<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 03:21:40 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 03:21:40 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>ولادیمیر پیوٹن کا افریقی ممالک کو مفت اناج دینے کا عزم</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208579/</link>
      <description>&lt;p&gt;روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے افریقی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود چند ماہ کے اندر انہیں ہزاروں ٹن اناج تحفے میں دیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1767227/putin-pledges-free-grain-for-african-nations"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے لیے اپنا اناج اور کھاد برآمد کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روس، افریقہ تعلقات کے لیے سینٹ پیٹرزبرگ میں جاری 2 روزہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس، گندم کی ریکارڈ فصل کی توقع کر رہا ہے اور وہ یوکرینی اناج کی برآمدات کی جگہ تجارتی اور امدادی دونوں بنیادوں پر افریقہ کو برآمدات کرنے کے لیے تیار ہے جب کہ  عالمی غذائی تحفظ میں ماسکو کا اہم کردار ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی صدر نے سربراہی اجلاس کو بتایا کہ ہم آئندہ 3 سے 4 ماہ میں برکینا فاسو، زمبابوے، مالی، صومالیہ، سینٹرل افریقن ری پبلک اور اریٹیریا کو 25 لاکھ 50 ہزار ٹن مفت اناج فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں گے، ولادیمیر پیوٹن کے اس بیان پر اجلاس کے شرکا نے تالیاں بجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190650"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ ہم صارفین تک ان مصنوعات کی مفت ترسیل بھی کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال روس نے مجموعی طور پر 6 کروڑ ٹن اناج برآمد کیا جس میں سے 4 کروڑ 80 لاکھ ٹن گندم تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے ماسکو کے فیصلے پر مغربی ممالک کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن نے اپنی دلیل کو دہرایا کہ روس کے ساتھ کیے گئے اس کی اناج اور کھاد کی برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کے وعدے پورے نہیں  کیے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کے تحت جنگ کے باوجود یوکرین کو روس نے اپنی بندرگاہوں سے اناج بھیجنے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پیر کے روز کہا تھا کہ بحیرہ اسود معاہدے کے خاتمے اور روس کی جانب سے دریائے ڈینیوب کی بندرگاہوں پر بمباری سے عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ان کمزور ممالک کے لیے تباہ کن ہے جو اپنے لوگوں کے لیے خوراک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;واضح رہے کہ روس نے کریمیا میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں سے زرعی پیداوار برآمد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی کا معاہدہ معطل کردیا تھا، معاہدے کا  مقصد اناج کی سپلائی پر عالمی دباؤ کو کم کرنا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے افریقی رہنماؤں سے کہا ہے کہ وہ مغربی ممالک کی جانب سے عائد کردہ پابندیوں کے باوجود چند ماہ کے اندر انہیں ہزاروں ٹن اناج تحفے میں دیں گے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1767227/putin-pledges-free-grain-for-african-nations">رپورٹ</a></strong> کے مطابق انہوں نے مغربی ممالک کی جانب سے عائد پابندیوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ماسکو کے لیے اپنا اناج اور کھاد برآمد کرنا کافی مشکل ہو گیا ہے۔</p>
<p>روس، افریقہ تعلقات کے لیے سینٹ پیٹرزبرگ میں جاری 2 روزہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن نے کہا کہ روس، گندم کی ریکارڈ فصل کی توقع کر رہا ہے اور وہ یوکرینی اناج کی برآمدات کی جگہ تجارتی اور امدادی دونوں بنیادوں پر افریقہ کو برآمدات کرنے کے لیے تیار ہے جب کہ  عالمی غذائی تحفظ میں ماسکو کا اہم کردار ہے۔</p>
<p>روسی صدر نے سربراہی اجلاس کو بتایا کہ ہم آئندہ 3 سے 4 ماہ میں برکینا فاسو، زمبابوے، مالی، صومالیہ، سینٹرل افریقن ری پبلک اور اریٹیریا کو 25 لاکھ 50 ہزار ٹن مفت اناج فراہم کرنے کے لیے تیار ہوں گے، ولادیمیر پیوٹن کے اس بیان پر اجلاس کے شرکا نے تالیاں بجائیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190650"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ ہم صارفین تک ان مصنوعات کی مفت ترسیل بھی کریں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ سال روس نے مجموعی طور پر 6 کروڑ ٹن اناج برآمد کیا جس میں سے 4 کروڑ 80 لاکھ ٹن گندم تھی۔</p>
<p>بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے سے دستبردار ہونے کے ماسکو کے فیصلے پر مغربی ممالک کی تنقید کا جواب دیتے ہوئے ولادیمیر پیوٹن نے اپنی دلیل کو دہرایا کہ روس کے ساتھ کیے گئے اس کی اناج اور کھاد کی برآمدات میں سہولت فراہم کرنے کے وعدے پورے نہیں  کیے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1190730"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>بحیرہ اسود کے اناج کے معاہدے کے تحت جنگ کے باوجود یوکرین کو روس نے اپنی بندرگاہوں سے اناج بھیجنے کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل نے پیر کے روز کہا تھا کہ بحیرہ اسود معاہدے کے خاتمے اور روس کی جانب سے دریائے ڈینیوب کی بندرگاہوں پر بمباری سے عالمی خوراک کی قیمتوں میں اضافہ خاص طور پر ان کمزور ممالک کے لیے تباہ کن ہے جو اپنے لوگوں کے لیے خوراک کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔</p>
<p>واضح رہے کہ روس نے کریمیا میں بحری جہازوں پر حملوں کے بعد یوکرین کی بندرگاہوں سے زرعی پیداوار برآمد کرنے کے لیے اقوام متحدہ کی ثالثی کا معاہدہ معطل کردیا تھا، معاہدے کا  مقصد اناج کی سپلائی پر عالمی دباؤ کو کم کرنا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208579</guid>
      <pubDate>Fri, 28 Jul 2023 16:09:19 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/28124629c635bba.jpg?r=160919" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/28124629c635bba.jpg?r=160919"/>
        <media:title>روسی صدر نے کہا کہ گزشتہ سال روس نے مجموعی طور پر 6 کروڑ ٹن اناج برآمد کیا — فائل فوٹو: اے پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
