<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - India</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:29:06 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:29:06 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مقبوضہ کشمیر میں 33سال کی پابندی کے بعد پہلی بار محرم الحرام کے جلوس کا انعقاد</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208546/</link>
      <description>&lt;p&gt;مقبوضہ جموں  و کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں تین دہائیوں سے عائد پابندی کے خاتمے پر پہلی بار محرم الحرام کے جلوس نکالے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے بھارت کے غیرقانونی راج کے خلاف ہونے والی بغاوت کے ایک سال بعد 1990 میں محرم کے جلوس پر پابندی عائد کر دی تھی اور یہ پابندی تین دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;چار سال قبل مقبوضہ کشمیر کو براہ راست بھارتی حکومت کے زیر انتظام لانے کے بعد سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت خطے میں کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور سیکیورٹی کی مخدوش صورت حال پر قابو پانے کے لیے کوشاں تھی اور اب صورت حال میں بہتری پر محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارچ کی اجازت لینے کے لیے حکام اور علما میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے جو بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور جمعرات کو بھارتی پولیس کے افسران اور انتظامیہ کے عہدیداروں نے عزاداروں کے ساتھ سری نگر میں مارچ کیا جو ماتم کرنے کے ساتھ ساتھ لبیک یاحسین کے نعرے بھی بلند کرتے جا رہے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/07/271814368c94c09.jpg'  alt='سرینگر میں 8 محرم الحرام کے جلوس کا ایک منظر&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;سرینگر میں 8 محرم الحرام کے جلوس کا ایک منظر— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جلوس کے پرامن انداز میں خاتمے کے بعد شہر کے منتظم محمد اعجاز نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب امن کا ثمر ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1990 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں چند مقامات پر جلسے جلوس کی اجازت بھی دی گئی لیکن اس کا اختتام ہمیشہ تشدد پر ہوا جہاں جبر و تسلط کے ہاتھوں دبے عزادار موقع پر غنیمت جانتے ہوئے آزادی کے نعرے بھی لگا دیتے جس سے یکایک پوری فضا بدل جاتی اور پھر قابض بھارتی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کرتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حکام کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 40 لاکھ کی آبادی میں 10فیصد آبادی شیعہ ہے، اس سال نکالا گیا جلوس ماضی کے مقابلے میں سب سے بڑا جلوس تھا جس میں لوگوں کو بڑی تعداد میں شرکت کی اجازت دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقبوضہ وادی میں حکام نے جلوس کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ عزادار حکومت مخالف نعرے بازی نہیں کریں گے یا پھر کسی بھی باغی یا حکومت مخالف گروپ اور تنظیم کے بینر لے کر جلوس میں شرکت نہیں کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;1989 میں بھارت کے غیرقانونی راج کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت آج تک جاری ہے جس میں ہزاروں حریت پسند اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ کشمیری بھارت سے آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند ہیں اور بھارت نے ان مظلوم عوام کی آواز دبانے کے لیے وہاں کم و بیش 5 لاکھ سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2019 میں بھارتی کی من مانی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب نریندر مودی حکومت نے علاقے کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے اس کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مقبوضہ وادی کشمیر کے حوالے سے بھارت کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے بھارتی حکومت نے وہاں سینما گھر کھولنے کے ساتھ ساتھ رواں برس مئی میں  جی-20 ممالک کے اجلاس کی میزبانی بھی کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ناقدین نے اسے محض ظاہری اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لیے بدترین بریک ڈاؤن کیا گیا اور بھارتی حکومت نے شہری آزادی سلب کرنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں کو پابند سلاسل کرنے کے علاوہ عوامی احتجاج اور یہاں تک کہ عبادت پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/07/27181532fe7b7b6.jpg'  alt='مقبوضہ کشمیر میں نکالے گئے جلوس میں خواتین اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;مقبوضہ کشمیر میں نکالے گئے جلوس میں خواتین اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خطے کے سب سے بڑے خطیب اور مفتی کو 1990 سے مسلسل نظربند رکھا ہوا جبکہ سری نگر کی جامع مسجد میں بھی اکثر نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جمعرات کو نکالے گئے جلوس کے اہم منتظم اور شیعہ رہنما منصور عباس انصاری نے حکومت سے مذہبی رہنماؤں کی بریت اور نماز کے اجتماعات پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے بعد ہی حکومت کا امن کے قیام کا دعویٰ سچ ثابت ہو سکے گا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مقبوضہ جموں  و کشمیر کے سب سے بڑے شہر سری نگر میں تین دہائیوں سے عائد پابندی کے خاتمے پر پہلی بار محرم الحرام کے جلوس نکالے گئے۔</p>
