<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Opinions</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 20:56:50 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 20:56:50 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>’مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں میں مثبت کردار بھی ادا کرسکتی ہے‘</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1207886/</link>
      <description>&lt;p&gt;اگر مصنوعی ذہانت کے پاس ضمیر یا احساسات ہوتے تو اب تک ہم اپنے عجیب سوالات اور گرامر کی غلطیوں سے اسے ناراض کر چکے ہوتے۔ تصور کیجیے کہ آپ ایک انتہائی عقلمند شے سے مدد طلب کریں اور وہ آپ کو طنزیہ انداز میں جواب دے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کا دانشمندانہ استعمال کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تو آئیے ایک ایسے موضوع پر روشنی ڈالتے ہیں جس کی گونج آج ہمیں ہر جگہ سنائی دے رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ہم انسانی تخلیقات اور مشین لرننگ کی صلاحیتوں کے درمیان ہم آہنگی کا کوئی نقطہ تلاش کرسکتے ہیں؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں تخلیقی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ہوسکے۔ آج کی دنیا میں ہر چیز ممکن ہے اور تخلیقی دنیا خصوصاً اشتہارات کی دنیا کو مصنوعی ذہانت نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسٹوری بورڈنگ سے لےکر اسکرپٹ رائٹنگ تک، تخلیقی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم آلہ بن چکی ہے۔ لیکن اس سب پر بات کرنے سے پہلے، میں اس دور کی تعریف ضرور کرنا چاہوں گا جس میں آج ہم سب رہ رہے ہیں۔ یہ کیا شاندار دور ہے! ہم میں سے وہ لوگ جن کی پیدائش 1980ء اور 1990ء کی دہائی کی ہے، ان لوگوں نے ٹیکنالوجی دنیا میں شاندار ارتقا دیکھا ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا انقلاب ہے جو مختلف شعبوں میں ہمارے رویوں، روایات اور عادات کو تشکیل دیتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/181355306caff30.jpg?r=135534'  alt='تخلیقی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم آلہ بن چکی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;تخلیقی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم آلہ بن چکی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ظاہر ہے طاقت کے ساتھ ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ اس لیے یہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے کہ ہم صحیح اور غلط کے درمیان کس طرح فرق کریں۔ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب اسمارٹ فونز ہماری زندگیوں میں شامل ہوئے تھے؟ کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں اس کا استعمال اس حد تک بڑھ جائے گا اور یہ کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ اب گوگل میپس جیسے دیگر سیٹلائٹ نقشوں کا بھی ہماری زندگیوں میں عمل دخل کتنا بڑھا چکا ہے۔ یوں گمان ہوتا ہے جیسے ہم نے رہنمائی کا کام بھی اب ٹیکنالوجی پر چھوڑ دیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ انقلاب انسانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں میں مثبت کردار بھی ادا کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر تصور کریں کہ آپ کے پاس کام کرنے کے لیے آئرن مین کے جاروس جیسا کوئی پروگرام ہے۔ آپ ٹونی اسٹارک کی طرح خود کو بااختیار تصور کرنے لگیں گے کیونکہ جاروس آپ کے خیالات کو فوری طور پر حقیقت کا روپ دے رہا ہوگا۔ آپ مصنوعی ذہانت کو کمانڈ دیتے ہوئے اس کی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے اپنی پوری توانائی اور تخیل کو استعمال کریں گے۔ نظری طور پر آپ کے شعبے میں جو کچھ بھی ممکن ہوگا آپ اس کا استعمال کرنا چاہیں گے۔ تو ہم تخیلقی شعبوں جیسے اسکرپٹ رائٹنگ، آئیڈیئشن اور اسٹوری بورڈنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایسا محسوس کیوں نہیں کرتے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بات کرتے ہیں اشتہارات کی اور یہ کہ کیسے مصنوعی ذہانت نے اس شعبے میں انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ مصنوعی ذہانت کو ایک جاندار اور کبھی نہ تھکنے والا رفیقِ کار سمجھیے جوکہ اپنے شاندار خیالات اور تخیلات کا سہرا اپنے سر کبھی نہیں لیتا۔ جب آپ نے اپنے اسٹوری بورڈ آرٹسٹ سے بات چیت کرنی ہو تو وہی گفتگو آپ مصنوعی ذہانت سے بھی کیجیے۔ اس میں بھی اسٹوری بورڈ آرٹسٹ بننے کی صلاحیت ہے جو بہت تیزی سے کام کرتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آپ جب تک اس کے تخلیق کردہ مواد سے مطمئن نہیں ہوتے تب تک یہ آپ کے لیے کام کرتا رہے گا۔ لیکن پھر یہاں ایک اہم نکتہ اٹھا ہے اور وہ ہے ایک توازن پیدا کرنا۔ جیسے ہم نے ماضی میں انسانی مہارت کو بھلا کر مشینوں پر انحصار کرنا شروع کیا، کوشش کرنی چاہیے کہ دیگر طاقتور ٹیکنالوجیز کے ساتھ اب ہم اپنی پرانی غلطیاں نہ دہرائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ہم مصنوعی ذہانت سے متاثر ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انسانوں کو اس میں خود بھی حصہ لینا چاہیے کیونکہ اشتہارات کی دنیا میں صارفین ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے لیے رقم ادا کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں ایک ایسا مستقبل ہمارا منتظر ہوگا جہاں السٹریٹرز اور آرٹسٹ نہیں ہوں گے جوکہ انسانیت کا بڑا نقصان ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خوش قسمتی سے ایسی قومیں ہیں جو اس توازن کو قائم کرنے کے لیے دانش مندانہ اقدامات اٹھارہی ہیں۔ ایک طرف جہاں دنیا کے کچھ ممالک میں آڈیو اور ویژول مواد نے ہمیں کتابیں پڑھنے سے دور کردیا ہے وہاں مغرب کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کتاب پڑھنے کی روایت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی کتابوں کے لاکھوں نسخے تو  کتاب کے مارکیٹ میں آتے ہی فروخت ہوجاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/181357532a2bdec.jpg?r=140118'  alt='ہم مصنوعی ذہانت سے متاثر ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انسانوں کو اس میں اپنا حصہ بھی ڈالنا چاہیے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;ہم مصنوعی ذہانت سے متاثر ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انسانوں کو اس میں اپنا حصہ بھی ڈالنا چاہیے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیالات کی تخلیق اور اسکرپٹ رائٹنگ ایسے شعبہ جات ہیں جہاں ہم نے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کو مددگار پایا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسکرپٹ رائٹرز نئے خیالات تخیلق کرسکتے ہیں اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لینگویج ایلگورتھمز کے استعمال سے اپنی اسکرپٹ، رفتار اور لکھنے کے طریقے کار پر تجزیہ لینے کے لیے آپ مصنوعی ذہانت کو اپنا رفیقِ کار سمجھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ یاد رکھیں کہ آپ ایگزیکٹو رائٹر ہیں اور تخلیق کردہ مواد کے آپ براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ مصنوعی ذہانت صرف بہتر اور تیزی سے  وسائل مہیا کرنے میں آپ کی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ جب آپ مصنوعی ذہانت کے ساتھ رفیقِ کار والا رویہ اپناتے ہیں تو یہ آپ کے لیے چند منٹوں میں لاتعداد کام سرانجام دیتی ہے۔ یہ آپ کی کہانی کے لیے ایک بہترین نقطہ پیش کرتا ہے جس کی مدد سے آپ اسے مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اور اسے مؤثر طریقے سے بروئے کار لاسکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹرنیٹ پر متعدد مماثل موضوعات پر موجود مواد کا تجزیہ کرکے یہ کرداروں کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ رائٹرز بلاک  (اگر یہ واقعی موجود ہے) کو قابو میں رکھنے میں مدد کرسکتا ہے اور خیالات کی تشکیل کے لیے ایک بہترین اور غیرجاندار ساتھی بن سکتا ہے۔ مزید برآں کہانیوں کی مخصوص صنف یا فلموں کی ڈائریکشن کے طرز میں بھی مصنوعی ذہانت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب مصنوعی ذہانت کی دلچسپ دنیا کو مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں جس میں ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت موجود ہے۔ اس کی تازہ مثال آئی بی ایم کے واٹسن اشتہارات ہیں جن میں ٹویوٹا کمپنی کی اشتہاری مہم کو موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہے۔ صارفین کی ترجیحات، رویوں اور مفادات کا تجزیہ کرکے مصنوعی ذہانت نے ہر صارف کے اعتبار سے مخصوص اشتہارات کو تخلیق کیا۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا سامنے آیا؟ ٹویوٹا نے صارفین کی دلچسپی میں 500 فیصد کا حیرت انگیز اضافہ دیکھا۔ یہ ہے اشتہارات کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا اثر!&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/DCeeQodpKGQ?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب میکڈونلڈز کی مومنٹس آف جوئے نامی اشتہاری مہم کو بھی یاد کرتے چلیں جس میں آے آئی ایلگورتھم کی مدد لی گئی۔ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرکے اس ایلگورتھم نے ایک ہزار سے زائد طرح کے اشتہارات تخیلق کیے جن میں میکڈونلڈز کے صارفین کے خوشی کے لمحات اور ان کے تجربے کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس خصوصی طریقے کی وجہ سے میکڈونلڈز میں صارفین کی دلچسپی میں 70 فیصد تک کا اضافہ ہوا اور ایڈ ریکال (ذہن میں محفوظ رہ جانے والے اشتہارات) میں 60 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/ptgVqJ6Bf00?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سنیما کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے شاندار استعمال کی مثال ہمیں فلم ’سن سپرنگ‘ میں ملتی ہے۔ یہ فلم اینڈ کیو نے پروڈیوس کی جس میں اسکرپٹ کی تخیلق میں مصنوعی ذہانت کی معاونت حاصل کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں سائنس فکشن اسکرپٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد اے آئی ایلگورتھم نے ایک اوریجنل اسکرین پلے تخلیق کیا جوکہ اس فلم کی بنیاد ہے۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس میں ناکام رہی لیکن اس نے اسکرپٹ رائٹنگ کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ کیا معلوم آئندہ چند برسوں میں ہولی وڈ کا اگلا تخلیقی ماہر مصنوعی ذہانت ہو۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگر ہم میوزک کی بات کریں تو اس معاملے میں اسپوٹیفائی کا نام سامنے آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسپوٹیفائی ایسے اشتہارات بناتا ہے جن میں سامعین کے ذوق کے مطابق ہی گانوں کو ترتیب دیا گیا ہوتا ہے۔ صارفین کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے اس کے اشتہارات میں ان کے پسندیدہ گانے اور گلوکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ایڈ ریکال میں 20 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے جبکہ برینڈ کی آگاہی بھی 14 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/181349475c64d27.jpg'  alt='سامعین کے ذوق کے مطابق مصنوعی ذہانت اسپوٹیفائی کے لیے اشتہارات بناتی ہے' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سامعین کے ذوق کے مطابق مصنوعی ذہانت اسپوٹیفائی کے لیے اشتہارات بناتی ہے&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیسے جیسے ہم مستقبل کی جانب جارہے ہیں، ہم تخلیقی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے مزید جدید استعمال کی توقع کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم اپنی آسانی اور مصنوعی ذہانت کی لامحدود صلاحیت کے درمیان توازن قائم کریں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر طرح سے مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ کریں کیونکہ اس سے ہم آہستہ آہستہ انسانی صلاحیتوں کو کھو دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پروفیشنل شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے حوالے سے اہم خدشات میں سے ایک ممکنہ طور پرملازمتوں کا خاتمہ بھی ہے۔ یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ انسانوں میں صلاحیت اور مہارت پیدا کرنے کو ترجیح بنایا جائے جس کا مصنوعی ذہانت ہرگز متبادل نہیں ہے۔ اور کیا پتا ہے کہ شاید ہمیں مستقبل میں نوکریوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔&lt;/p&gt;
&lt;hr /&gt;
&lt;p&gt;یہ &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aurora.dawn.com/news/1144811/mad-men-vs-mad-machines?fbclid=IwAR1sed3HyiZHwYngEVgfs_yH6t5JqPtWc9iBHqbDRX5txmLbesuI_YP1oKY"&gt;مضمون&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; 14 جولائی 2023ء کو ڈان اورورا میں شائع ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>اگر مصنوعی ذہانت کے پاس ضمیر یا احساسات ہوتے تو اب تک ہم اپنے عجیب سوالات اور گرامر کی غلطیوں سے اسے ناراض کر چکے ہوتے۔ تصور کیجیے کہ آپ ایک انتہائی عقلمند شے سے مدد طلب کریں اور وہ آپ کو طنزیہ انداز میں جواب دے۔ کہنے کا مقصد یہ ہے کہ ہمیں اتنی طاقتور ٹیکنالوجی کا دانشمندانہ استعمال کرنا چاہیے۔</p>
<p>تو آئیے ایک ایسے موضوع پر روشنی ڈالتے ہیں جس کی گونج آج ہمیں ہر جگہ سنائی دے رہی ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ کیا ہم انسانی تخلیقات اور مشین لرننگ کی صلاحیتوں کے درمیان ہم آہنگی کا کوئی نقطہ تلاش کرسکتے ہیں؟</p>
<p>ایک ایسی دنیا کا تصور کیجیے جہاں تخلیقی صلاحیتوں اور ٹیکنالوجی کا ملاپ ہوسکے۔ آج کی دنیا میں ہر چیز ممکن ہے اور تخلیقی دنیا خصوصاً اشتہارات کی دنیا کو مصنوعی ذہانت نے ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اسٹوری بورڈنگ سے لےکر اسکرپٹ رائٹنگ تک، تخلیقی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم آلہ بن چکی ہے۔ لیکن اس سب پر بات کرنے سے پہلے، میں اس دور کی تعریف ضرور کرنا چاہوں گا جس میں آج ہم سب رہ رہے ہیں۔ یہ کیا شاندار دور ہے! ہم میں سے وہ لوگ جن کی پیدائش 1980ء اور 1990ء کی دہائی کی ہے، ان لوگوں نے ٹیکنالوجی دنیا میں شاندار ارتقا دیکھا ہے۔ یہ انسانی تاریخ میں ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا انقلاب ہے جو مختلف شعبوں میں ہمارے رویوں، روایات اور عادات کو تشکیل دیتا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/181355306caff30.jpg?r=135534'  alt='تخلیقی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم آلہ بن چکی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>تخلیقی ماہرین کے لیے مصنوعی ذہانت ایک اہم آلہ بن چکی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>لیکن ظاہر ہے طاقت کے ساتھ ساتھ بڑی ذمہ داریاں بھی آتی ہیں۔ اس لیے یہ ہمارے اختیار میں ہوتا ہے کہ ہم صحیح اور غلط کے درمیان کس طرح فرق کریں۔ کیا آپ کو وہ وقت یاد ہے جب اسمارٹ فونز ہماری زندگیوں میں شامل ہوئے تھے؟ کوئی یہ اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ لوگوں کی روزمرہ زندگیوں میں اس کا استعمال اس حد تک بڑھ جائے گا اور یہ کہ اس کے کیا اثرات ہوں گے۔ اب گوگل میپس جیسے دیگر سیٹلائٹ نقشوں کا بھی ہماری زندگیوں میں عمل دخل کتنا بڑھا چکا ہے۔ یوں گمان ہوتا ہے جیسے ہم نے رہنمائی کا کام بھی اب ٹیکنالوجی پر چھوڑ دیا ہے۔</p>
<p>ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ یہ انقلاب انسانوں کے خلاف نہیں ہے بلکہ مصنوعی ذہانت ہماری زندگیوں میں مثبت کردار بھی ادا کرسکتی ہے۔ مثال کے طور پر تصور کریں کہ آپ کے پاس کام کرنے کے لیے آئرن مین کے جاروس جیسا کوئی پروگرام ہے۔ آپ ٹونی اسٹارک کی طرح خود کو بااختیار تصور کرنے لگیں گے کیونکہ جاروس آپ کے خیالات کو فوری طور پر حقیقت کا روپ دے رہا ہوگا۔ آپ مصنوعی ذہانت کو کمانڈ دیتے ہوئے اس کی تمام صلاحیتوں کو استعمال کرنے کے لیے اپنی پوری توانائی اور تخیل کو استعمال کریں گے۔ نظری طور پر آپ کے شعبے میں جو کچھ بھی ممکن ہوگا آپ اس کا استعمال کرنا چاہیں گے۔ تو ہم تخیلقی شعبوں جیسے اسکرپٹ رائٹنگ، آئیڈیئشن اور اسٹوری بورڈنگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال پر ایسا محسوس کیوں نہیں کرتے؟</p>
<p>اب بات کرتے ہیں اشتہارات کی اور یہ کہ کیسے مصنوعی ذہانت نے اس شعبے میں انسانی صلاحیتوں کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ آپ مصنوعی ذہانت کو ایک جاندار اور کبھی نہ تھکنے والا رفیقِ کار سمجھیے جوکہ اپنے شاندار خیالات اور تخیلات کا سہرا اپنے سر کبھی نہیں لیتا۔ جب آپ نے اپنے اسٹوری بورڈ آرٹسٹ سے بات چیت کرنی ہو تو وہی گفتگو آپ مصنوعی ذہانت سے بھی کیجیے۔ اس میں بھی اسٹوری بورڈ آرٹسٹ بننے کی صلاحیت ہے جو بہت تیزی سے کام کرتا ہے۔</p>
<p>آپ جب تک اس کے تخلیق کردہ مواد سے مطمئن نہیں ہوتے تب تک یہ آپ کے لیے کام کرتا رہے گا۔ لیکن پھر یہاں ایک اہم نکتہ اٹھا ہے اور وہ ہے ایک توازن پیدا کرنا۔ جیسے ہم نے ماضی میں انسانی مہارت کو بھلا کر مشینوں پر انحصار کرنا شروع کیا، کوشش کرنی چاہیے کہ دیگر طاقتور ٹیکنالوجیز کے ساتھ اب ہم اپنی پرانی غلطیاں نہ دہرائیں۔</p>
<p>ہم مصنوعی ذہانت سے متاثر ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انسانوں کو اس میں خود بھی حصہ لینا چاہیے کیونکہ اشتہارات کی دنیا میں صارفین ہماری تخلیقی صلاحیتوں کے لیے رقم ادا کرتے ہیں۔ دوسری صورت میں ایک ایسا مستقبل ہمارا منتظر ہوگا جہاں السٹریٹرز اور آرٹسٹ نہیں ہوں گے جوکہ انسانیت کا بڑا نقصان ہوگا۔</p>
