<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 09:53:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 09:53:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کے گندم کے معاہدے کی تجدید، اردوان، پیوٹن کو قائل کرنے کیلئے پراُمید</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208151/</link>
      <description>&lt;p&gt;ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وہ بحیرہ اسود کے راستے یوکرین کو گندم کی برآمدات کے معاہدے کا دوبارہ حصہ بننے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق فی الحال روس اس معاہدے کی تجدید سے انکاری ہے لیکن ترک صدر کو امید ہے کہ وہ پیوٹن کو قائل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجب طیب اردوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ولادیمیر پیوٹن سے تفصیلی گفتگو کے دوران میں انہیں انسانی بنیادوں پر بنائی گئی راہداری کے راستے تجارت جاری رکھنے پر قائل کر لوں گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185359"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مغربی ممالک کو پیوٹن کی توقعات پر پورا اترنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ میں اس معاملے پر پیوٹن سے بات کروں گا جنہوں نے جولائی 2022 میں ترکیہ اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ استنبول میں ہونے والے معاہدے کی تجدید سے انکار کردیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ادھر روس نے شرط رکھی ہے کہ اگر ان کے تمام تر مطالبات مان لیے جاتے ہیں تو وہ اس معاہدے کی توسیع کے لیے تیار ہیں، جہاں اس معاہدے کی صورت میں یوکرین کے پورٹس پر موجود 3 کروڑ 30 لاکھ ٹن گندم برآمد کی جاسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے ان کی زرعی مصنوعات اور کھاد کی ترسیل کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رجب طیب اردوان نے آئندہ ماہ روسی صدر کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ولادیمیر پیوٹن اگست میں ترکیہ کا دورہ کرتے ہیں تو وہ دوبدو ملاقات میں گندم کے اس معاہدے پر گفتگو کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بحیرہ اسود کے راستے یوکرین جانے والے جہازوں کو ممکنہ جنگی جہاز اور ان پر جن ممالک کے جھنڈے لگے ہیں انہیں اس تمام تنازع میں فریق سمجھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں عالمی سطح پر گندم اور بُھٹے کے بحران سے قیمتوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس سے ہر کوئی متاثر ہوا ہے لیکن سب سے منفی اثرات پسماندہ طبقے پر پڑے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وہ سویڈن کی جانب سے کیے گئے عملی اقدامات کی روشنی میں ہی کوئی قدم اٹھائیں گے اور اس عمل سے سویڈن کی نیٹو رکنیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ماہ کے اوائل میں سویڈن کی نیٹو رکنیت ویٹو کرنے والے ترک صدر نے یہ پابندی ہٹا دی تھی اور کہا تھا کہ اکتوبر میں جب اراکین گرمیوں کی چھٹیوں سے واپس آئیں گے تو ترک پارلیمنٹ سویڈن کی رکنیت کی توثیق کردے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وہ بحیرہ اسود کے راستے یوکرین کو گندم کی برآمدات کے معاہدے کا دوبارہ حصہ بننے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>خبر رساں ایجنسی ’اے ایف پی‘ کے مطابق فی الحال روس اس معاہدے کی تجدید سے انکاری ہے لیکن ترک صدر کو امید ہے کہ وہ پیوٹن کو قائل کرنے میں کامیاب رہیں گے۔</p>
<p>رجب طیب اردوان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ میرا خیال ہے کہ ولادیمیر پیوٹن سے تفصیلی گفتگو کے دوران میں انہیں انسانی بنیادوں پر بنائی گئی راہداری کے راستے تجارت جاری رکھنے پر قائل کر لوں گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1185359"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مغربی ممالک کو پیوٹن کی توقعات پر پورا اترنے کی تلقین کرتے ہوئے کہا کہ میں اس معاملے پر پیوٹن سے بات کروں گا جنہوں نے جولائی 2022 میں ترکیہ اور اقوام متحدہ کی ثالثی میں یوکرین کے ساتھ استنبول میں ہونے والے معاہدے کی تجدید سے انکار کردیا ہے۔</p>
<p>ادھر روس نے شرط رکھی ہے کہ اگر ان کے تمام تر مطالبات مان لیے جاتے ہیں تو وہ اس معاہدے کی توسیع کے لیے تیار ہیں، جہاں اس معاہدے کی صورت میں یوکرین کے پورٹس پر موجود 3 کروڑ 30 لاکھ ٹن گندم برآمد کی جاسکے گی۔</p>
<p>روس کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کی وجہ سے ان کی زرعی مصنوعات اور کھاد کی ترسیل کا عمل بھی بری طرح متاثر ہوا ہے۔</p>
<p>رجب طیب اردوان نے آئندہ ماہ روسی صدر کے دورے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ اگر ولادیمیر پیوٹن اگست میں ترکیہ کا دورہ کرتے ہیں تو وہ دوبدو ملاقات میں گندم کے اس معاہدے پر گفتگو کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1207440"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>روس نے بدھ کو ایک بیان میں کہا تھا کہ وہ بحیرہ اسود کے راستے یوکرین جانے والے جہازوں کو ممکنہ جنگی جہاز اور ان پر جن ممالک کے جھنڈے لگے ہیں انہیں اس تمام تنازع میں فریق سمجھتے ہیں۔</p>
<p>اقوام متحدہ نے بدھ کو جاری اپنے بیان میں عالمی سطح پر گندم اور بُھٹے کے بحران سے قیمتوں پر مرتب ہونے والے منفی اثرات پر تشویش کا اظہار کیا تھا، جس سے ہر کوئی متاثر ہوا ہے لیکن سب سے منفی اثرات پسماندہ طبقے پر پڑے ہیں۔</p>
<p>دوسری جانب رجب طیب اردوان نے کہا ہے کہ وہ سویڈن کی جانب سے کیے گئے عملی اقدامات کی روشنی میں ہی کوئی قدم اٹھائیں گے اور اس عمل سے سویڈن کی نیٹو رکنیت کی راہ ہموار ہو جائے گی۔</p>
<p>رواں ماہ کے اوائل میں سویڈن کی نیٹو رکنیت ویٹو کرنے والے ترک صدر نے یہ پابندی ہٹا دی تھی اور کہا تھا کہ اکتوبر میں جب اراکین گرمیوں کی چھٹیوں سے واپس آئیں گے تو ترک پارلیمنٹ سویڈن کی رکنیت کی توثیق کردے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208151</guid>
      <pubDate>Fri, 21 Jul 2023 21:07:47 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/21200108e53dbc4.png?r=200204" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/21200108e53dbc4.png?r=200204"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/212001089c34a1f.png?r=200221" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/212001089c34a1f.png?r=200221"/>
        <media:title>ترک صدر کو امید ہے کہ وہ پیوٹن کو گندم کے معاہدے کی تجدید کے لیے قائل کرنے میں کامیاب رہیں گے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
