<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Health</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 23:55:22 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 23:55:22 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ایچ آئی وی کی پہلی ویکسین کو یورپ میں فروخت کرنے کی اجازت</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208333/</link>
      <description>&lt;p&gt;برطانوی دوا ساز کمپنی کے مطابق یورپین میڈیسن ایجنسی نے ان کی تیار کردہ ایچ آئی وی ویکسین اور گولیوں کو یورپ بھر میں فروخت کرنے کی تجویز دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی  گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس ایک) نے رواں برس فروری میں اپنی ویکسین کے نتائج بتائے تھے، جن میں خطرناک وائرس کے کم ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوا ساز کمپنی نے پہلے ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے والی گولیوں ’کیبوٹیگرور‘ ( cabotegravir) کے ہی فارمولے سے ویکسین تیار کی تھی، جسے مریضوں کو ہر دو ماہ بعد لگایا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی نے اپنے نتائج میں بتایا تھا کہ  ویکسین کی آزمائش کے لیے 670 رضاکاروں پر ایک سال تک آزمائش کی اور تمام رضاکاروں کو ہر دو ماہ بعد ویکسین کا ایک ڈوز دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جن رضاکاروں پر تحقیق کی گئی تھی وہ تمام ایچ آئی وی کے مریض تھے اور ایک سال بعد ان کے مرض کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ان کی بیماری کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کمپنی کی تحقیق کے نتائج کے بعد اب یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے مذکورہ ویکسین کو یورپ بھر میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر رساں ادارے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/gsks-hiv-prevention-drug-gets-european-marketing-nod-2023-07-24/"&gt;&lt;strong&gt;’رائٹرز‘&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق یورپی ایجنسی نے ویکسین کی آزمائش کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد اسے یورپ بھر میں فروخت کرنے کی اجازت دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ایجنسی نے ویکسین کو ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی موثر قرار دیا۔
مذکورہ ویکسین اگرچہ  ’کیبوٹیگرور‘ ( cabotegravir) دوائی سے بنائی گئی ہے، تاہم اسے ’اپریٹیوڈ‘ (Apretude) کے نام سے فروخت کیا جا رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین محفوظ جنسی تعلقات رکھنے والے 35 کلو گرام وزن یا اس سے زائد وزن رکھنے والے افراد کو لگائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ ویکسین کا مقصد ایچ آئی وی کے وائرس سے محفوظ رکھنا ہے، تاہم یہ ایچ آئی وی ہوجانے کے بعد اس کے اثرات کم نہیں کر سکتی البتہ اسے بڑھنے سے روکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی ایجنسی کی جانب سے مذکورہ ویکسین کو فروخت کی اجازت سے قبل جولائی 2022 میں عالمی ادارہ صحت نے بھی اسے &lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/news/item/28-07-2022-who-recommends-long-acting-cabotegravir-for-hiv-prevention"&gt;&lt;strong&gt;محفوظ قرار&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; دیتے ہوئے اس کے استعمال کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;عالمی ادارہ صحت کی اجازت کے بعد امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت چند افریقی ممالک میں مذکورہ ویکسین کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اب جلد ہی یورپ میں بھی اس کا استعمال شروع ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>برطانوی دوا ساز کمپنی کے مطابق یورپین میڈیسن ایجنسی نے ان کی تیار کردہ ایچ آئی وی ویکسین اور گولیوں کو یورپ بھر میں فروخت کرنے کی تجویز دے دی۔</p>
<p>برطانوی ملٹی نیشنل دوا ساز کمپنی  گلیکسو اسمتھ کلائن (جی ایس ایک) نے رواں برس فروری میں اپنی ویکسین کے نتائج بتائے تھے، جن میں خطرناک وائرس کے کم ہونے کا انکشاف ہوا تھا۔</p>
<p>دوا ساز کمپنی نے پہلے ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے والی گولیوں ’کیبوٹیگرور‘ ( cabotegravir) کے ہی فارمولے سے ویکسین تیار کی تھی، جسے مریضوں کو ہر دو ماہ بعد لگایا جاتا ہے۔</p>
<p>کمپنی نے اپنے نتائج میں بتایا تھا کہ  ویکسین کی آزمائش کے لیے 670 رضاکاروں پر ایک سال تک آزمائش کی اور تمام رضاکاروں کو ہر دو ماہ بعد ویکسین کا ایک ڈوز دیا گیا۔</p>
<p>جن رضاکاروں پر تحقیق کی گئی تھی وہ تمام ایچ آئی وی کے مریض تھے اور ایک سال بعد ان کے مرض کا جائزہ لیا گیا، جس سے معلوم ہوا کہ ان کی بیماری کی شرح میں اضافہ نہیں ہوا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1197627"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کمپنی کی تحقیق کے نتائج کے بعد اب یورپین میڈیسن ایجنسی (ای ایم اے) نے مذکورہ ویکسین کو یورپ بھر میں فروخت کرنے کی اجازت دے دی۔</p>
<p>خبر رساں ادارے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.reuters.com/business/healthcare-pharmaceuticals/gsks-hiv-prevention-drug-gets-european-marketing-nod-2023-07-24/"><strong>’رائٹرز‘</strong></a> کے مطابق یورپی ایجنسی نے ویکسین کی آزمائش کے نتائج کا جائزہ لینے کے بعد اسے یورپ بھر میں فروخت کرنے کی اجازت دی۔</p>
<p>یورپی ایجنسی نے ویکسین کو ایچ آئی وی سے محفوظ رکھنے کے لیے انتہائی موثر قرار دیا۔
مذکورہ ویکسین اگرچہ  ’کیبوٹیگرور‘ ( cabotegravir) دوائی سے بنائی گئی ہے، تاہم اسے ’اپریٹیوڈ‘ (Apretude) کے نام سے فروخت کیا جا رہا ہے۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین محفوظ جنسی تعلقات رکھنے والے 35 کلو گرام وزن یا اس سے زائد وزن رکھنے والے افراد کو لگائی جاتی ہے۔</p>
<p>مذکورہ ویکسین کا مقصد ایچ آئی وی کے وائرس سے محفوظ رکھنا ہے، تاہم یہ ایچ آئی وی ہوجانے کے بعد اس کے اثرات کم نہیں کر سکتی البتہ اسے بڑھنے سے روکتی ہے۔</p>
<p>یورپی ایجنسی کی جانب سے مذکورہ ویکسین کو فروخت کی اجازت سے قبل جولائی 2022 میں عالمی ادارہ صحت نے بھی اسے <a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.who.int/news/item/28-07-2022-who-recommends-long-acting-cabotegravir-for-hiv-prevention"><strong>محفوظ قرار</strong></a> دیتے ہوئے اس کے استعمال کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>عالمی ادارہ صحت کی اجازت کے بعد امریکا، آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ سمیت چند افریقی ممالک میں مذکورہ ویکسین کو استعمال کیا جا رہا ہے اور اب جلد ہی یورپ میں بھی اس کا استعمال شروع ہوجائے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Health</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208333</guid>
      <pubDate>Mon, 24 Jul 2023 20:40:27 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ہیلتھ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/24195331c4dc441.jpg?r=195353" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/24195331c4dc441.jpg?r=195353"/>
        <media:title>—فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
