<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 20:49:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 20:49:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>سویڈن میں پولیس کی اجازت کے بعد ایک مرتبہ پھر قرآن پاک جلانے کا واقعہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208743/</link>
      <description>&lt;p&gt;سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پولیس کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد دو افراد نے قرآن پاک کو آگ لگا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسٹاک ہوم میں قرآن کی بے حرمتی کرنے والے دو افراد میں سے ایک پچھلے واقعے میں ملوث شہری سے ملتا جلتا تھا، جس کی وجہ سے سویڈن اور مسلمان ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق سالوان مومیکا اور سالوان ناجیم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی اور اوراق جلا دیے، اسی طرح انہوں نے جون کے آخر میں بھی اسٹاک ہوم میں اسی طرح کی حرکت کی تھی اور مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قبل ازیں سویڈن کی پولیس نے پارلیمنٹ کے باہر ایک احتجاج کی اجازت دی تھی، جس میں منتظمین نے قرآن پاک کی بے حرمتی کا منصوبہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر  ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مظاہرین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ سویڈن میں مقدس کتاب پر پابندی دیکھنا چاہتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;منتظم سالوان نجیم نے ’ایکسپریسن‘ اخبار کو بتایا تھا کہ میں متعدد بار اس کے نسخے کو نذر آتش کروں گا، جب تک آپ اس پر پابندی نہیں لگا دیتے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سالوان نجیم نے برسوں پہلے عراق سے سویڈن منتقل ہونے والے 37 سالہ سالوان مومیکا کے ساتھ اس سے قبل اسٹاک ہوم میں مسجد اور بعد ازاں عراقی سفارتخانے کے باہر احتجاج میں حصہ لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس کی جانب سے جاری اجازت نامے کے مطابق یہ احتجاج ایک بجے (1100 جی ایم ٹی) ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قرآن پاک کی بے حرمتی کے سبب سویڈن کے مشرق وسطیٰ کی کئی ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی نے درخواست اور پولیس کی جانب سے جاری اجازت نامے کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی لیکن فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں مل سکا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈش پولیس نے اس سے قبل زور دیا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو اس طرح کی سرگرمیوں کے لیے نہیں بلکہ صرف جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جون کے آخر میں37 سالہ سالوان مومیکا نے اسٹاک ہوم میں مسجد کے باہر قرآن پاک کے صفحے نذر آتش کر دیے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے ایک مہینے بعد عراقی سفارت خانے کے باہر اسی طرح کا احتجاج کیا گیا، تاہم اس میں قرآن پاک کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;لیکن ان دونوں واقعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کی شدید مذمت بھی کی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ ہفتے، سویڈن نے 15 حکومتی اداروں بشمول مسلح فورسز، متعدد قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور ٹیکس دفتر کو حکم دیا تھا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اتوار کو ڈنمارک نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقدس صحیفوں کو نذر آتش کرنے میں ملوث احتجاج کو روکنے کے لیے قانونی راستے تلاش کر رہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن کے وزیر اعظم اولف کرسٹرسن نے کہا تھا کہ اسی طرح کا ایک منصوبہ زیر غور ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے ان واقعات کے بعد سویڈن اور ڈنمارک کے سفرا کو طلب کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سعودی عرب اور عراق نے سویڈن اور ڈنمارک میں بے حرمتی کے حوالے سے جدہ میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس طلب کیا ہے، جس کا انعقاد پیر کو متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>سویڈن کے دارالحکومت اسٹاک ہوم میں پولیس کی جانب سے اجازت ملنے کے بعد دو افراد نے قرآن پاک کو آگ لگا دی۔</p>
