<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 17:19:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 17:19:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یوکرین کا روسی آئل ٹینکر پر ڈرون حملہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209106/</link>
      <description>&lt;p&gt;بارود سے بھرے یوکرین کے سمندری ڈرون نے روس کو کریمیا سے ملانے والے پُل کے قریب رات کے اوقات میں ایک روسی ایندھن کے ٹینکر کو نشانہ بنایا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار  میں شائع &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1768614/drone-hits-russian-oil-tanker"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق دونوں فریقین نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ اس طرح کا دوسرا حملہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کریمیا میں روس کی جانب سے تعینات کردہ حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن کریمین برج اور فیری ٹرانسپورٹ کئی گھنٹوں تک معطل رہی، کریمیا کو  روس نے 2014 میں یوکرین سے چھین لیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کے انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ 450 کلو گرام دھماکا خیز مواد کے ساتھ ڈرون نے ایس آئی جی جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ یوکرین کی سمندری حدود سے روسی فوج کے لیے ایندھن لے جا رہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ذرائع نے یوکرینی بحریہ اور سیکیورٹی سروس کے مشترکہ آپریشن کے بارے میں بتایا کہ نشانہ بنائے گئے ٹینکر میں ایندھن بھرا ہوا تھا، اس لیے شعلے کافی دور سے دیکھے گئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209104"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یوکرین کا کہنا ہے کہ فروری 2022 کے حملے کے بعد روس کے اندر یا یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول علاقے میں روسی فوجی انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنا جوابی کارروائی کے لیے اہم ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس حملے سے صرف ایک روز پہلے روس کے بحریہ کے اڈے پر ڈرون حملے میں ایک جنگی جہاز کو نقصان پہنچا تھا جس کے بعد یوکرین کی سرکاری ایجنسی نے خبر دار  کیا تھا کہ 6 روسی بندرگاہیں جنگی خطرے کے علاقے میں ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ماسکو کی اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد دونوں اطراف سے سمندری حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے دوران یوکرین کو شپنگ مرکز کے ذریعے اناج کی برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں اس پائپ لائن کا اختتام ہوتا ہے جو روس کے راستے قازق تیل کی زیادہ تر برآمدات کرتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;روسی حکام نے اتوار کو کریمیا کے بارے میں کہا تھا کہ کریمیا میں یوکرین کے 25 ڈرون تباہ کردیے گئے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بارود سے بھرے یوکرین کے سمندری ڈرون نے روس کو کریمیا سے ملانے والے پُل کے قریب رات کے اوقات میں ایک روسی ایندھن کے ٹینکر کو نشانہ بنایا۔</p>
<p>ڈان اخبار  میں شائع <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1768614/drone-hits-russian-oil-tanker">رپورٹ</a></strong> کے مطابق دونوں فریقین نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ اس طرح کا دوسرا حملہ ہے۔</p>
<p>کریمیا میں روس کی جانب سے تعینات کردہ حکام کے مطابق حملے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، لیکن کریمین برج اور فیری ٹرانسپورٹ کئی گھنٹوں تک معطل رہی، کریمیا کو  روس نے 2014 میں یوکرین سے چھین لیا تھا۔</p>
<p>یوکرین کے انٹیلی جنس ذرائع نے بتایا کہ 450 کلو گرام دھماکا خیز مواد کے ساتھ ڈرون نے ایس آئی جی جہاز کو اس وقت نشانہ بنایا جب وہ یوکرین کی سمندری حدود سے روسی فوج کے لیے ایندھن لے جا رہا تھا۔</p>
<p>ذرائع نے یوکرینی بحریہ اور سیکیورٹی سروس کے مشترکہ آپریشن کے بارے میں بتایا کہ نشانہ بنائے گئے ٹینکر میں ایندھن بھرا ہوا تھا، اس لیے شعلے کافی دور سے دیکھے گئے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209104"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یوکرین کا کہنا ہے کہ فروری 2022 کے حملے کے بعد روس کے اندر یا یوکرین میں روس کے زیر کنٹرول علاقے میں روسی فوجی انفرااسٹرکچر کو تباہ کرنا جوابی کارروائی کے لیے اہم ہے۔</p>
<p>اس حملے سے صرف ایک روز پہلے روس کے بحریہ کے اڈے پر ڈرون حملے میں ایک جنگی جہاز کو نقصان پہنچا تھا جس کے بعد یوکرین کی سرکاری ایجنسی نے خبر دار  کیا تھا کہ 6 روسی بندرگاہیں جنگی خطرے کے علاقے میں ہیں۔</p>
<p>خیال رہے کہ گزشتہ ماہ ماسکو کی اس معاہدے سے دستبرداری کے بعد دونوں اطراف سے سمندری حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کے تحت دونوں ممالک کے درمیان تنازع کے دوران یوکرین کو شپنگ مرکز کے ذریعے اناج کی برآمدات کی اجازت دی گئی تھی۔</p>
<p>بحیرہ اسود کی بندرگاہ نووروسیسک میں اس پائپ لائن کا اختتام ہوتا ہے جو روس کے راستے قازق تیل کی زیادہ تر برآمدات کرتی ہے۔</p>
<p>روسی حکام نے اتوار کو کریمیا کے بارے میں کہا تھا کہ کریمیا میں یوکرین کے 25 ڈرون تباہ کردیے گئے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209106</guid>
      <pubDate>Sun, 06 Aug 2023 13:44:26 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبارویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/06110345c2ad7c8.jpg?r=134506" type="image/jpeg" medium="image" height="1201" width="2000">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/06110345c2ad7c8.jpg?r=134506"/>
        <media:title>روس اور یوکرین دونوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہ اس طرح کا دوسرا حملہ ہے— فائل فوٹو: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
