<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Tech</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 13:08:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 13:08:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>لوگو کے بعد ٹوئٹر نے ’ری ٹوئٹ‘ کو ’پوسٹ‘ میں تبدیل کردیا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1208895/</link>
      <description>&lt;p&gt;مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے لوگو اور رنگت کے بعد ٹوئٹ کے نام کو بھی تبدیل کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کو ابتدائی طور پر24 جولائی کو تبدیل کرکے اس کی رنگت بلیو سے بلیک کردی گئی تھی اور اس کا تاریخی ’پرندے‘ کا لوگو ہٹاکر اس کی جگہ ’ایکس‘ دیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اب ٹوئٹر کو ’ایکس‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، تاہم تاحال پلیٹ فارم کا یو آر ایل یعنی ویب ایڈریس وہی ہے لیکن جب گوگل یا ایپل اسٹور سے اس کی ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کی جائے گی تو ’ایکس‘ کا نشان آجاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماضی میں پلے اسٹورز سے ٹوئٹر کی ایپلی کیشنز کو ڈاؤن لوڈ کرتے وقت اس پر پرندے کا لوگو نظر آتا تھا، جس کی رنگت بلیو ہوتی تھی لیکن اب اس کی جگہ ’ایکس‘ نے لے لی ہے جب کہ ایپلی کیشن کی رنگت بھی بلیک کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200402"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مذکورہ تبدیلیوں کے بعد ٹوئٹر نے دو اگست کو ایک اور بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ’ٹوئٹ‘ کے نام کو تبدیل کرکے ’پوسٹ‘ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہی نہیں بلکہ پلیٹ فارم نے ’ری ٹوئٹ‘ کا نام بھی تبدیل کرکے ’ری پوسٹ‘ کردیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ٹوئٹر کو جب سے بنایا گیا تھا، وہاں کسی بھی مواد کو شیئر کرنے کے لیے ’ٹوئٹ‘ کا نام استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب پہلی بار اسے تبدیل کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’پوسٹ‘ کا نام فیس بک سمیت انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی کیا جاتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ٹوئٹ‘ کے نام کو تبدیل کرکے ایلون مسک ’ایکسز‘ رکھنا چاہتے تھے لیکن پھر نام پر ممکنہ تنازع کے خدشے کے پیش نظر اب اس کا نام ’پوسٹ‘ کردیا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;’ایکسز‘ عام طور پر ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جن کے پیار کرنے والے افراد سے رومانوی تعلقات ختم ہوجائیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;علاوہ ازیں خبریں ہیں کہ جلد ہی ٹوئٹر پر بلیو ٹک کے بجائے بلیو ٹک متعارف کرایا جائے گا، یعنی بلیو کی جگہ بلیک رنگت لے لے گی جب کہ ٹک کی جگہ ممکنہ طور پر ایکس کا نشان دیا جانے لگے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایلون مسک آگے چل کر ٹوئٹر کا یو آر ایل یعنی ویب ایڈریس بھی تبدیل کرکے ’ایکس ڈاٹ کام‘ کردیں گے اور اس کے لیے صارفین کو نئے اکاؤنٹس نہیں بنانیں گے لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>مائکرو بلاگنگ ویب سائٹ ٹوئٹر نے اپنے لوگو اور رنگت کے بعد ٹوئٹ کے نام کو بھی تبدیل کردیا۔</p>
<p>ٹوئٹر کو ابتدائی طور پر24 جولائی کو تبدیل کرکے اس کی رنگت بلیو سے بلیک کردی گئی تھی اور اس کا تاریخی ’پرندے‘ کا لوگو ہٹاکر اس کی جگہ ’ایکس‘ دیا گیا تھا۔</p>
<p>اب ٹوئٹر کو ’ایکس‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے، تاہم تاحال پلیٹ فارم کا یو آر ایل یعنی ویب ایڈریس وہی ہے لیکن جب گوگل یا ایپل اسٹور سے اس کی ایپلی کیشن ڈاؤن لوڈ کی جائے گی تو ’ایکس‘ کا نشان آجاتا ہے۔</p>
<p>ماضی میں پلے اسٹورز سے ٹوئٹر کی ایپلی کیشنز کو ڈاؤن لوڈ کرتے وقت اس پر پرندے کا لوگو نظر آتا تھا، جس کی رنگت بلیو ہوتی تھی لیکن اب اس کی جگہ ’ایکس‘ نے لے لی ہے جب کہ ایپلی کیشن کی رنگت بھی بلیک کردی گئی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1200402"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مذکورہ تبدیلیوں کے بعد ٹوئٹر نے دو اگست کو ایک اور بڑی تبدیلی کرتے ہوئے ’ٹوئٹ‘ کے نام کو تبدیل کرکے ’پوسٹ‘ کردیا۔</p>
<p>یہی نہیں بلکہ پلیٹ فارم نے ’ری ٹوئٹ‘ کا نام بھی تبدیل کرکے ’ری پوسٹ‘ کردیا۔</p>
<p>ٹوئٹر کو جب سے بنایا گیا تھا، وہاں کسی بھی مواد کو شیئر کرنے کے لیے ’ٹوئٹ‘ کا نام استعمال کیا جاتا تھا لیکن اب پہلی بار اسے تبدیل کردیا گیا۔</p>
<p>’پوسٹ‘ کا نام فیس بک سمیت انسٹاگرام سمیت دیگر پلیٹ فارمز پر بھی کیا جاتا ہے۔</p>
<p>’ٹوئٹ‘ کے نام کو تبدیل کرکے ایلون مسک ’ایکسز‘ رکھنا چاہتے تھے لیکن پھر نام پر ممکنہ تنازع کے خدشے کے پیش نظر اب اس کا نام ’پوسٹ‘ کردیا گیا۔</p>
<p>’ایکسز‘ عام طور پر ایسے افراد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، جن کے پیار کرنے والے افراد سے رومانوی تعلقات ختم ہوجائیں۔</p>
<p>علاوہ ازیں خبریں ہیں کہ جلد ہی ٹوئٹر پر بلیو ٹک کے بجائے بلیو ٹک متعارف کرایا جائے گا، یعنی بلیو کی جگہ بلیک رنگت لے لے گی جب کہ ٹک کی جگہ ممکنہ طور پر ایکس کا نشان دیا جانے لگے گا۔</p>
<p>یہ خیال بھی ظاہر کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر ایلون مسک آگے چل کر ٹوئٹر کا یو آر ایل یعنی ویب ایڈریس بھی تبدیل کرکے ’ایکس ڈاٹ کام‘ کردیں گے اور اس کے لیے صارفین کو نئے اکاؤنٹس نہیں بنانیں گے لیکن اس حوالے سے کچھ بھی کہنا قبل از وقت ہے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Tech</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1208895</guid>
      <pubDate>Wed, 02 Aug 2023 22:37:08 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ٹیک ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/0219490251e7b12.jpg?r=194954" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/0219490251e7b12.jpg?r=194954"/>
        <media:title>—فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
