<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Thu, 07 May 2026 20:27:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Thu, 07 May 2026 20:27:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>انگلینڈ کی ڈرامائی فتح کے ساتھ ایشز سیریز کا اختتام، براڈ اور معین علی ریٹائر</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208825/</link>
      <description>&lt;p&gt;انگلینڈ نے کرس ووکس سمیت باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا کو پانچویں ایشز ٹیسٹ میچ میں 49 رنز سے شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کردی جس کے ساتھ ہی اسٹورٹ براڈ اور معین علی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کھیل کے پانچویں دن 384 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 135 رنز بغیر کسی نقصان کے آسٹریلیا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو مہمان ٹیم کو فتح کے لیے مزید 249 رنز درکار تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم آسٹریلیا کے دن کا آغاز بھی اچھا ثابت نہ ہوا اور مجموعی اسکور میں محض پانچ رنز کے اضافے کے بعد 60 رنز بنانے والے اوپنر ڈیوڈ وارنر انگلش باؤلر کرس ووکس کی وکٹ بن گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/1686195123430825984"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی آسٹریلین ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ ووکس نے اپنے اگلے ہی اوور میں ایک اور کاری ضرب لگاتے ہوئے 72 رنز بنانے والے عثمان خواجہ کو بھی چلتا کر دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ابھی اسکور 169 تک پہنچا ہی تھا کہ مارک وُڈ نے اپنی ٹیم کو ایک اور کامیابی دلا کر تجربہ کار مارنس لبوشین کو چلتا کر کے اپنی ٹیم کو تیسری کامیابی دلائی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرحلے پر اسٹیون اسمتھ کا ساتھ دینے ٹریوس ہیڈ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے تیز رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اگلے 24 اوورز میں 95 رنز جوڑ کر انگلینڈ کے لیے خطرے کی گھنٹے بجا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس مرحلے پر انگلینڈ کو اسمتھ کی وکٹ لینے کا موقع ملا لیکن لیگ سلپ میں کھڑے کپتان بین اسٹوکس ایک آسان کیچ گرا بیٹھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم معین علی نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 43 رنز بنانے والے ہیڈ کو روٹ کے ہاتھوں کیچ کرا دیا لیکن آسٹریلیا کی میچ جیتنے کی امیدوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اگلے اوور میں کرس ووکس نے اسمتھ کی وکٹ لے لی جنہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 54 رنز بنائے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معین نے اپنے اگلے اوور میں وکٹ کیپر بیئراسٹو کے عمدہ کیچ کی بدولت مچل مارش کی اننگز تمام کی اور دوسرے اینڈ سے ووکس نے اسٹارک کی وکٹ لے کر اپنی ٹیم کو ساتویں کامیابی دلا دی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'&gt;&lt;div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=1031908144908175" data-width="auto"&gt;&lt;/div&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کپتان پیٹ کمنز نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن معین علی نے انہیں بھی چلتا کر دیا اور یوں مہمان ٹیم 294 رنز پر 8 وکٹیں گنوا بیٹھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوڈ مرفی اور ایلکس کیری نے نویں وکٹ کے لیے 35 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کی فتح کی موہوم سی امید پیدا کی ہی تھی کہ آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اسٹورٹ براڈ نے یکے بعد دیگرے دو وکٹیں لیتے ہوئے اپنی