<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Life &amp; Style</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 11:01:45 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 11:01:45 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>رضوانہ پر تشدد جیسے واقعات پڑھے لکھے گھرانوں میں ہوتے ہیں، ماہرہ خان</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209250/</link>
      <description>&lt;p&gt;’سپر اسٹار‘ اداکارہ ماہرہ خان نے پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ پر سول جج کی اہلیہ کے بہیمانہ تشدد پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کیسز عام طور پر پڑھے لکھے اور بااثر گھرانوں میں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرہ خان کی ویڈیو کو اداکارہ و سماجی رہنما نادیہ جمیل نے ٹوئٹ کیا، جس میں اداکارہ رضوانہ تشدد پر بات کرتی دکھائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر ویڈیو میں ماہرہ خان نے شوبز سمیت دیگر شخصیات سے رضوانہ تشدد کیس جیسے دوسرے واقعات پر آواز اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ چونکہ ایسے افراد کو بہت سارے لوگ جانتے ہیں، اس لیے ان کی آواز اثر رکھتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ بچوں سے مشقت کروانا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/NJLahori/status/1688633032117452800"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرہ خان نے کہا کہ بچوں کو کام کے لیے بھیجنے پر غریب والدین سے کوئی شکایت نہیں لیکن ان سے کام کروانے والے امیر افراد کو یہ نہیں کرنا چاہیے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر رضوانہ جیسے واقعات پڑھے لکھے اور بااثر امیر گھرانوں میں ہوتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کے مطابق چونکہ ایسے گھرانوں کے مالکان کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں آسانی سے ضمانت مل جائے گی، وہ قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے، انہیں کچھ نہیں ہوگا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208346"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اداکارہ نے سماجی رہنماؤں، سیاست دانوں اور معروف شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے کیسز پر آواز اٹھاکر مظلوم بچوں کو انصاف دلانے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے افراد کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ماہرہ خان سے قبل سجل علی نے بھی رضوانہ پر تشدد پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا اور ساتھ ہی انہوں نے شوبز شخصیات کو مذکورہ معاملے پر آواز اٹھانے کا بھی کہا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خیال رہے کہ 13 سالہ رضوانہ پر تشدد کا واقعہ 25 جولائی کو اسلام آباد میں رپورٹ ہوا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج کیا تھا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;26 جولائی کو پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد میں ملوث جج اور ان کی اہلیہ روپوش ہوگئے، بعد ازاں جج کی اہلیہ نے لاہور ہائی کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت کروالی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;28 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف ملازمہ پر تشدد کے کیس میں نئی دفعہ 328-اے (بچے پر ظلم) کا اضافہ کیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;30 جولائی کو بچی کی طبیعت مزید بگڑ گئی جس پر اسے لاہور جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا، ایک ہفتے بعد ان کی طبیعت میں بہتری آنے لگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209236"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یکم اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 7 اگست تک توسیع کی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;7 اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزمہ سومیا عاصم کی ضمانت خارج کرکے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا،جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ملزمہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>’سپر اسٹار‘ اداکارہ ماہرہ خان نے پنجاب کے شہر سرگودھا سے تعلق رکھنے والی 13 سالہ گھریلو ملازمہ رضوانہ پر سول جج کی اہلیہ کے بہیمانہ تشدد پر اظہار افسوس کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے کیسز عام طور پر پڑھے لکھے اور بااثر گھرانوں میں ہوتے ہیں۔</p>
