاری اور نجی املاک کے ساتھ توڑ پھوڑ بھی کی تھی۔</p>
<p>اس کے بعد سے پی ٹی آئی کے خلاف کریک ڈاؤن کا سلسلہ شروع ہوا اور متعدد رہنماؤں کو اس احتجاج کی منصوبہ بندی، اسے انجام دینے اور توڑ پھوڑ کے الزامات پر گرفتار کیا گیا۔</p>
<p>ان میں سے بہت سے لوگوں نے رہائی کے فوراً بعد پارٹی سے علیحدگی اور لاتعلقی کا اعلان کیا اور استحکام پاکستان پارٹی کے سرپرست اعلیٰ جہانگیر خان ترین سے ہاتھ ملا لیا جو پی ٹی آئی میں منحرف ہونے والوں کے ایک گروپ کی قیادت کرنے سے قبل عمران کے قریبی ساتھیوں میں شمار کیے جاتے تھے۔</p>
<p>گزشتہ ماہ لاہور میں استحکام پاکستان پارٹی کے قیام کے باضابطہ اعلان کے موقع پر جہانگیر ترین کے ساتھ اس تقریب میں پی ٹی آئی کے کئی سابق رہنما بھی موجود تھے جن میں سندھ کے سابق گورنر عمران اسماعیل، پی ٹی آئی کے سابق فنانسر علیم خان، آزاد کشمیر کے سابق وزیر اعظم تنویر الیاس، سابق وزرا عامر کیانی، فواد چوہدری علی زیدی، فیاض الحسن چوہان، فردوس عاشق اعوان، سعید اکبر نوانی، مراد راس اور نعمان لنگڑیال سمیت دیگر شامل ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207735</guid>
      <pubDate>Sat, 15 Jul 2023 21:26:53 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/15203051b658719.png?r=203633" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/15203051b658719.png?r=203633"/>
        <media:title>استحکام پاکستان پارٹی نے نعمان لنگڑیال اور عون چوہدری کو وفاقی کابینہ میں ذمے داریاں جاری رکھنے کی ہدایت کی ہے— فائل فوٹوز: ڈان نیوز/ ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