ٹیم کو شان دار فتح سے ہمکنار کرا دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;آسٹریلیا کی ٹیم دوسری اننگز میں 334 رنز پر ڈھیر ہو گئی، انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے 4، معین علی نے 3 اور اسٹورٹ براڈ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انگلینڈ نے میچ میں 49 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سیریز بھی 2-2 سے برابر کردی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرس ووکس کو میچ کے ساتھ ساتھ سیریز کا بھی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اسٹورٹ-براڈ-اور-معین-علی-ریٹائر" href="#اسٹورٹ-براڈ-اور-معین-علی-ریٹائر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اسٹورٹ براڈ اور معین علی ریٹائر&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;اس سیریز کے اختتام کے ساتھ انگلینڈ کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر اسٹورٹ براڈ اور معین علی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/ICC/status/1686250243942174721"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اپنے شا ندار ٹیسٹ کیریئر کے دوران 604 وکٹیں لینے والے اسٹورٹ براڈ نے اسکائی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میچ بہت شان دار تھا، شائقین کا جوش و خروش ناقابل یقین تھا، ٹیم کی فتح میں دو وکٹیں لے کر اپنا کردار ادا کرنا بہت خاص تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ جب آپ پہلے سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ سوچتے ہیں کہ آپ کی کیریئر کی آخری گیند کیسی ہو گی لہٰذا اپنے کیریئر کی آخری گیند پر وکٹ لے کر ایشز ٹیسٹ جیتنا بہت عمدہ رہا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/012024548b08d47.png'  alt='معین علی اور اسٹورٹ براڈ آخری بار ٹیسٹ میچ کھیل کر میدان سے رخصت ہو رہے ہیں&amp;mdash; فوٹو: اے ایف پی' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        &lt;figcaption class='media__caption  '&gt;معین علی اور اسٹورٹ براڈ آخری بار ٹیسٹ میچ کھیل کر میدان سے رخصت ہو رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی&lt;/figcaption&gt;
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ کرس ووکس اور معین علی نے جس طرح سے میچ کا نقشہ بدلا وہ ناقابل یقین ہے، خاص طور پر ووکس کا اسمتھ سمیت دو وکٹیں لینا میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا اور یہ وکٹیں لینے کے بعد ہمیں لگنے لگا تھا کہ ہم یہ میچ جیت سکتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;h1&gt;&lt;a id="اب-بین-اسٹوکس-نے-میسج-کیا-تو-اسے-ڈیلیٹ-کردوں-گا-معین-علی" href="#اب-بین-اسٹوکس-نے-میسج-کیا-تو-اسے-ڈیلیٹ-کردوں-گا-معین-علی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"&gt;&lt;/a&gt;اب بین اسٹوکس نے میسج کیا تو اسے ڈیلیٹ کردوں گا، معین علی&lt;/h1&gt;
&lt;p&gt;میچ میں گروئن انجری کے باوجود دوسری اننگز میں 23 اوورز کرنے کے ساتھ ساتھ 3 اہم وکٹیں لینے والے معین علی نے بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;68 ٹیسٹ میچوں میں 204 وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ 3ہزار سے زائد رنز بنانے والے معین علی نے بھی اس میچ کے اختتام کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ الوداع کہہ دیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/englandcricket/status/1686345033174171648"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;معین علی نے ستمبر 2021 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا لیکن ایشز کے لیے انگلینڈ کے بطور اسپنر اولین انتخاب جیک لیچ کے انجری کے سبب سیریز سے باہر ہونے کے بعد بین اسٹوکس نے معین علی کو میسج کر کے