<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Sport - Cricket</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Fri, 08 May 2026 15:19:32 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Fri, 08 May 2026 15:19:32 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں تبدیلی، صوبوں کی ٹیمیں ختم، ڈپارٹمنٹس کے نئے ٹورنامنٹ کا اضافہ</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209591/</link>
      <description>&lt;p&gt;پاکستان کرکٹ کے ڈومیسٹک نظام میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ہے جہاں اضافی فرسٹ کلاس مقابلے کے آغاز کے ساتھ ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں دو ڈپارٹمنٹل ٹیموں کی واپسی متوقع ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے &lt;strong&gt;&lt;a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.espncricinfo.com/story/pcb-adds-presidents-trophy-to-quaid-e-azam-trophy-in-pakistan-first-class-calendar-1391980"&gt;مطابق&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; ماضی کے برعکس اس مرتبہ ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے میچوں میں ریجنل ٹیموں کے ہمراہ شرکت نہیں کریں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے بجائے آٹھ ڈپارٹمنٹل ٹیمیں ایک علیحدہ ٹورنامنٹ میں مدمقابل ہوں گی جسے پریذیڈنٹ ٹرافی کا نام دیا جائے گا اور یہ ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کے اختتام پر منعقد ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اس کے علاوہ قائد اعظم ٹرافی میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کردی گئی ہے جس میں صوبوں کی ٹیموں کے بجائے اب 8 شہروں کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;قائد اعظم ٹرافی 10 ستمبر سے 26 اکتوبر تک کھیلی جائے گی جبکہ پریذیڈنٹ کپ 15دسمبر سے 30 جنوری تک منعقد ہو گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان دو ٹورنامنٹس کے علاوہ 10 ریجنل ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے دوسرے ڈویژن میں آمنے سامنے ہوں گی اور اس ٹورنامنٹ کا نام حنیف احمد ٹرافی ہو گا اور یہ میچ قائد اعظم ٹرافی کے میچز کے ساتھ ہی منعقد ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جو آٹھ ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے میچز کھیلیں گی ان میں کراچی وائٹس، پشاور، لاہور بلوش، راولپنڈی، فاٹا، ملتان، لاہور وائٹس اور فیصل آباد شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پریذیڈنٹ کپ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن، سوئی سدرن گیس پائپ لائن، واپڈا، خان ریسرچ لیبارٹری، پاکستان ٹیلی ویژن، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک شامل ہیں جبکہ آٹھویں ٹیم کی تصدیق بعد میں کی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209351"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دونوں ٹورنامنٹس میں پہلے لیگ میچز منعقد ہوں گے اور پھر دو بہترین ٹیموں کے درمیان فائنل کھیلا جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ تبدیلیاں حیران کن نہیں کیونکہ عمران خان کے دور حکومت میں اس وقت کے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی جانب سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں کی گئی تبدیلیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ بھی پرانی طرز پر بحال کردی جائے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ریجنل اور ڈپارٹمنٹل ٹورنامنٹس کے الگ الگ انعقاد کے نتیجے میں اب کھلاڑی ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے ساتھ ساتھ ریجنل ٹیموں کی بھی نمائندگی کر سکیں گے اور ڈپارٹمنٹس کے مالی طور پر مستحکم ہونے کی وجہ سے قائد اعظم ٹرافی کی جگہ پریذیڈنٹ کپ سب سے اعلیٰ معیار کا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ بن جائے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز جنید ضیا نے کہا کہ ان ٹورنامنٹ کی بدولت ڈپارٹمنٹس اور ریجنز کو کھیل کے یکساں مواقع میسر آ سکیں گے کیونکہ دونوں کو بہترین