<p>ماہرہ خان کی ویڈیو کو اداکارہ و سماجی رہنما نادیہ جمیل نے ٹوئٹ کیا، جس میں اداکارہ رضوانہ تشدد پر بات کرتی دکھائی دیں۔</p>
<p>مختصر ویڈیو میں ماہرہ خان نے شوبز سمیت دیگر شخصیات سے رضوانہ تشدد کیس جیسے دوسرے واقعات پر آواز اٹھانے کا مطالبہ بھی کیا اور کہا کہ چونکہ ایسے افراد کو بہت سارے لوگ جانتے ہیں، اس لیے ان کی آواز اثر رکھتی ہے۔</p>
<p>انہوں نے ویڈیو میں کہا کہ بچوں سے مشقت کروانا غیر قانونی اور غیر اخلاقی ہے اور اس کی حوصلہ شکنی ہونی چاہیے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/NJLahori/status/1688633032117452800"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ماہرہ خان نے کہا کہ بچوں کو کام کے لیے بھیجنے پر غریب والدین سے کوئی شکایت نہیں لیکن ان سے کام کروانے والے امیر افراد کو یہ نہیں کرنا چاہیے۔</p>
<p>اداکارہ کا کہنا تھا کہ عام طور پر رضوانہ جیسے واقعات پڑھے لکھے اور بااثر امیر گھرانوں میں ہوتے ہیں۔</p>
<p>ان کے مطابق چونکہ ایسے گھرانوں کے مالکان کو بخوبی معلوم ہوتا ہے کہ انہیں آسانی سے ضمانت مل جائے گی، وہ قانون کی گرفت سے بچ جائیں گے، انہیں کچھ نہیں ہوگا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1208346"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اداکارہ نے سماجی رہنماؤں، سیاست دانوں اور معروف شخصیات سے مطالبہ کیا کہ وہ ایسے کیسز پر آواز اٹھاکر مظلوم بچوں کو انصاف دلانے کی کوشش کریں، کیوں کہ ایسے افراد کی آوازیں سنی جاتی ہیں۔</p>
<p>ماہرہ خان سے قبل سجل علی نے بھی رضوانہ پر تشدد پر اظہار افسوس کرتے ہوئے ملزمان کو سخت سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا اور ساتھ ہی انہوں نے شوبز شخصیات کو مذکورہ معاملے پر آواز اٹھانے کا بھی کہا تھا۔</p>
<p>خیال رہے کہ 13 سالہ رضوانہ پر تشدد کا واقعہ 25 جولائی کو اسلام آباد میں رپورٹ ہوا تھا، جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد کا مقدمہ درج کیا تھا۔</p>
<p>26 جولائی کو پولیس نے دعویٰ کیا تھا کہ 13 سالہ گھریلو ملازمہ پر مبینہ تشدد میں ملوث جج اور ان کی اہلیہ روپوش ہوگئے، بعد ازاں جج کی اہلیہ نے لاہور ہائی کورٹ سے قبل از گرفتاری ضمانت کروالی تھی۔</p>
<p>28 جولائی کو اسلام آباد پولیس نے سول جج کی اہلیہ کے خلاف ملازمہ پر تشدد کے کیس میں نئی دفعہ 328-اے (بچے پر ظلم) کا اضافہ کیا۔</p>
<p>30 جولائی کو بچی کی طبیعت مزید بگڑ گئی جس پر اسے لاہور جنرل ہسپتال کے انتہائی نگہداشت یونٹ (آئی سی یو) میں منتقل کیا گیا، ایک ہفتے بعد ان کی طبیعت میں بہتری آنے لگی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209236"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یکم اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے سول جج کی اہلیہ سومیا عاصم کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواست منظور کرتے ہوئے ان کی عبوری ضمانت میں 7 اگست تک توسیع کی تھی۔</p>
<p>7 اگست کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ نے ملزمہ سومیا عاصم کی ضمانت خارج کرکے انہیں گرفتار کرنے کا حکم دیا،جس کے بعد اسلام آباد پولیس نے ملزمہ کو احاطہ عدالت سے گرفتار کر لیا تھا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Life &amp; Style</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209250</guid>
      <pubDate>Tue, 08 Aug 2023 19:50:25 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (انٹرٹینمنٹ ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/081838437bcdf33.jpg?r=195036" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/081838437bcdf33.jpg?r=195036"/>
        <media:title>— اسکرین شاٹ
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
