<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 11:43:37 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 11:43:37 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>مشہور خلائی مشن ’وائجر 2‘ سے رابطہ منقطع ہونے کے دو ہفتے بعد سگنلز موصول</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208848/</link>
      <description>&lt;p&gt;خلائی تاریخ کے مشہور ترین مشنز میں سے ایک ’وائجر 2‘ سے رابطہ منقطع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد امریکی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز نے زمین پر سگنلز بھیجے ہیں، جس کے بعد تصدیق کی جارہی ہے کہ وائجر 2 اب بھی خلا میں کام کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وائجر ٹو نامی خلائی جہاز کو 1977 میں خلا میں روانہ کیا گیا تھا جسے نظام شمسی کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد مشتری، زحل ، یورینس اور نیپچون کا جائزہ لینا تھا جو  سنہ 1989 تک مکمل کر لیا تھا، جس کے بعد اسے دور خلا کی جانب سے روانہ کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1079113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خلائی جہاز اس وقت زمین سے 12 ارب میل دور ہے اور 35 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو نظام شمسی کی حد سے باہر نکل گیا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) نے کہا تھا کہ 21 جولائی کو وائجر 2 کو کمانڈ بھیجی گئی تھی جو حادثاتی طور پر غلط ثابت ہوئی جس کے باعث خلائی مشن کے انٹینا کا رخ زمین کی جانب نہیں رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انٹینا کا رخ زمین کی طرف نہ ہونے کی وجہ سے مشن زمین سے کسی بھی قسم کا کمانڈ وصول نہیں کرسکتا اور نہ سائنسی ڈیٹا منتقل کرسکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم حالیہ اپڈیٹ کے مطابق  وائجر کے پروجیکٹ مینیجر سوزان ڈوڈ کا کہنا ہے کہ خلائی مشن سے جلد از جلد رابطہ دوبارہ بحال کرنے کی آخری کوشش کے لیے  ڈیپ اسپیس نیٹ ورک کی مدد لی گئی ہے، ( یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں نصب عظیم الجثہ سیٹلائٹ ڈشوں پر مبنی ہے جن کا کام دور دراز خلائی جہازوں سے ڈیٹا کا حصول ہے)&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر آخری کوشش کامیاب رہی، خلائی مشن نے زمین کو سگنلز بھیجے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائجر اب بھی خلا میں کام کررہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ خلائی مشن کے انٹینا کا رخ زمین کی طرف کرنے کے لیے ہماری ٹیم نئی کمانڈ بھیجنے کی تیار کررہی ہے، تاہم اس کمانڈ کے کامیاب ہونے کے بہت کم امکانات ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگرچہ وائجر 2 کے ساتھ مکمل رابطہ ابھی تک بحال نہیں ہوا ہے، لیکن خلائی جہاز کو ایک باقاعدہ طریقہ کار انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جسے ”اورینٹیشن ری سیٹ“ کہا جاتا ہے، اس ری سیٹ میں خلائی جہاز کی پوزیشن کو ہر سال متعدد بار ایڈجسٹ کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کا انٹینا زمین کی طرف  ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگلی اوریئنٹیشن ری سیٹ 15 اکتوبر کو کی جائے گی جس کے بعد ناسا کا خیال ہے کہ وائجر ٹو سے رابطہ مکمل طور پر بحال ہوجائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گذشتہ 40 برسوں کے دوران دو وائجر خلا میں موجود ہیں، یہ دنیا کے تفصیلی مناظر زمین پر بھیجنے کا کام کرتے ہیں، انہوں نے اب تک  برف سے ڈھکے اور ایندھن پر مشتمل سموگ سے بھرے چاند کے حیرت انگیز مناظر بھیجے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان خلائی جہازوں نے سائنسدانوں کے زمین کے نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا ہے، اور اپنے ساتھ منسلک سنہرے گرامو فون ریکارڈز کے ساتھ یہ انسانی تہذیب کو اپنے ساتھ ستاروں تک بھی لے جا رہے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ وائجر ون اور وائجر ٹو واحد خلائی جہاز ہیں جو بالترتیب 2012 اور 2018 میں انٹرسٹیلر اسپیس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '&gt;