<p>خبر ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق بھارتی حکام نے بھارت کے غیرقانونی راج کے خلاف ہونے والی بغاوت کے ایک سال بعد 1990 میں محرم کے جلوس پر پابندی عائد کر دی تھی اور یہ پابندی تین دہائیوں سے زائد عرصے تک جاری رہی۔</p>
<p>چار سال قبل مقبوضہ کشمیر کو براہ راست بھارتی حکومت کے زیر انتظام لانے کے بعد سے بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت خطے میں کئی دہائیوں سے جاری کشیدگی اور سیکیورٹی کی مخدوش صورت حال پر قابو پانے کے لیے کوشاں تھی اور اب صورت حال میں بہتری پر محرم کا جلوس نکالنے کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>مارچ کی اجازت لینے کے لیے حکام اور علما میں مذاکرات کے کئی دور ہوئے جو بالآخر نتیجہ خیز ثابت ہوئے اور جمعرات کو بھارتی پولیس کے افسران اور انتظامیہ کے عہدیداروں نے عزاداروں کے ساتھ سری نگر میں مارچ کیا جو ماتم کرنے کے ساتھ ساتھ لبیک یاحسین کے نعرے بھی بلند کرتے جا رہے تھے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/07/271814368c94c09.jpg'  alt='سرینگر میں 8 محرم الحرام کے جلوس کا ایک منظر&mdash; فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>سرینگر میں 8 محرم الحرام کے جلوس کا ایک منظر— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>جلوس کے پرامن انداز میں خاتمے کے بعد شہر کے منتظم محمد اعجاز نے رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ سب امن کا ثمر ہے۔</p>
<p>1990 کے بعد مقبوضہ کشمیر میں چند مقامات پر جلسے جلوس کی اجازت بھی دی گئی لیکن اس کا اختتام ہمیشہ تشدد پر ہوا جہاں جبر و تسلط کے ہاتھوں دبے عزادار موقع پر غنیمت جانتے ہوئے آزادی کے نعرے بھی لگا دیتے جس سے یکایک پوری فضا بدل جاتی اور پھر قابض بھارتی پولیس اور قانون نافذ کرنے والے ادارے ان پرامن مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس اور پیلٹ گن کا بے دریغ استعمال کرتے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208048"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>حکام کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ 40 لاکھ کی آبادی میں 10فیصد آبادی شیعہ ہے، اس سال نکالا گیا جلوس ماضی کے مقابلے میں سب سے بڑا جلوس تھا جس میں لوگوں کو بڑی تعداد میں شرکت کی اجازت دی گئی۔</p>
<p>مقبوضہ وادی میں حکام نے جلوس کی اجازت اس شرط پر دی تھی کہ عزادار حکومت مخالف نعرے بازی نہیں کریں گے یا پھر کسی بھی باغی یا حکومت مخالف گروپ اور تنظیم کے بینر لے کر جلوس میں شرکت نہیں کریں گے۔</p>
<p>1989 میں بھارت کے غیرقانونی راج کے خلاف شروع ہونے والی بغاوت آج تک جاری ہے جس میں ہزاروں حریت پسند اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر چکے ہیں۔</p>
<p>یہ کشمیری بھارت سے آزادی یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے خواہش مند ہیں اور بھارت نے ان مظلوم عوام کی آواز دبانے کے لیے وہاں کم و بیش 5 لاکھ سے زائد فوج تعینات کر رکھی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206967"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>2019 میں بھارتی کی من مانی اس وقت انتہا کو پہنچ گئی جب نریندر مودی حکومت نے علاقے کا خصوصی درجہ ختم کرتے ہوئے اس کا بھارت کے ساتھ الحاق کر دیا۔</p>
<p>مقبوضہ وادی کشمیر کے حوالے سے بھارت کے مثبت تشخص کو اجاگر کرنے کے لیے بھارتی حکومت نے وہاں سینما گھر کھولنے کے ساتھ ساتھ رواں برس مئی میں  جی-20 ممالک کے اجلاس کی میزبانی بھی کی تھی۔</p>
<p>تاہم ناقدین نے اسے محض ظاہری اقدامات قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ خطے میں آزادی اظہار رائے کو دبانے کے لیے بدترین بریک ڈاؤن کیا گیا اور بھارتی حکومت نے شہری آزادی سلب کرنے کے ساتھ ساتھ صحافیوں، سول سوسائٹی کے نمائندوں کو پابند سلاسل کرنے کے علاوہ عوامی احتجاج اور یہاں تک کہ عبادت پر پابندی عائد کی ہوئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/07/27181532fe7b7b6.jpg'  alt='مقبوضہ کشمیر میں نکالے گئے جلوس میں خواتین اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی&mdash; فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>مقبوضہ کشمیر میں نکالے گئے جلوس میں خواتین اور بچوں نے بھی بڑی تعداد میں شرکت کی— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>خطے کے سب سے بڑے خطیب اور مفتی کو 1990 سے مسلسل نظربند رکھا ہوا جبکہ سری نگر کی جامع مسجد میں بھی اکثر نماز جمعہ کے اجتماع پر پابندی عائد کر دی جاتی ہے۔</p>
<p>جمعرات کو نکالے گئے جلوس کے اہم منتظم اور شیعہ رہنما منصور عباس انصاری نے حکومت سے مذہبی رہنماؤں کی بریت اور نماز کے اجتماعات پر عائد پابندیاں ہٹانے کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اس کے بعد ہی حکومت کا امن کے قیام کا دعویٰ سچ ثابت ہو سکے گا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208546</guid>
      <pubDate>Thu, 27 Jul 2023 23:36:46 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/27204945079bc73.jpg?r=205323" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/27204945079bc73.jpg?r=205323"/>
        <media:title>سری نگر میں نکالے گئے جلوس میں عزادار ماتم کرتے ہوئے لبیک یاحسین کے نعرے بھی بلند کرتے جا رہے تھے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
