<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 06:26:51 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 06:26:51 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>فلپائن کی جھیل میں کشتی اُلٹنے سے 23 افراد ہلاک</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208569/</link>
      <description>&lt;p&gt;فلپائن کے دارالحکومت کے قریب ایک جھیل میں ایک کشتی الٹنے سے 23 افراد ہلاک اور 6 لاپتا ہو گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سمندری طوفان ڈوکسوری کے شمالی فلپائن سے نکل جانے کے چند گھنٹے بعد یہ حادثہ منیلا کے قریب لگونا جھیل پر دوپہر میں پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بننگونان میونسپلٹی کی بچاؤ کی کوششیں دیکھنے والے رہائشی مونیکا ڈی لا کروز نے بتایا کہ چند زندہ بچ جانے والوں نے ہم سے التجا کی کہ کشتی میں پھنسے ہوئے افراد کو بچایا جائے، وہ رو رہے تھے اور ان میں سے کچھ زخمی ہو گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈی لا کروز نے بتایا کہ یہ حادثہ اچانک تیز ہواؤں اور بارش کے سبب رونما ہوا جبکہ مقامی افراد کو ابتدائی طور پر متاثرین کی مدد کرتے ہوئے ڈر تھا کہ کہیں وہ بھی نیچے نہ گر جائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوسٹ گارڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ تیز ہواؤں کے سبب تمام مسافر گھبرا گئے اور کشتی میں ایک طرف چلے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کوسٹ گارڈ کے ترجمان ریئر ایڈمرل آرمانڈو بالیلو نے صحافیوں کو بتایا کہ کشتی کو سفر کرنے کی کلیئرنس حاصل تھی، انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو رد کیا کہ طوفان کے سبب حادثہ پیش آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میونسپلٹی ریسکیو اہلکار کینتھ سیراڈوس نے بتایا کہ مسافر کشتی بِننگونان بندرگاہ سے جھیل کے وسط میں واقع جزیرہ تلم تک معمول کے مطابق جا رہی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے 23 لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ 40 افراد زندہ بچ گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بننگونان کے رہائشی فریڈرک سیسن نے کہا کہ جزیرے پر گھر جاتے ہوئے کشتی ہمارے سامنے ڈوبی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>فلپائن کے دارالحکومت کے قریب ایک جھیل میں ایک کشتی الٹنے سے 23 افراد ہلاک اور 6 لاپتا ہو گئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سمندری طوفان ڈوکسوری کے شمالی فلپائن سے نکل جانے کے چند گھنٹے بعد یہ حادثہ منیلا کے قریب لگونا جھیل پر دوپہر میں پیش آیا۔</p>
<p>بننگونان میونسپلٹی کی بچاؤ کی کوششیں دیکھنے والے رہائشی مونیکا ڈی لا کروز نے بتایا کہ چند زندہ بچ جانے والوں نے ہم سے التجا کی کہ کشتی میں پھنسے ہوئے افراد کو بچایا جائے، وہ رو رہے تھے اور ان میں سے کچھ زخمی ہو گئے تھے۔</p>
<p>ڈی لا کروز نے بتایا کہ یہ حادثہ اچانک تیز ہواؤں اور بارش کے سبب رونما ہوا جبکہ مقامی افراد کو ابتدائی طور پر متاثرین کی مدد کرتے ہوئے ڈر تھا کہ کہیں وہ بھی نیچے نہ گر جائیں۔</p>
<p>کوسٹ گارڈ نے ایک بیان میں بتایا کہ تیز ہواؤں کے سبب تمام مسافر گھبرا گئے اور کشتی میں ایک طرف چلے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206091"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کوسٹ گارڈ کے ترجمان ریئر ایڈمرل آرمانڈو بالیلو نے صحافیوں کو بتایا کہ کشتی کو سفر کرنے کی کلیئرنس حاصل تھی، انہوں نے ان قیاس آرائیوں کو رد کیا کہ طوفان کے سبب حادثہ پیش آیا۔</p>
<p>میونسپلٹی ریسکیو اہلکار کینتھ سیراڈوس نے بتایا کہ مسافر کشتی بِننگونان بندرگاہ سے جھیل کے وسط میں واقع جزیرہ تلم تک معمول کے مطابق جا رہی تھی۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ریسکیو اہلکاروں نے 23 لاشیں برآمد کی ہیں جبکہ 40 افراد زندہ بچ گئے ہیں۔</p>
<p>بننگونان کے رہائشی فریڈرک سیسن نے کہا کہ جزیرے پر گھر جاتے ہوئے کشتی ہمارے سامنے ڈوبی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208569</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Jul 2023 10:33:49 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/281029153e73a11.png?r=103227" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/281029153e73a11.png?r=103227"/>
        <media:title>رہائشی مونیکا ڈی لا کروز نے بتایا کہ زندہ بچ جانے والے رو رہے تھے— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