        &lt;div class='media__item  '&gt;&lt;picture&gt;&lt;img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/02105954774fc6b.jpg'  alt='' /&gt;&lt;/picture&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خلائی تاریخ کے مشہور ترین مشنز میں سے ایک ’وائجر 2‘ سے رابطہ منقطع ہونے کے تقریباً دو ہفتے بعد امریکی ادارے ناسا کا کہنا ہے کہ خلائی جہاز نے زمین پر سگنلز بھیجے ہیں، جس کے بعد تصدیق کی جارہی ہے کہ وائجر 2 اب بھی خلا میں کام کررہا ہے۔</p>
<p>غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق وائجر ٹو نامی خلائی جہاز کو 1977 میں خلا میں روانہ کیا گیا تھا جسے نظام شمسی کا مطالعہ کرنے کے لیے لانچ کیا گیا تھا۔</p>
<p>اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد مشتری، زحل ، یورینس اور نیپچون کا جائزہ لینا تھا جو  سنہ 1989 تک مکمل کر لیا تھا، جس کے بعد اسے دور خلا کی جانب سے روانہ کیا گیا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1079113"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یہ خلائی جہاز اس وقت زمین سے 12 ارب میل دور ہے اور 35 ہزار میل فی گھنٹہ کی رفتار سے سفر کر رہا ہے، جو نظام شمسی کی حد سے باہر نکل گیا ہے۔</p>
<p>ناسا کی جیٹ پروپلشن لیبارٹری (جے پی ایل) نے کہا تھا کہ 21 جولائی کو وائجر 2 کو کمانڈ بھیجی گئی تھی جو حادثاتی طور پر غلط ثابت ہوئی جس کے باعث خلائی مشن کے انٹینا کا رخ زمین کی جانب نہیں رہا تھا۔</p>
<p>انٹینا کا رخ زمین کی طرف نہ ہونے کی وجہ سے مشن زمین سے کسی بھی قسم کا کمانڈ وصول نہیں کرسکتا اور نہ سائنسی ڈیٹا منتقل کرسکتا ہے۔</p>
<p>تاہم حالیہ اپڈیٹ کے مطابق  وائجر کے پروجیکٹ مینیجر سوزان ڈوڈ کا کہنا ہے کہ خلائی مشن سے جلد از جلد رابطہ دوبارہ بحال کرنے کی آخری کوشش کے لیے  ڈیپ اسپیس نیٹ ورک کی مدد لی گئی ہے، ( یہ نیٹ ورک دنیا بھر میں نصب عظیم الجثہ سیٹلائٹ ڈشوں پر مبنی ہے جن کا کام دور دراز خلائی جہازوں سے ڈیٹا کا حصول ہے)</p>
<p>انہوں نے کہا کہ حیرت انگیز طور پر آخری کوشش کامیاب رہی، خلائی مشن نے زمین کو سگنلز بھیجے ہیں جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وائجر اب بھی خلا میں کام کررہا ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ خلائی مشن کے انٹینا کا رخ زمین کی طرف کرنے کے لیے ہماری ٹیم نئی کمانڈ بھیجنے کی تیار کررہی ہے، تاہم اس کمانڈ کے کامیاب ہونے کے بہت کم امکانات ہیں۔</p>
<p>اگرچہ وائجر 2 کے ساتھ مکمل رابطہ ابھی تک بحال نہیں ہوا ہے، لیکن خلائی جہاز کو ایک باقاعدہ طریقہ کار انجام دینے کے لیے ڈیزائن کیا گیا ہے جسے ”اورینٹیشن ری سیٹ“ کہا جاتا ہے، اس ری سیٹ میں خلائی جہاز کی پوزیشن کو ہر سال متعدد بار ایڈجسٹ کی جاتی ہے تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ اس کا انٹینا زمین کی طرف  ہے۔</p>
<p>اگلی اوریئنٹیشن ری سیٹ 15 اکتوبر کو کی جائے گی جس کے بعد ناسا کا خیال ہے کہ وائجر ٹو سے رابطہ مکمل طور پر بحال ہوجائے گا۔</p>
<p>گذشتہ 40 برسوں کے دوران دو وائجر خلا میں موجود ہیں، یہ دنیا کے تفصیلی مناظر زمین پر بھیجنے کا کام کرتے ہیں، انہوں نے اب تک  برف سے ڈھکے اور ایندھن پر مشتمل سموگ سے بھرے چاند کے حیرت انگیز مناظر بھیجے ہیں۔</p>
<p>ان خلائی جہازوں نے سائنسدانوں کے زمین کے نکتہ نظر کو تبدیل کر دیا ہے، اور اپنے ساتھ منسلک سنہرے گرامو فون ریکارڈز کے ساتھ یہ انسانی تہذیب کو اپنے ساتھ ستاروں تک بھی لے جا رہے ہیں۔</p>
<p>اس کے علاوہ وائجر ون اور وائجر ٹو واحد خلائی جہاز ہیں جو بالترتیب 2012 اور 2018 میں انٹرسٹیلر اسپیس تک پہنچنے میں کامیاب ہوئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-full  w-full  media--stretch  '>
        <div class='media__item  '><picture><img src='https://i.dawn.com/large/2023/08/02105954774fc6b.jpg'  alt='' /></picture></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208848</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Aug 2023 11:56:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/0210291602d2616.jpg?r=110110" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/0210291602d2616.jpg?r=110110"/>
        <media:title>اس خلائی جہاز کا بنیادی مقصد مشتری، زحل ، یورانس اور نیپچون کا جائزہ لینا تھا —فوٹو: ناسا
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
