<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Asia</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 00:07:54 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 00:07:54 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>بنگلہ دیش: قرآن پاک کے درجنوں نسخے نذرآتش کرنے پر ہزاروں افراد کا مظاہرہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209220/</link>
      <description>&lt;p&gt;بنگلہ دیش میں قرآن پاک کے درجنوں نسخوں کو نذر آتش کیے جانے کے بعد ہزاروں مشتعل افراد نے مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1768990/thousands-protest-in-bd-over-alleged-desecration-of-holy-quran"&gt;شائع&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ جب مشتعل ہجوم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں 2 افراد پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے اتوار سے پیر کی رات تک کم از کم 10 ہزار افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال اور ربر کی گولیاں چلائیں، اس دوران جھڑپوں میں 14 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دونوں افراد کو شمال مشرقی شہر سلہٹ سے گرفتار کیا گیا ہے جو بنگلہ دیش کے انتہائی قدامت پسند حصوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اس حوالے سے پولیس نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے قرآن پاک کے نسخے اس لیے نذر آتش کر دیے تھے کیونکہ وہ ’بہت پرانے تھے جبکہ ان میں سے کچھ میں پرنٹنگ کی غلطیاں تھیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198214"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پولیس نے کہا کہ ملزمان اسکول کے پرنسپل نور الرحمٰن اور محبوب عالم ہیں جبکہ انہوں نے ’نذر آتش کیے گئے قرآن کے 45 نسخے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں‘۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بعض علما کے نزدیک قرآن پاک کے ان نسخوں کو جو اب قابلِ استعمال نہیں ہیں انہیں احترام کے ساتھ ضائع کرنا جائز ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ مہینے سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے بعد متعدد مسلم ممالک میں مظاہروں کیے گئے تھے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;سویڈن اور ڈنمارک نے بے حرمتی کی مذمت کی لیکن آزادی اظہار اور اجتماع سے متعلق اپنے قوانین کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بنگلہ دیش کی آبادی 17 کروڑ ہے جن میں سے 90 فیصد مسلمان ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>بنگلہ دیش میں قرآن پاک کے درجنوں نسخوں کو نذر آتش کیے جانے کے بعد ہزاروں مشتعل افراد نے مظاہرہ کیا جس کے نتیجے میں متعدد پولیس اہلکار زخمی ہوگئے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1768990/thousands-protest-in-bd-over-alleged-desecration-of-holy-quran">شائع</a></strong> غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق پولیس نے بتایا کہ جب مشتعل ہجوم نے قرآن پاک کی بے حرمتی کے الزام میں 2 افراد پر حملہ کرنے کی کوشش کی تو پولیس نے اتوار سے پیر کی رات تک کم از کم 10 ہزار افراد کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کا استعمال اور ربر کی گولیاں چلائیں، اس دوران جھڑپوں میں 14 پولیس اہلکار زخمی ہوئے۔</p>
<p>ان دونوں افراد کو شمال مشرقی شہر سلہٹ سے گرفتار کیا گیا ہے جو بنگلہ دیش کے انتہائی قدامت پسند حصوں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، اس حوالے سے پولیس نے مؤقف اپنایا کہ انہوں نے قرآن پاک کے نسخے اس لیے نذر آتش کر دیے تھے کیونکہ وہ ’بہت پرانے تھے جبکہ ان میں سے کچھ میں پرنٹنگ کی غلطیاں تھیں‘۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1198214"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پولیس نے کہا کہ ملزمان اسکول کے پرنسپل نور الرحمٰن اور محبوب عالم ہیں جبکہ انہوں نے ’نذر آتش کیے گئے قرآن کے 45 نسخے اپنے قبضے میں لے لیے ہیں‘۔</p>
<p>بعض علما کے نزدیک قرآن پاک کے ان نسخوں کو جو اب قابلِ استعمال نہیں ہیں انہیں احترام کے ساتھ ضائع کرنا جائز ہے۔</p>
<p>گزشتہ مہینے سویڈن اور ڈنمارک میں قرآن پاک کی بے حرمتی کرنے کے بعد متعدد مسلم ممالک میں مظاہروں کیے گئے تھے۔</p>
<p>سویڈن اور ڈنمارک نے بے حرمتی کی مذمت کی لیکن آزادی اظہار اور اجتماع سے متعلق اپنے قوانین کے تحت کوئی کارروائی نہیں کی۔</p>
<p>بنگلہ دیش کی آبادی 17 کروڑ ہے جن میں سے 90 فیصد مسلمان ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209220</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Aug 2023 16:18:11 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/08130910d0eeffd.jpg?r=161822" type="image/jpeg" medium="image" height="479" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/08130910d0eeffd.jpg?r=161822"/>
        <media:title>جھڑپوں میں 14 پولیس اہلکار زخمی ہوئے —فائل فوٹو: اے ایف پی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