<p>خوش قسمتی سے ایسی قومیں ہیں جو اس توازن کو قائم کرنے کے لیے دانش مندانہ اقدامات اٹھارہی ہیں۔ ایک طرف جہاں دنیا کے کچھ ممالک میں آڈیو اور ویژول مواد نے ہمیں کتابیں پڑھنے سے دور کردیا ہے وہاں مغرب کے کچھ ممالک ایسے بھی ہیں جہاں کتاب پڑھنے کی روایت کو فروغ دیا جارہا ہے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ کئی کتابوں کے لاکھوں نسخے تو  کتاب کے مارکیٹ میں آتے ہی فروخت ہوجاتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/181357532a2bdec.jpg?r=140118'  alt='ہم مصنوعی ذہانت سے متاثر ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انسانوں کو اس میں اپنا حصہ بھی ڈالنا چاہیے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>ہم مصنوعی ذہانت سے متاثر ضرور ہوسکتے ہیں لیکن انسانوں کو اس میں اپنا حصہ بھی ڈالنا چاہیے</figcaption>
    </figure></p>
<p>خیالات کی تخلیق اور اسکرپٹ رائٹنگ ایسے شعبہ جات ہیں جہاں ہم نے بڑے پیمانے پر مصنوعی ذہانت کو مددگار پایا ہے۔ مصنوعی ذہانت کے استعمال سے اسکرپٹ رائٹرز نئے خیالات تخیلق کرسکتے ہیں اور اپنی تحریری صلاحیتوں کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ لینگویج ایلگورتھمز کے استعمال سے اپنی اسکرپٹ، رفتار اور لکھنے کے طریقے کار پر تجزیہ لینے کے لیے آپ مصنوعی ذہانت کو اپنا رفیقِ کار سمجھیں۔</p>
<p>یہ یاد رکھیں کہ آپ ایگزیکٹو رائٹر ہیں اور تخلیق کردہ مواد کے آپ براہِ راست ذمہ دار ہیں۔ مصنوعی ذہانت صرف بہتر اور تیزی سے  وسائل مہیا کرنے میں آپ کی مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔ جب آپ مصنوعی ذہانت کے ساتھ رفیقِ کار والا رویہ اپناتے ہیں تو یہ آپ کے لیے چند منٹوں میں لاتعداد کام سرانجام دیتی ہے۔ یہ آپ کی کہانی کے لیے ایک بہترین نقطہ پیش کرتا ہے جس کی مدد سے آپ اسے مختلف زاویوں سے دیکھ سکتے ہیں اور اسے مؤثر طریقے سے بروئے کار لاسکتے ہیں۔</p>
<p>انٹرنیٹ پر متعدد مماثل موضوعات پر موجود مواد کا تجزیہ کرکے یہ کرداروں کی تشکیل میں بھی معاون ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ رائٹرز بلاک  (اگر یہ واقعی موجود ہے) کو قابو میں رکھنے میں مدد کرسکتا ہے اور خیالات کی تشکیل کے لیے ایک بہترین اور غیرجاندار ساتھی بن سکتا ہے۔ مزید برآں کہانیوں کی مخصوص صنف یا فلموں کی ڈائریکشن کے طرز میں بھی مصنوعی ذہانت مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔</p>
<p>اب مصنوعی ذہانت کی دلچسپ دنیا کو مزید تفصیل سے دیکھتے ہیں جس میں ڈیٹا کا تجزیہ کرنے کی غیرمعمولی صلاحیت موجود ہے۔ اس کی تازہ مثال آئی بی ایم کے واٹسن اشتہارات ہیں جن میں ٹویوٹا کمپنی کی اشتہاری مہم کو موثر بنانے کے لیے مصنوعی ذہانت کا استعمال کیا گیا ہے۔ صارفین کی ترجیحات، رویوں اور مفادات کا تجزیہ کرکے مصنوعی ذہانت نے ہر صارف کے اعتبار سے مخصوص اشتہارات کو تخلیق کیا۔ لیکن اس کا نتیجہ کیا سامنے آیا؟ ٹویوٹا نے صارفین کی دلچسپی میں 500 فیصد کا حیرت انگیز اضافہ دیکھا۔ یہ ہے اشتہارات کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کا اثر!</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/DCeeQodpKGQ?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اب میکڈونلڈز کی مومنٹس آف جوئے نامی اشتہاری مہم کو بھی یاد کرتے چلیں جس میں آے آئی ایلگورتھم کی مدد لی گئی۔ لاکھوں ڈیٹا پوائنٹس کا تجزیہ کرکے اس ایلگورتھم نے ایک ہزار سے زائد طرح کے اشتہارات تخیلق کیے جن میں میکڈونلڈز کے صارفین کے خوشی کے لمحات اور ان کے تجربے کی عکاسی کی گئی ہے۔ اس خصوصی طریقے کی وجہ سے میکڈونلڈز میں صارفین کی دلچسپی میں 70 فیصد تک کا اضافہ ہوا اور ایڈ ریکال (ذہن میں محفوظ رہ جانے والے اشتہارات) میں 60 فیصد کا غیرمعمولی اضافہ ہوا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/ptgVqJ6Bf00?