<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Tue, 23 Jun 2026 16:25:21 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Tue, 23 Jun 2026 16:25:21 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بھارت: نئی دہلی کے مضافات میں مذہبی فسادات کے بعد مساجد بند</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209031/</link>
      <description>&lt;p&gt;بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں اہم کاروباری مرکز میں مذہبی فسادات کے نتیجے میں 6 افراد کی ہلاکت کے بعد نماز جمعہ کے لیے مساجد بند کردی گئیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کا سٹیلائٹ شہر اور نوکیا، سام سنگ اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھارتی مرکز گروگرام میں کئی مساجد کے باہر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;شہر میں فسادات کا آغاز پیر کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب ہندو مذہبی جلوس پر پتھراؤ کیا گیا تھا اور مسلم اکثریتی ضلع نوح میں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رواں ہفتے گروگرام میں مسلح ہجوم نے ایک مسجد پر حملہ کرکے ایک عالم دین کو قتل کیا تھا اور انہوں نے ہندو مذہبی نعرے لگاتے ہوئے کئی دکانیں اور ریسٹورنٹس پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور آگ لگائی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق شہر میں منگل کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گروگرام میں متعدد مساجد میں مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اے ایف پی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر کی 5 مساجد بند کردی گئی تھیں اور تمام داخلی راستوں پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سرکاری عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے مساجد بند کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا اور مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے کشیدگی کے پیش نظر انہیں گھروں میں عبادت کرنے کی اپیل کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;صحافیوں کو سینئر پولیس افسر وارون کمار ڈاہیا نے بتایا کہ پولیس صرف سیکیورٹی کے معقول انتظامات یقینی بنانا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;رپورٹ کے مطابق گروگرام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 5 لاکھ ہے جہاں انہیں طویل عرصے سے نماز کی ادائیگی کے لیے اجازت کے حوالے سے تنازع کا سامنا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;میونسپل حکام نے شہریوں کی جانب سے احتجاج کے بعد نئی مساجد کی تعمیر بھی روک دی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دوسری جانب مسلمانوں نے ردعمل کے طور پر کھلے مقامات پر نماز کی ادائیگی شروع کردی تھی، جس پر بھی سخت گیر ہندووں نے نشانہ بنایا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208797"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ناقدین کی جانب سے ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جب سے اقتدار میں آئی ہے وہ مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اسی طرح 2020 میں نئی دہلی میں مذہبی فسادات میں 53 افراد مارے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ بھارتی ریاست گجرات میں 2002 میں بھی بدترین فسادات ہوئے تھے اور ایک ہزار افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور اس وقت بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی وزیراعلیٰ تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) نے رواں برس فروری میں گجرات کے فسادات پر ایک ڈاکیومنٹری نشر کی تھی، جس میں مودی کے اقدامات کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے بعد محکمہ ٹیکس نے بی بی سی کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس سے قبل 2012 میں بھارت کی سپریم کورٹ کے تحت ہونے والی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی کا اس حوالے سے کوئی منفی کردار نہیں تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بھارت کے دارالحکومت نئی دہلی کے مضافات میں اہم کاروباری مرکز میں مذہبی فسادات کے نتیجے میں 6 افراد کی ہلاکت کے بعد نماز جمعہ کے لیے مساجد بند کردی گئیں۔</p>
<p>خبرایجنسی اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق نئی دہلی کا سٹیلائٹ شہر اور نوکیا، سام سنگ اور دیگر ملٹی نیشنل کمپنیوں کا بھارتی مرکز گروگرام میں کئی مساجد کے باہر پولیس تعینات کردی گئی ہے۔</p>
<p>شہر میں فسادات کا آغاز پیر کو اس وقت شروع ہوئے تھے جب ہندو مذہبی جلوس پر پتھراؤ کیا گیا تھا اور مسلم اکثریتی ضلع نوح میں گاڑیوں کو نذر آتش کیا گیا تھا۔</p>
<p>رواں ہفتے گروگرام میں مسلح ہجوم نے ایک مسجد پر حملہ کرکے ایک عالم دین کو قتل کیا تھا اور انہوں نے ہندو مذہبی نعرے لگاتے ہوئے کئی دکانیں اور ریسٹورنٹس پر توڑ پھوڑ کی گئی تھی اور آگ لگائی گئی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208876"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>رپورٹ کے مطابق شہر میں منگل کو پیش آنے والے اس واقعے کے بعد کوئی بڑا واقعہ پیش نہیں آیا۔</p>
<p>گروگرام میں متعدد مساجد میں مسلمانوں کو نماز جمعہ پڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔</p>
<p>اے ایف پی رپورٹ میں بتایا گیا کہ شہر کی 5 مساجد بند کردی گئی تھیں اور تمام داخلی راستوں پر پولیس نے رکاوٹیں کھڑی کردی تھیں۔</p>
<p>سرکاری عہدیداروں کا کہنا تھا کہ حکام کی جانب سے مساجد بند کرنے کا کوئی حکم نہیں دیا گیا اور مسلمانوں کے مقامی رہنماؤں کی جانب سے کشیدگی کے پیش نظر انہیں گھروں میں عبادت کرنے کی اپیل کی تھی۔</p>
<p>صحافیوں کو سینئر پولیس افسر وارون کمار ڈاہیا نے بتایا کہ پولیس صرف سیکیورٹی کے معقول انتظامات یقینی بنانا ہے۔</p>
<p>رپورٹ کے مطابق گروگرام میں مسلمانوں کی آبادی تقریباً 5 لاکھ ہے جہاں انہیں طویل عرصے سے نماز کی ادائیگی کے لیے اجازت کے حوالے سے تنازع کا سامنا ہے۔</p>
<p>میونسپل حکام نے شہریوں کی جانب سے احتجاج کے بعد نئی مساجد کی تعمیر بھی روک دی تھی۔</p>
<p>دوسری جانب مسلمانوں نے ردعمل کے طور پر کھلے مقامات پر نماز کی ادائیگی شروع کردی تھی، جس پر بھی سخت گیر ہندووں نے نشانہ بنایا تھا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208797"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>ناقدین کی جانب سے ہندو قوم پرست حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) جب سے اقتدار میں آئی ہے وہ مسلمانوں کی آبادی کم کرنے کی کوشش کر رہی ہے، اسی طرح 2020 میں نئی دہلی میں مذہبی فسادات میں 53 افراد مارے گئے تھے۔</p>
<p>یاد رہے کہ بھارتی ریاست گجرات میں 2002 میں بھی بدترین فسادات ہوئے تھے اور ایک ہزار افراد مارے گئے تھے، جن میں اکثریت مسلمانوں کی تھی اور اس وقت بھارت کے موجودہ وزیراعظم نریندر مودی وزیراعلیٰ تھے۔</p>
<p>برطانوی نشریاتی ادارہ (بی بی سی) نے رواں برس فروری میں گجرات کے فسادات پر ایک ڈاکیومنٹری نشر کی تھی، جس میں مودی کے اقدامات کا حوالہ دیا گیا تھا، جس کے بعد محکمہ ٹیکس نے بی بی سی کے دفاتر پر چھاپے مارے تھے۔</p>
<p>اس سے قبل 2012 میں بھارت کی سپریم کورٹ کے تحت ہونے والی تحقیقات میں کہا گیا تھا کہ نریندر مودی کا اس حوالے سے کوئی منفی کردار نہیں تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209031</guid>
      <pubDate>Fri, 04 Aug 2023 22:45:00 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/04223935b974cb8.jpg" type="image/jpeg" medium="image" height="1200" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/04223935b974cb8.jpg"/>
        <media:title>شہر میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کردی گئی تھی—فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
