<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:33:30 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:33:30 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت کی سیٹلائٹ لانچ راکٹ کی نجکاری، 20 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کردی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208519/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کی طرف سے خلائی پروگرام کے کچھ حصے کی نجکاری کے لیے بولی کے اعلان کے بعد 20 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے چھوٹے سیٹلائٹ لانچ راکٹ کی تعمیر کے لیے بولی دے کر اپنے خلائی پروگرام کے کچھ حصے کی نجکاری کی کوشش سے 20 کمپنیوں نے ابتدائی طور پر اس میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کا اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) بھارتی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی طرف سے تیار کیا گیا تھا جس نے فروری میں پہلی کامیاب سیٹلائٹ لانچ کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس ایل وی کو 500 کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کے لیے ایک کم لاگت کے ذریعے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جو کہ مواصلات اور ڈیٹا کے لیے سیٹلائٹس کے کلسٹرز کو لانچ کرنے کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی خدمت کر رہا ہے جسے اسپیس ایکس اور حریف اب پیش کرتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/isro/status/1623667286929465345"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسی کے تحت بھارت لانچنگ اور دیگر خلائی کاروباروں کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے میں ناسا کی برتری پر عمل پیرا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ایس ایس ایل وی راکٹ پروگرام کی تیاری اور ترقی کی بولی اس پالیسی کے تحت اپنی نوعیت کی پہلی نجکاری تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت کے نئے بنائے گئے خلائی ریگولیٹری ادارے، انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سینٹر، نے 11 جولائی کو اہل کمپنیوں کو اندراج کی اجازت دے کر اس عمل کا آغاز کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سینٹر کے چیئرمین پون گوئینکا نے کہا کہ راکٹ لانچ پروگرام میں 20 کمپنیوں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/GoenkaPk/status/1678758757474656257"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں کے اندر 20 کمپنیوں کے ساتھ مشورہ کیا جائے گا، تاہم انہوں نے کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بولی لگانے کے اہل ہونے کے لیے کمپنیوں کو منافع بخش ہونا چاہیے اور کنسورشیم میں بولی دینے والے کو کم از کم پانچ سال کا مینوفیکچرنگ تجربہ اور 4 ارب بھارتی روپے کی سالانہ آمدنی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بھارت اگلی دہائی کے اندر عالمی سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں اپنا حصہ پانچ گنا بڑھانا چاہتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں پون گوئینکا نے کہا تھا کہ ریگولیٹر کو توقع ہے کہ ایس ایس ایل وی پروگرام حاصل کرنے والی کمپنی چھوٹے سیٹلائٹ لانچ کے کاروبار کو ترقی دے سکے گی اور بھارت کو ’عالمی مرکز‘ بنائے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کی طرف سے خلائی پروگرام کے کچھ حصے کی نجکاری کے لیے بولی کے اعلان کے بعد 20 کمپنیوں نے دلچسپی ظاہر کردی۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ کے مطابق بھارتی حکومت کی جانب سے اپنے چھوٹے سیٹلائٹ لانچ راکٹ کی تعمیر کے لیے بولی دے کر اپنے خلائی پروگرام کے کچھ حصے کی نجکاری کی کوشش سے 20 کمپنیوں نے ابتدائی طور پر اس میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ظاہر کی ہے۔</p>
<p>بھارت کا اسمال سیٹلائٹ لانچ وہیکل (ایس ایس ایل وی) بھارتی اسپیس ریسرچ آرگنائزیشن (اسرو) کی طرف سے تیار کیا گیا تھا جس نے فروری میں پہلی کامیاب سیٹلائٹ لانچ کی تھی۔</p>
<p>ایس ایس ایل وی کو 500 کلوگرام تک وزنی سیٹلائٹس کو زمین کے نچلے مدار میں بھیجنے کے لیے ایک کم لاگت کے ذریعے کے طور پر ڈیزائن کیا گیا تھا، جو کہ مواصلات اور ڈیٹا کے لیے سیٹلائٹس کے کلسٹرز کو لانچ کرنے کے لیے تیزی سے بڑھتی ہوئی مارکیٹ کی خدمت کر رہا ہے جسے اسپیس ایکس اور حریف اب پیش کرتے ہیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/isro/status/1623667286929465345"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>وزیراعظم نریندر مودی کی پالیسی کے تحت بھارت لانچنگ اور دیگر خلائی کاروباروں کو نجی سرمایہ کاری کے لیے کھولنے میں ناسا کی برتری پر عمل پیرا ہے۔</p>
<p>ایس ایس ایل وی راکٹ پروگرام کی تیاری اور ترقی کی بولی اس پالیسی کے تحت اپنی نوعیت کی پہلی نجکاری تھی۔</p>
<p>بھارت کے نئے بنائے گئے خلائی ریگولیٹری ادارے، انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سینٹر، نے 11 جولائی کو اہل کمپنیوں کو اندراج کی اجازت دے کر اس عمل کا آغاز کیا۔</p>
<p>انڈین نیشنل اسپیس پروموشن اینڈ اتھارائزیشن سینٹر کے چیئرمین پون گوئینکا نے کہا کہ راکٹ لانچ پروگرام میں 20 کمپنیوں نے اپنی دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/GoenkaPk/status/1678758757474656257"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے کہا کہ دو ہفتوں کے اندر 20 کمپنیوں کے ساتھ مشورہ کیا جائے گا، تاہم انہوں نے کمپنیوں کے نام ظاہر نہیں کیے۔</p>
<p>بولی لگانے کے اہل ہونے کے لیے کمپنیوں کو منافع بخش ہونا چاہیے اور کنسورشیم میں بولی دینے والے کو کم از کم پانچ سال کا مینوفیکچرنگ تجربہ اور 4 ارب بھارتی روپے کی سالانہ آمدنی ہونی چاہیے۔</p>
<p>بھارت اگلی دہائی کے اندر عالمی سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں اپنا حصہ پانچ گنا بڑھانا چاہتا ہے۔</p>
<p>قبل ازیں پون گوئینکا نے کہا تھا کہ ریگولیٹر کو توقع ہے کہ ایس ایس ایل وی پروگرام حاصل کرنے والی کمپنی چھوٹے سیٹلائٹ لانچ کے کاروبار کو ترقی دے سکے گی اور بھارت کو ’عالمی مرکز‘ بنائے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208519</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Jul 2023 17:48:23 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/27143828687e805.png?r=174823" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/27143828687e805.png?r=174823"/>
        <media:title>بھارت اگلی دہائی کے اندر عالمی سیٹلائٹ لانچ مارکیٹ میں اپنا حصہ پانچ گنا بڑھانا چاہتا ہے— فوٹو: ٹوئٹر
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
