<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 21:23:20 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 21:23:20 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بولی وڈ فلم ساز سے ’منی پور واقعے‘ پر فلم بنانے کا مطالبہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208201/</link>
      <description>&lt;p&gt;متنازع فلمیں بنانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والے بولی وڈ فلم ساز وویک اگنی ہوتری سے مداحوں نے بھارتی ریاست منی پور میں ہونے والے تشدد، جلاؤ، گھیراؤ اور خواتین کو برہنہ کرکے انہیں کئی کلومیٹرز تک گھمانے جیسے واقعات پر فلم بنانے کا مطالبہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی ریاست منی پور میں رواں برس 3 مئی سے تشدد اور نسلی فسادات جاری ہیں، جہاں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے 19 جولائی کو منی پور کی دو خواتین کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس پر دنیا بھر کے افراد نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مشتعل ہجوم کے مرد حضرات کو خواتین کو برہنہ کرکے انہیں کئی میٹرز تک گھماتے ہوئے اور ان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق برہنہ کی گئی خواتین منی پور کی اقلیتی برادری ’کوکی‘ کی تھیں جب کہ انہیں برہنہ کرنے والے مرد حضرات کا ہجوم ’میتی‘ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متعدد شوبز شخصیات نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب بھارتی افراد نے بولی وڈ فلم ساز وویک اگنی ہوتری سے مذکورہ واقعے پر فلم بنانے کا مطالبہ بھی کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/movies/celebrities/story/man-asks-vivek-agnihotri-to-make-manipur-files-if-you-are-man-enough-director-reacts-2410227-2023-07-22"&gt;&lt;strong&gt;’انڈیا ٹوڈے‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق وویک اگنی ہوتری نے اپنی نئی ویب سیریز ’کشمیر فائلز: ان رپورٹڈ‘ کی ریلیز کے موقع پر ایک ٹوئٹ کی، جس پر مداحوں نے ان سے منی پور واقعے پر فلم بنانے کا مطالبہ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WandererAli/status/1682276980174069761"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وویک اگنی ہوتری نے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو وہاں مقیم دوسرے افراد کو حاصل ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوؤں کو حقوق دیے جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی مذکورہ ٹوئٹ پر ایک مداح نے جواب دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا اور ساتھ ہی انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور منی پور واقعات پر فلم بنائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مداح نے وویک اگنی ہوتری کی ٹوئٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر فلم ساز مرد ہیں تو وہ منی پور واقعات پر فلم بناکر دکھائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وویک اگنی ہوتری نے مداح کی مذکورہ ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان پر اعتبار کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/WandererAli/status/1682276980174069761/retweets/with_comments"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ساتھ ہی فلم ساز نے لکھا کہ کیا تمام معاملات پر انہی سے فلمیں بنوائی جائیں گی کیا؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وویک اگنی ہوتری نے مداح سے سوال کیا کہ ’کیا ان کی ٹیم انڈیا میں کوئی ایسا دوسرا مرد نہیں ہے جو منی پور واقعات پر فلم بنائے؟&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منی پور میں نسلی فسادات اور وہاں خواتین کے ساتھ ہونے والے نامناسب رویوں اور گینگ ریپ کے واقعات کی رپورٹس آنے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ بولی وڈ فلم ساز اس پر فلم یا ویب سیریز بنائیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ بولی وڈ میں منی پور واقعات پر فلم یا ویب سیریز بنائی جائے گی یا نہیں؟&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>متنازع فلمیں بنانے کے حوالے سے شہرت رکھنے والے بولی وڈ فلم ساز وویک اگنی ہوتری سے مداحوں نے بھارتی ریاست منی پور میں ہونے والے تشدد، جلاؤ، گھیراؤ اور خواتین کو برہنہ کرکے انہیں کئی کلومیٹرز تک گھمانے جیسے واقعات پر فلم بنانے کا مطالبہ کردیا۔</p>