ایشز سیریز کے لیے ریٹائرمنٹ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے معین علی نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر اسٹوکس نے مجھے دوبارہ میسج کیا تو میں اسے ڈیلیٹ کردوں گا، میری بس ہو چکی، میں بہت لطف اندوز ہوا اور اس انداز سے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام بہترین ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>انگلینڈ نے کرس ووکس سمیت باؤلرز کی عمدہ کارکردگی کی بدولت آسٹریلیا کو پانچویں ایشز ٹیسٹ میچ میں 49 رنز سے شکست دے کر سیریز 2-2 سے برابر کردی جس کے ساتھ ہی اسٹورٹ براڈ اور معین علی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔</p>
<p>کھیل کے پانچویں دن 384 رنز کے ہدف کے تعاقب میں 135 رنز بغیر کسی نقصان کے آسٹریلیا نے اپنی دوسری نامکمل اننگز دوبارہ شروع کی تو مہمان ٹیم کو فتح کے لیے مزید 249 رنز درکار تھے۔</p>
<p>تاہم آسٹریلیا کے دن کا آغاز بھی اچھا ثابت نہ ہوا اور مجموعی اسکور میں محض پانچ رنز کے اضافے کے بعد 60 رنز بنانے والے اوپنر ڈیوڈ وارنر انگلش باؤلر کرس ووکس کی وکٹ بن گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ICC/status/1686195123430825984"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ابھی آسٹریلین ٹیم اس نقصان سے سنبھلی بھی نہ تھی کہ ووکس نے اپنے اگلے ہی اوور میں ایک اور کاری ضرب لگاتے ہوئے 72 رنز بنانے والے عثمان خواجہ کو بھی چلتا کر دیا۔</p>
<p>ابھی اسکور 169 تک پہنچا ہی تھا کہ مارک وُڈ نے اپنی ٹیم کو ایک اور کامیابی دلا کر تجربہ کار مارنس لبوشین کو چلتا کر کے اپنی ٹیم کو تیسری کامیابی دلائی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208655"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس مرحلے پر اسٹیون اسمتھ کا ساتھ دینے ٹریوس ہیڈ آئے اور دونوں کھلاڑیوں نے تیز رفتاری سے بیٹنگ کرتے ہوئے اگلے 24 اوورز میں 95 رنز جوڑ کر انگلینڈ کے لیے خطرے کی گھنٹے بجا دی۔</p>
<p>اس مرحلے پر انگلینڈ کو اسمتھ کی وکٹ لینے کا موقع ملا لیکن لیگ سلپ میں کھڑے کپتان بین اسٹوکس ایک آسان کیچ گرا بیٹھے۔</p>
<p>تاہم معین علی نے اپنی ٹیم کو اہم کامیابی دلاتے ہوئے 43 رنز بنانے والے ہیڈ کو روٹ کے ہاتھوں کیچ کرا دیا لیکن آسٹریلیا کی میچ جیتنے کی امیدوں کو اس وقت بڑا دھچکا لگا جب اگلے اوور میں کرس ووکس نے اسمتھ کی وکٹ لے لی جنہوں نے آؤٹ ہونے سے قبل 54 رنز بنائے تھے۔</p>
<p>معین نے اپنے اگلے اوور میں وکٹ کیپر بیئراسٹو کے عمدہ کیچ کی بدولت مچل مارش کی اننگز تمام کی اور دوسرے اینڈ سے ووکس نے اسٹارک کی وکٹ لے کر اپنی ٹیم کو ساتویں کامیابی دلا دی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-4/5  w-full  media--center  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--facebook  media__item--relative'><div class="fb-video" data-href="https://www.facebook.com/watch/?v=1031908144908175" data-width="auto"></div></div>
        
    </figure></p>
<p>کپتان پیٹ کمنز نے کچھ مزاحمت کی کوشش کی لیکن معین علی نے انہیں بھی چلتا کر دیا اور یوں مہمان ٹیم 294 رنز پر 8 وکٹیں گنوا بیٹھی۔</p>
<p>ٹوڈ مرفی اور ایلکس کیری نے نویں وکٹ کے لیے 35 رنز جوڑ کر اپنی ٹیم کی فتح کی موہوم سی امید پیدا کی ہی تھی کہ آخری ٹیسٹ میچ کھیلنے والے اسٹورٹ براڈ نے یکے بعد دیگرے دو وکٹیں لیتے ہوئے اپنی ٹیم کو شان دار فتح سے ہمکنار کرا دیا۔</p>
<p>آسٹریلیا کی ٹیم دوسری اننگز میں 334 رنز پر ڈھیر ہو گئی، انگلینڈ کی جانب سے کرس ووکس نے 4، معین علی نے 3 اور اسٹورٹ براڈ نے دو وکٹیں حاصل کیں۔</p>
<p>انگلینڈ نے میچ میں 49 رنز سے کامیابی حاصل کر کے سیریز بھی 2-2 سے برابر کردی۔</p>
<p>کرس ووکس کو میچ کے ساتھ ساتھ سیریز کا بھی بہترین کھلاڑی قرار دیا گیا۔</p>
