<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 10:42:03 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 10:42:03 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فروری تا جون کے درمیان 2 لاکھ 15 ہزار ٹن چینی برآمد کی گئی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208046/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق ملک نے گزشتہ مالی سال 2023 میں فروری تا جون کے  دوران 2 لاکھ 15 ہزار 752 ٹن چینی برآمد کی، جبکہ اس سے پچھلے برس بیرون ملک اس کی فروخت صفر تھی، جس کے سبب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1765718/215752-tonnes-of-sugar-exported-in-fy23"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق چینی کی صنعت مارچ 2022 سے فاضل چینی کی برآمدات کی اجازت کا مطالبہ کررہی تھی، اس وقت مارکیٹ میں فی کلو چینی کی قیمت 80 سے 85 روپے تھی، تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت نے رواں برس فروری میں برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ فیصلہ اتحادی جماعتوں، خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبات کے ردعمل میں کیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صرف فروری میں 42 ہزار 434 ٹن چینی برآمد کی گئی، جس کی اگلے مہینے مقدار تین گنا بڑھ کر ایک لاکھ 29 ہزار 746 ٹن ہو گئی تھی، اپریل میں چینی کی برآمدات 40 ہزار 716 ٹن رہی، اس کے بعد اس رجحان میں کمی دیکھی گئی اور مئی میں ایک ہزار 893 اور جون میں 963 ٹن چینی برآمد کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بڑی مقدار میں برآمدات کے باعث مقامی مارکیٹ میں چینی کی خوردہ قیمت بڑے اضافے کے بعد 150 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ آنے والے مہینوں میں اس کی قیمت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شوگر مل مالکان، خاص طور پر پی ڈی ایم میں شامل سیاسی خاندانوں نے فروری تا جون کے درمیان 29 ارب 10 کروڑ روپے (10 کروڑ 45 لاکھ ڈالر) آمدنی حاصل کی ہے، جس کے سبب صارفین کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا اور انہیں ڈبل قیمت پر چینی خریدنی پڑی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزارت تجارت کے مطابق چینی کی کھپت 50 لاکھ ٹن سے زائد ہے، اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک روپے فی کلو بھی اضافہ ہوتا ہے تو 5 ارب روپے صارفین کی جیبوں سے منتقل ہو جاتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چینی کی درآمدات مالی سال 2023 کے دوران 98.01 فیصد کمی کے بعد 6 ہزار 205 ٹن ریکارڈ کی گئی جبکہ  مالی سال 2022 کے دوران درآمدات 3 لاکھ 12 ہزار 477 ریکارڈ کی گئی تھیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان ادارہ شماریات (پی بی ایس) کے مطابق ملک نے گزشتہ مالی سال 2023 میں فروری تا جون کے  دوران 2 لاکھ 15 ہزار 752 ٹن چینی برآمد کی، جبکہ اس سے پچھلے برس بیرون ملک اس کی فروخت صفر تھی، جس کے سبب مقامی مارکیٹ میں چینی کی قیمت میں نمایاں اضافہ ہوا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1765718/215752-tonnes-of-sugar-exported-in-fy23"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق چینی کی صنعت مارچ 2022 سے فاضل چینی کی برآمدات کی اجازت کا مطالبہ کررہی تھی، اس وقت مارکیٹ میں فی کلو چینی کی قیمت 80 سے 85 روپے تھی، تاہم پاکستان مسلم لیگ (ن) کی زیر قیادت حکومت نے رواں برس فروری میں برآمد کرنے کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>یہ فیصلہ اتحادی جماعتوں، خاص طور پر پاکستان پیپلز پارٹی کے مطالبات کے ردعمل میں کیا گیا۔</p>
<p>صرف فروری میں 42 ہزار 434 ٹن چینی برآمد کی گئی، جس کی اگلے مہینے مقدار تین گنا بڑھ کر ایک لاکھ 29 ہزار 746 ٹن ہو گئی تھی، اپریل میں چینی کی برآمدات 40 ہزار 716 ٹن رہی، اس کے بعد اس رجحان میں کمی دیکھی گئی اور مئی میں ایک ہزار 893 اور جون میں 963 ٹن چینی برآمد کی گئی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1192952"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بڑی مقدار میں برآمدات کے باعث مقامی مارکیٹ میں چینی کی خوردہ قیمت بڑے اضافے کے بعد 150 روپے فی کلو تک پہنچ چکی ہے جبکہ آنے والے مہینوں میں اس کی قیمت میں مزید اضافے کی توقع ہے۔</p>
<p>شوگر مل مالکان، خاص طور پر پی ڈی ایم میں شامل سیاسی خاندانوں نے فروری تا جون کے درمیان 29 ارب 10 کروڑ روپے (10 کروڑ 45 لاکھ ڈالر) آمدنی حاصل کی ہے، جس کے سبب صارفین کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا اور انہیں ڈبل قیمت پر چینی خریدنی پڑی۔</p>
<p>وزارت تجارت کے مطابق چینی کی کھپت 50 لاکھ ٹن سے زائد ہے، اس کا مطلب ہے کہ اگر ایک روپے فی کلو بھی اضافہ ہوتا ہے تو 5 ارب روپے صارفین کی جیبوں سے منتقل ہو جاتے ہیں۔</p>
<p>چینی کی درآمدات مالی سال 2023 کے دوران 98.01 فیصد کمی کے بعد 6 ہزار 205 ٹن ریکارڈ کی گئی جبکہ  مالی سال 2022 کے دوران درآمدات 3 لاکھ 12 ہزار 477 ریکارڈ کی گئی تھیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208046</guid>
      <pubDate>Thu, 20 Jul 2023 13:22:48 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/2013174080d9bea.jpg?r=131829" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/2013174080d9bea.jpg?r=131829"/>
        <media:title>شوگر مل مالکان نے فروری تا جون کے درمیان 29 ارب 10 کروڑ روپے کی آمدنی حاصل کی— فائل فوٹو: شٹر اسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