<p>بھارتی ریاست منی پور میں رواں برس 3 مئی سے تشدد اور نسلی فسادات جاری ہیں، جہاں اب تک 150 سے زائد افراد ہلاک اور 300 کے قریب زخمی ہوچکے ہیں جب کہ ہزاروں افراد اپنا گھر چھوڑ کر محفوظ مقامات پر منتقل ہوچکے ہیں۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے 19 جولائی کو منی پور کی دو خواتین کی ویڈیو وائرل ہوئی تھی، جس پر دنیا بھر کے افراد نے غم و غصے کا اظہار کیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208175"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>وائرل ہونے والی ویڈیوز میں مشتعل ہجوم کے مرد حضرات کو خواتین کو برہنہ کرکے انہیں کئی میٹرز تک گھماتے ہوئے اور ان پر تشدد کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا تھا۔</p>
<p>بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق برہنہ کی گئی خواتین منی پور کی اقلیتی برادری ’کوکی‘ کی تھیں جب کہ انہیں برہنہ کرنے والے مرد حضرات کا ہجوم ’میتی‘ قبیلے سے تعلق رکھتا تھا۔</p>
<p>مذکورہ ویڈیو وائرل ہونے کے بعد متعدد شوبز شخصیات نے بھی اظہار افسوس کرتے ہوئے حکومت سے ملوث افراد کے خلاف سخت کارروائی کا مطالبہ کیا تھا۔</p>
<p>اب بھارتی افراد نے بولی وڈ فلم ساز وویک اگنی ہوتری سے مذکورہ واقعے پر فلم بنانے کا مطالبہ بھی کردیا۔</p>
<p><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.indiatoday.in/movies/celebrities/story/man-asks-vivek-agnihotri-to-make-manipur-files-if-you-are-man-enough-director-reacts-2410227-2023-07-22"><strong>’انڈیا ٹوڈے‘</strong></a> کے مطابق وویک اگنی ہوتری نے اپنی نئی ویب سیریز ’کشمیر فائلز: ان رپورٹڈ‘ کی ریلیز کے موقع پر ایک ٹوئٹ کی، جس پر مداحوں نے ان سے منی پور واقعے پر فلم بنانے کا مطالبہ کردیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WandererAli/status/1682276980174069761"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وویک اگنی ہوتری نے اپنی ٹوئٹ میں دعویٰ کیا کہ مقبوضہ کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو وہ حقوق حاصل نہیں جو وہاں مقیم دوسرے افراد کو حاصل ہیں اور انہوں نے مطالبہ کیا کہ ہندوؤں کو حقوق دیے جائیں۔</p>
<p>ان کی مذکورہ ٹوئٹ پر ایک مداح نے جواب دیتے ہوئے ان سے مطالبہ کیا اور ساتھ ہی انہیں مشورہ دیا کہ وہ اپنا وقت ضائع نہ کریں اور منی پور واقعات پر فلم بنائیں۔</p>
<p>مداح نے وویک اگنی ہوتری کی ٹوئٹ پر کمنٹ کرتے ہوئے لکھا کہ اگر فلم ساز مرد ہیں تو وہ منی پور واقعات پر فلم بناکر دکھائیں۔</p>
<p>وویک اگنی ہوتری نے مداح کی مذکورہ ٹوئٹ کو ری ٹوئٹ کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا کہ وہ ان پر اعتبار کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/WandererAli/status/1682276980174069761/retweets/with_comments"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ساتھ ہی فلم ساز نے لکھا کہ کیا تمام معاملات پر انہی سے فلمیں بنوائی جائیں گی کیا؟</p>
<p>وویک اگنی ہوتری نے مداح سے سوال کیا کہ ’کیا ان کی ٹیم انڈیا میں کوئی ایسا دوسرا مرد نہیں ہے جو منی پور واقعات پر فلم بنائے؟</p>
<p>منی پور میں نسلی فسادات اور وہاں خواتین کے ساتھ ہونے والے نامناسب رویوں اور گینگ ریپ کے واقعات کی رپورٹس آنے کے بعد خیال کیا جا رہا ہے کہ بولی وڈ فلم ساز اس پر فلم یا ویب سیریز بنائیں گے۔</p>
<p>تاہم اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے کہ بولی وڈ میں منی پور واقعات پر فلم یا ویب سیریز بنائی جائے گی یا نہیں؟</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208201</guid>
      <pubDate>Sat, 22 Jul 2023 14:40:31 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/2214370017dae0d.jpg?r=143723" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/2214370017dae0d.jpg?r=143723"/>
        <media:title>—فوٹو: Alamy
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