<h1><a id="اسٹورٹ-براڈ-اور-معین-علی-ریٹائر" href="#اسٹورٹ-براڈ-اور-معین-علی-ریٹائر" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اسٹورٹ براڈ اور معین علی ریٹائر</h1>
<p>اس سیریز کے اختتام کے ساتھ انگلینڈ کے مایہ ناز فاسٹ باؤلر اسٹورٹ براڈ اور معین علی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائر ہوگئے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/ICC/status/1686250243942174721"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>اپنے شا ندار ٹیسٹ کیریئر کے دوران 604 وکٹیں لینے والے اسٹورٹ براڈ نے اسکائی اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یہ میچ بہت شان دار تھا، شائقین کا جوش و خروش ناقابل یقین تھا، ٹیم کی فتح میں دو وکٹیں لے کر اپنا کردار ادا کرنا بہت خاص تھا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ جب آپ پہلے سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ کرتے ہیں تو آپ سوچتے ہیں کہ آپ کی کیریئر کی آخری گیند کیسی ہو گی لہٰذا اپنے کیریئر کی آخری گیند پر وکٹ لے کر ایشز ٹیسٹ جیتنا بہت عمدہ رہا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/primary/2023/08/012024548b08d47.png'  alt='معین علی اور اسٹورٹ براڈ آخری بار ٹیسٹ میچ کھیل کر میدان سے رخصت ہو رہے ہیں&mdash; فوٹو: اے ایف پی' /></picture></div>
        <figcaption class='media__caption  '>معین علی اور اسٹورٹ براڈ آخری بار ٹیسٹ میچ کھیل کر میدان سے رخصت ہو رہے ہیں— فوٹو: اے ایف پی</figcaption>
    </figure></p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ کرس ووکس اور معین علی نے جس طرح سے میچ کا نقشہ بدلا وہ ناقابل یقین ہے، خاص طور پر ووکس کا اسمتھ سمیت دو وکٹیں لینا میچ کا فیصلہ کن لمحہ ثابت ہوا اور یہ وکٹیں لینے کے بعد ہمیں لگنے لگا تھا کہ ہم یہ میچ جیت سکتے ہیں۔</p>
<h1><a id="اب-بین-اسٹوکس-نے-میسج-کیا-تو-اسے-ڈیلیٹ-کردوں-گا-معین-علی" href="#اب-بین-اسٹوکس-نے-میسج-کیا-تو-اسے-ڈیلیٹ-کردوں-گا-معین-علی" class="heading-permalink" aria-hidden="true" title="Permalink"></a>اب بین اسٹوکس نے میسج کیا تو اسے ڈیلیٹ کردوں گا، معین علی</h1>
<p>میچ میں گروئن انجری کے باوجود دوسری اننگز میں 23 اوورز کرنے کے ساتھ ساتھ 3 اہم وکٹیں لینے والے معین علی نے بھی ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا۔</p>
<p>68 ٹیسٹ میچوں میں 204 وکٹیں لینے کے ساتھ ساتھ 3ہزار سے زائد رنز بنانے والے معین علی نے بھی اس میچ کے اختتام کے ساتھ ٹیسٹ کرکٹ کو دوبارہ الوداع کہہ دیا۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/englandcricket/status/1686345033174171648"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>معین علی نے ستمبر 2021 میں ٹیسٹ کرکٹ سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کردیا تھا لیکن ایشز کے لیے انگلینڈ کے بطور اسپنر اولین انتخاب جیک لیچ کے انجری کے سبب سیریز سے باہر ہونے کے بعد بین اسٹوکس نے معین علی کو میسج کر کے ایشز سیریز کے لیے ریٹائرمنٹ واپس لینے کی درخواست کی تھی۔</p>
<p>اس پیغام کا حوالہ دیتے ہوئے معین علی نے ازراہ مذاق کہا کہ اگر اسٹوکس نے مجھے دوبارہ میسج کیا تو میں اسے ڈیلیٹ کردوں گا، میری بس ہو چکی، میں بہت لطف اندوز ہوا اور اس انداز سے ٹیسٹ کیریئر کا اختتام بہترین ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208825</guid>
      <pubDate>Tue, 01 Aug 2023 23:36:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/0120245472dde9d.png?r=203119" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/0120245472dde9d.png?r=203119"/>
        <media:title>سیریز برابر ہونے کے بعد آسٹریلیا اور انگلینڈ کے کپتانوں کا ٹرافی کے ہمراہ گروپ فوٹو— فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
