<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Africa</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 07:33:49 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 07:33:49 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لیبیا: انسانی اسمگلروں کے ٹھکانوں سے 385 پاکستانی تارکین وطن بازیاب</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208843/</link>
      <description>&lt;p&gt;شمال مشرقی لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایک چھاپے کے دوران انسانی اسمگلروں کے خفیہ ٹھکانوں میں قید کم از کم 385 پاکستانی تارکین وطن کو بازیاب کرلیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1767982/385-pakistanis-freed-from-traffickers-warehouse-in-libya"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے  گزشتہ روز رپورٹ کیا کہ پاکستانی شہریوں کو پیر کو علی الصبح طبرق کے جنوب میں واقع علاقے الخویر میں موجود اسمگلروں کے ٹھکانوں سے بازیاب کرلیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تبروک میں مقیم تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ ’الابرین‘ کے مطابق رہائی پانے والوں میں تقریباً 11 بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے کچھ کی عمریں 10 سال سے بھی کم ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ریسکیو کیے گئے تارکین وطن میں سے کچھ افراد خارش اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں اور انہیں کھانا فراہم کیا گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1068772"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروپ کا دعویٰ ہے کہ بازیاب ہونے والوں میں سے زیادہ تر افراد کو حکام نے بن غازی شہر کے قریب قنفوضہ میں ایک محفوظ عمارت میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ 45 افراد تاحال فوج کی تحویل میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ اس حوالے سے لیبیا یا حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ ان تارکین وطن کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الابرین کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کے ایک بڑے گروپ کو  زمین پر بیٹھے ہوئے دیکھا گیا جبکہ رضاکار اور امدادی کارکن بظاہر کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرتے نظر آئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان تصاویر اور ویڈیوز کے کیپشن میں بتایا گیا کہ ان تارکین وطن نے 3 روز سے کھانا نہیں کھایا تھا اور انہیں بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>شمال مشرقی لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ایک چھاپے کے دوران انسانی اسمگلروں کے خفیہ ٹھکانوں میں قید کم از کم 385 پاکستانی تارکین وطن کو بازیاب کرلیا گیا۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1767982/385-pakistanis-freed-from-traffickers-warehouse-in-libya"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق غیر ملکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) نے  گزشتہ روز رپورٹ کیا کہ پاکستانی شہریوں کو پیر کو علی الصبح طبرق کے جنوب میں واقع علاقے الخویر میں موجود اسمگلروں کے ٹھکانوں سے بازیاب کرلیا گیا ہے۔</p>
<p>تبروک میں مقیم تارکین وطن کے حقوق کے لیے سرگرم گروپ ’الابرین‘ کے مطابق رہائی پانے والوں میں تقریباً 11 بچے بھی شامل ہیں، جن میں سے کچھ کی عمریں 10 سال سے بھی کم ہیں۔</p>
<p>گروپ کے ایک نمائندے نے بتایا کہ ریسکیو کیے گئے تارکین وطن میں سے کچھ افراد خارش اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں اور انہیں کھانا فراہم کیا گیا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1068772"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گروپ کا دعویٰ ہے کہ بازیاب ہونے والوں میں سے زیادہ تر افراد کو حکام نے بن غازی شہر کے قریب قنفوضہ میں ایک محفوظ عمارت میں منتقل کردیا گیا ہے جبکہ 45 افراد تاحال فوج کی تحویل میں ہیں۔</p>
<p>اگرچہ اس حوالے سے لیبیا یا حکومت پاکستان کی جانب سے کوئی باضابطہ بیان سامنے نہیں آیا، تاہم امکان ہے کہ ان تارکین وطن کو ملک بدر کر دیا جائے گا۔</p>
<p>الابرین کے فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئی ویڈیوز اور تصاویر میں سیکڑوں کی تعداد میں لوگوں کے ایک بڑے گروپ کو  زمین پر بیٹھے ہوئے دیکھا گیا جبکہ رضاکار اور امدادی کارکن بظاہر کھانے پینے کی اشیا تقسیم کرتے نظر آئے۔</p>
<p>ان تصاویر اور ویڈیوز کے کیپشن میں بتایا گیا کہ ان تارکین وطن نے 3 روز سے کھانا نہیں کھایا تھا اور انہیں بنیادی ضروریات تک رسائی حاصل نہیں تھی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208843</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Aug 2023 09:28:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (عاتکہ رحمان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/0207420753eba6a.jpg?r=074457" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/0207420753eba6a.jpg?r=074457"/>
        <media:title>ریسکیو کیے گئے تارکین وطن میں سے کچھ افراد خارش اور دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں—فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