<p>خبر ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اسٹاک ہوم میں قرآن کی بے حرمتی کرنے والے دو افراد میں سے ایک پچھلے واقعے میں ملوث شہری سے ملتا جلتا تھا، جس کی وجہ سے سویڈن اور مسلمان ممالک خصوصاً مشرق وسطیٰ کی ریاستوں کے درمیان کشیدگی پیدا ہوئی تھی۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق سالوان مومیکا اور سالوان ناجیم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کی اور اوراق جلا دیے، اسی طرح انہوں نے جون کے آخر میں بھی اسٹاک ہوم میں اسی طرح کی حرکت کی تھی اور مسلمانوں میں بے چینی پھیل گئی تھی۔</p>
<p>قبل ازیں سویڈن کی پولیس نے پارلیمنٹ کے باہر ایک احتجاج کی اجازت دی تھی، جس میں منتظمین نے قرآن پاک کی بے حرمتی کا منصوبہ بنایا تھا۔</p>
<p>غیر ملکی خبر  ایجنسی ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ مظاہرین نے مقامی میڈیا کو بتایا کہ وہ سویڈن میں مقدس کتاب پر پابندی دیکھنا چاہتے ہیں۔</p>
<p>منتظم سالوان نجیم نے ’ایکسپریسن‘ اخبار کو بتایا تھا کہ میں متعدد بار اس کے نسخے کو نذر آتش کروں گا، جب تک آپ اس پر پابندی نہیں لگا دیتے۔</p>
<p>سالوان نجیم نے برسوں پہلے عراق سے سویڈن منتقل ہونے والے 37 سالہ سالوان مومیکا کے ساتھ اس سے قبل اسٹاک ہوم میں مسجد اور بعد ازاں عراقی سفارتخانے کے باہر احتجاج میں حصہ لیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208609"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس کی جانب سے جاری اجازت نامے کے مطابق یہ احتجاج ایک بجے (1100 جی ایم ٹی) ہوگا۔</p>
<p>قرآن پاک کی بے حرمتی کے سبب سویڈن کے مشرق وسطیٰ کی کئی ریاستوں کے ساتھ سفارتی تعلقات خراب ہو چکے ہیں۔</p>
<p>اے ایف پی نے درخواست اور پولیس کی جانب سے جاری اجازت نامے کی نقل فراہم کرنے کی درخواست کی لیکن فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں مل سکا۔</p>
<p>سویڈش پولیس نے اس سے قبل زور دیا تھا کہ انہوں نے لوگوں کو اس طرح کی سرگرمیوں کے لیے نہیں بلکہ صرف جمع ہونے کی اجازت دی تھی۔</p>
<p>جون کے آخر میں37 سالہ سالوان مومیکا نے اسٹاک ہوم میں مسجد کے باہر قرآن پاک کے صفحے نذر آتش کر دیے تھے۔</p>
<p>اس کے ایک مہینے بعد عراقی سفارت خانے کے باہر اسی طرح کا احتجاج کیا گیا، تاہم اس میں قرآن پاک کی بے حرمتی نہیں کی گئی۔</p>
<p>لیکن ان دونوں واقعات کی وجہ سے بڑے پیمانے پر غم و غصے کی لہر دوڑ گئی اور اس کی شدید مذمت بھی کی گئی۔</p>
<p>گزشتہ ہفتے، سویڈن نے 15 حکومتی اداروں بشمول مسلح فورسز، متعدد قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں اور ٹیکس دفتر کو حکم دیا تھا کہ وہ انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں کو مضبوط کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اتوار کو ڈنمارک نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے بعد ملک میں سیکیورٹی صورتحال کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ وہ مقدس صحیفوں کو نذر آتش کرنے میں ملوث احتجاج کو روکنے کے لیے قانونی راستے تلاش کر رہا ہے۔</p>
<p>سویڈن کے وزیر اعظم اولف کرسٹرسن نے کہا تھا کہ اسی طرح کا ایک منصوبہ زیر غور ہے۔</p>
<p>مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک نے ان واقعات کے بعد سویڈن اور ڈنمارک کے سفرا کو طلب کیا تھا۔</p>
<p>سعودی عرب اور عراق نے سویڈن اور ڈنمارک میں بے حرمتی کے حوالے سے جدہ میں قائم اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کا اجلاس طلب کیا ہے، جس کا انعقاد پیر کو متوقع ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208743</guid>
      <pubDate>Mon, 31 Jul 2023 23:35:24 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/07/31201754abeacdc.jpg?r=201822" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/07/31201754abeacdc.jpg?r=201822"/>
        <media:title>سویڈن میں اس سے پہلے بھی قرآن کی بے حرمتی کے واقعات پیش آئے—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
