<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan - Islamabad</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 13:16:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 13:16:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>نئی حلقہ بندیوں کیلئے الیکشن کمیشن آج ٹائم فریم کا اعلان کرے گا</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209211/</link>
      <description>&lt;p&gt;الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے حتمی نتائج کی منظوری کے بعد آج (منگل کو) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے لیے ٹائم فریم کا فیصلہ متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1768991/ecp-likely-to-announce-fresh-delimitation-time-frame-today"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آئینی مدت ختم ہونے سے 3 روز قبل 9 اگست کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے لیے اس ٹائم فریم کو سکیڑنا ممکن ہے یا نہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی موجودگی میں الیکشن کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈیجیٹل مردم شماری کے سرکاری نتائج کے اعداد و شمار کی روشنی میں لائحہ عمل طے کیا گیا، اجلاس میں الیکشن کمیشن کے 4 ارکان کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن، اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن اور قانونی ٹیم نے بھی شرکت کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے غور کے بعد قانونی ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ آج (منگل) کو قانون اور آئین کی روشنی میں اس حوالے سے مزید پیش رفت کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;الیکشن کمیشن نے اپنی اسکروٹنی کمیٹی کو آئندہ 10 روز میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی غیرملکی فنڈنگ کی رپورٹس پیش کرنے کا بھی کہا اور ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ اسے ایک آخری ڈیڈلائن سمجھا جانا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قانون ٹیم کو الیکشن کمیشن نے مزید ہدایت دی کی کہ وہ ان کے سامنے زیر التوا تمام نجی شکایات پر جلد سماعت اور فیصلوں کے لیے مختلف عدالتوں سے رجوع کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس اجلاس سے ایک روز قبل  پیپلزپارٹی کے ایک سینیٹر نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ انتخابات میں تاخیر اور طویل عرصے کے لیے نگران سیٹ اپ کے منصوبے کی افواہوں کے پیش نظر حلقہ بندیوں کے معاملے پر اپنی خاموشی ختم کرے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اراکین پارلیمنٹ حالیہ چند روز میں عام انتخابات میں تاخیر کے امکانات پیدا ہونے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، خاص طور پر نگران حکومت کو غیر معمولی اختیارات دینے والے قانون کی منظوری کے بعد تواتر سے ان تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206779"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے 2023 کی مردم شماری کی توثیق کے بعد یہ تقریباً یقینی ہو گیا کہ نئی حلقہ بندیوں کی لازمی ضرورت کی وجہ سے رواں برس عام انتخابات نہیں ہو سکتے، وفاقی حکومت نے آئندہ 3 ماہ میں انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال دی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ماضی قریب میں اعلان کیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں پر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے، اس مشق میں 4 سے 6 ماہ درکار ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مشترکہ مفادات کونسل نے اتوار (6 اگست) کو مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی تھی، جس سے یہ تقریباً یقینی ہو گیا کہ رواں برس عام انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>الیکشن کمیشن کے ایک سینیئر عہدیدار نے بتایا کہ پہلی ڈیجیٹل مردم شماری کے حتمی نتائج کی منظوری کے بعد آج (منگل کو) الیکشن کمیشن آف پاکستان (ای سی پی) کی جانب سے نئی حلقہ بندیوں کے لیے ٹائم فریم کا فیصلہ متوقع ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1768991/ecp-likely-to-announce-fresh-delimitation-time-frame-today"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی جانب سے یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آئینی مدت ختم ہونے سے 3 روز قبل 9 اگست کو قومی اسمبلی کی تحلیل کے بعد 90 روز کے اندر انتخابات کرانے کے لیے اس ٹائم فریم کو سکیڑنا ممکن ہے یا نہیں۔</p>
<p>گزشتہ روز چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی موجودگی میں الیکشن کمیشن کا ایک اہم اجلاس منعقد ہوا جس میں ڈیجیٹل مردم شماری کے سرکاری نتائج کے اعداد و شمار کی روشنی میں لائحہ عمل طے کیا گیا، اجلاس میں الیکشن کمیشن کے 4 ارکان کے علاوہ سیکریٹری الیکشن کمیشن، اسپیشل سیکریٹری الیکشن کمیشن اور قانونی ٹیم نے بھی شرکت کی۔</p>
<p>الیکشن کمیشن نے غور کے بعد قانونی ٹیم کو ہدایت دی کہ وہ آج (منگل) کو قانون اور آئین کی روشنی میں اس حوالے سے مزید پیش رفت کے لیے رہنمائی فراہم کریں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209040"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>الیکشن کمیشن نے اپنی اسکروٹنی کمیٹی کو آئندہ 10 روز میں مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کی غیرملکی فنڈنگ کی رپورٹس پیش کرنے کا بھی کہا اور ساتھ ہی یہ واضح کیا کہ اسے ایک آخری ڈیڈلائن سمجھا جانا چاہیے۔</p>
<p>قانون ٹیم کو الیکشن کمیشن نے مزید ہدایت دی کی کہ وہ ان کے سامنے زیر التوا تمام نجی شکایات پر جلد سماعت اور فیصلوں کے لیے مختلف عدالتوں سے رجوع کرے۔</p>
<p>اس اجلاس سے ایک روز قبل  پیپلزپارٹی کے ایک سینیٹر نے الیکشن کمیشن سے کہا تھا کہ وہ انتخابات میں تاخیر اور طویل عرصے کے لیے نگران سیٹ اپ کے منصوبے کی افواہوں کے پیش نظر حلقہ بندیوں کے معاملے پر اپنی خاموشی ختم کرے۔</p>
<p>اراکین پارلیمنٹ حالیہ چند روز میں عام انتخابات میں تاخیر کے امکانات پیدا ہونے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں، خاص طور پر نگران حکومت کو غیر معمولی اختیارات دینے والے قانون کی منظوری کے بعد تواتر سے ان تحفظات کا اظہار کیا جارہا ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1206779"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>مشترکہ مفادات کونسل (سی سی آئی) کی جانب سے 2023 کی مردم شماری کی توثیق کے بعد یہ تقریباً یقینی ہو گیا کہ نئی حلقہ بندیوں کی لازمی ضرورت کی وجہ سے رواں برس عام انتخابات نہیں ہو سکتے، وفاقی حکومت نے آئندہ 3 ماہ میں انتخابات کے انعقاد کی ذمہ داری الیکشن کمیشن پر ڈال دی ہے۔</p>
<p>یاد رہے کہ الیکشن کمیشن نے ماضی قریب میں اعلان کیا تھا کہ نئی حلقہ بندیوں پر انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ہے، اس مشق میں 4 سے 6 ماہ درکار ہوں گے۔</p>
<p>مشترکہ مفادات کونسل نے اتوار (6 اگست) کو مردم شماری کے نتائج کی منظوری دے دی تھی، جس سے یہ تقریباً یقینی ہو گیا کہ رواں برس عام انتخابات نہیں ہو سکیں گے۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209211</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Aug 2023 11:15:05 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (افتخار اے خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/080831441f857d7.jpg?r=083242" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/080831441f857d7.jpg?r=083242"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/08083213a85b656.jpg?r=083509" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/08083213a85b656.jpg?r=083509"/>
        <media:title>اراکین پارلیمنٹ حالیہ چند روز میں عام انتخابات میں تاخیر کے امکانات پیدا ہونے پر تحفظات کا اظہار کر رہے ہیں—فائل فوٹو : اے پی پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