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>سنیما کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کے شاندار استعمال کی مثال ہمیں فلم ’سن سپرنگ‘ میں ملتی ہے۔ یہ فلم اینڈ کیو نے پروڈیوس کی جس میں اسکرپٹ کی تخیلق میں مصنوعی ذہانت کی معاونت حاصل کی گئی۔ ہزاروں کی تعداد میں سائنس فکشن اسکرپٹس کا تجزیہ کرنے کے بعد اے آئی ایلگورتھم نے ایک اوریجنل اسکرین پلے تخلیق کیا جوکہ اس فلم کی بنیاد ہے۔ اگرچہ یہ فلم باکس آفس میں ناکام رہی لیکن اس نے اسکرپٹ رائٹنگ کی دنیا میں مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کی بھرپور عکاسی کی ہے۔ کیا معلوم آئندہ چند برسوں میں ہولی وڈ کا اگلا تخلیقی ماہر مصنوعی ذہانت ہو۔</p>
<p>اگر ہم میوزک کی بات کریں تو اس معاملے میں اسپوٹیفائی کا نام سامنے آتا ہے۔ مصنوعی ذہانت کی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے اسپوٹیفائی ایسے اشتہارات بناتا ہے جن میں سامعین کے ذوق کے مطابق ہی گانوں کو ترتیب دیا گیا ہوتا ہے۔ صارفین کے ڈیٹا کا استعمال کرتے ہوئے اس کے اشتہارات میں ان کے پسندیدہ گانے اور گلوکار ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ایڈ ریکال میں 20 فیصد تک کا اضافہ ہوا ہے جبکہ برینڈ کی آگاہی بھی 14 فیصد تک بڑھ چکی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/07/181349475c64d27.jpg'  alt='سامعین کے ذوق کے مطابق مصنوعی ذہانت اسپوٹیفائی کے لیے اشتہارات بناتی ہے' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سامعین کے ذوق کے مطابق مصنوعی ذہانت اسپوٹیفائی کے لیے اشتہارات بناتی ہے</figcaption>
    </figure></p>
<p>جیسے جیسے ہم مستقبل کی جانب جارہے ہیں، ہم تخلیقی صنعت میں مصنوعی ذہانت کے مزید جدید استعمال کی توقع کرسکتے ہیں مگر اس کے لیے شرط یہ ہے کہ ہم اپنی آسانی اور مصنوعی ذہانت کی لامحدود صلاحیت کے درمیان توازن قائم کریں۔ یہ ضروری ہے کہ ہر طرح سے مصنوعی ذہانت پر ضرورت سے زیادہ انحصار نہ کریں کیونکہ اس سے ہم آہستہ آہستہ انسانی صلاحیتوں کو کھو دیں گے۔</p>
<p>پروفیشنل شعبہ جات میں مصنوعی ذہانت کے نفاذ کے حوالے سے اہم خدشات میں سے ایک ممکنہ طور پرملازمتوں کا خاتمہ بھی ہے۔ یہ صرف وقت ہی بتائے گا کہ صورتحال کیا رخ اختیار کرتی ہے لیکن ایک بات واضح ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ انسانوں میں صلاحیت اور مہارت پیدا کرنے کو ترجیح بنایا جائے جس کا مصنوعی ذہانت ہرگز متبادل نہیں ہے۔ اور کیا پتا ہے کہ شاید ہمیں مستقبل میں نوکریوں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔</p>
<hr />
<p>یہ <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://aurora.dawn.com/news/1144811/mad-men-vs-mad-machines?fbclid=IwAR1sed3HyiZHwYngEVgfs_yH6t5JqPtWc9iBHqbDRX5txmLbesuI_YP1oKY">مضمون</a></strong> 14 جولائی 2023ء کو ڈان اورورا میں شائع ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Opinions</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1207886</guid>
      <pubDate>Wed, 19 Jul 2023 17:03:51 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسرار عالم)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/1813340465369b1.jpg?r=115507" type="image/jpeg" medium="image" height="449" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/1813340465369b1.jpg?r=115507"/>
        <media:title/>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