باصلاحیت کھلاڑی دستیاب ہوں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کا کہنا تھا کہ ریجنز اور ڈپارٹمنٹس کے مختلف ٹورنامنٹس کی بدولت کرکٹرز کے لیے بھی نئے مواقع میسر ہوں گے جو زیادہ کنٹریکٹس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں میچز سے استفادہ کر سکیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ تبدیلیاں ایک ایسے موقع پر کی گئی ہیں جب آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کے میدانوں پر کوئی ٹیسٹ سیریز شیڈول نہیں ہے اور پاکستان کی ٹیم اس تمام عرسے میں صرف تین ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف اسی کی سرزمین پر کھیلے گی۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>پاکستان کرکٹ کے ڈومیسٹک نظام میں ایک مرتبہ پھر بڑے پیمانے پر تبدیلیوں کا امکان ہے جہاں اضافی فرسٹ کلاس مقابلے کے آغاز کے ساتھ ہی ڈومیسٹک کرکٹ میں دو ڈپارٹمنٹل ٹیموں کی واپسی متوقع ہے۔</p>
<p>کرکٹ ویب سائٹ کرک انفو کے <strong><a rel="noopener noreferrer" target="_blank" class="link--external" href="https://www.espncricinfo.com/story/pcb-adds-presidents-trophy-to-quaid-e-azam-trophy-in-pakistan-first-class-calendar-1391980">مطابق</a></strong> ماضی کے برعکس اس مرتبہ ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے میچوں میں ریجنل ٹیموں کے ہمراہ شرکت نہیں کریں گی۔</p>
<p>اس کے بجائے آٹھ ڈپارٹمنٹل ٹیمیں ایک علیحدہ ٹورنامنٹ میں مدمقابل ہوں گی جسے پریذیڈنٹ ٹرافی کا نام دیا جائے گا اور یہ ٹورنامنٹ قائد اعظم ٹرافی کے اختتام پر منعقد ہو گا۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209450"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>اس کے علاوہ قائد اعظم ٹرافی میں شرکت کرنے والی ٹیموں کی تعداد چھ سے بڑھا کر آٹھ کردی گئی ہے جس میں صوبوں کی ٹیموں کے بجائے اب 8 شہروں کی ٹیمیں مدمقابل ہوں گی۔</p>
<p>قائد اعظم ٹرافی 10 ستمبر سے 26 اکتوبر تک کھیلی جائے گی جبکہ پریذیڈنٹ کپ 15دسمبر سے 30 جنوری تک منعقد ہو گا۔</p>
<p>ان دو ٹورنامنٹس کے علاوہ 10 ریجنل ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے دوسرے ڈویژن میں آمنے سامنے ہوں گی اور اس ٹورنامنٹ کا نام حنیف احمد ٹرافی ہو گا اور یہ میچ قائد اعظم ٹرافی کے میچز کے ساتھ ہی منعقد ہوں گے۔</p>
<p>جو آٹھ ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے میچز کھیلیں گی ان میں کراچی وائٹس، پشاور، لاہور بلوش، راولپنڈی، فاٹا، ملتان، لاہور وائٹس اور فیصل آباد شامل ہیں۔</p>
<p>پریذیڈنٹ کپ میں سوئی ناردرن گیس پائپ لائن، سوئی سدرن گیس پائپ لائن، واپڈا، خان ریسرچ لیبارٹری، پاکستان ٹیلی ویژن، نیشنل بینک آف پاکستان اور اسٹیٹ بینک شامل ہیں جبکہ آٹھویں ٹیم کی تصدیق بعد میں کی جائے گی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209351"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دونوں ٹورنامنٹس میں پہلے لیگ میچز منعقد ہوں گے اور پھر دو بہترین ٹیموں کے درمیان فائنل کھیلا جائے گا۔</p>
<p>تاہم ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ تبدیلیاں حیران کن نہیں کیونکہ عمران خان کے دور حکومت میں اس وقت کے چیئرمین پی سی بی احسان مانی کی جانب سے ڈومیسٹک ٹورنامنٹس میں کی گئی تبدیلیوں کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا اور اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ تحریک انصاف حکومت کے خاتمے کے بعد جلد ہی ڈومیسٹک کرکٹ بھی پرانی طرز پر بحال کردی جائے گی۔</p>
<p>ریجنل اور ڈپارٹمنٹل ٹورنامنٹس کے الگ الگ انعقاد کے نتیجے میں اب کھلاڑی ڈپارٹمنٹل ٹیموں کے ساتھ ساتھ ریجنل ٹیموں کی بھی نمائندگی کر سکیں گے اور ڈپارٹمنٹس کے مالی طور پر مستحکم ہونے کی وجہ سے قائد اعظم ٹرافی کی جگہ پریذیڈنٹ کپ سب سے اعلیٰ معیار کا ڈومیسٹک ٹورنامنٹ بن جائے گا۔</p>
<p>ڈائریکٹر ڈومیسٹک کرکٹ آپریشنز جنید ضیا نے کہا کہ ان ٹورنامنٹ کی بدولت ڈپارٹمنٹس اور ریجنز کو کھیل کے یکساں مواقع میسر آ سکیں گے کیونکہ دونوں کو بہترین باصلاحیت کھلاڑی دستیاب ہوں گے۔</p>
<p>ان کا کہنا تھا کہ ریجنز اور ڈپارٹمنٹس کے مختلف ٹورنامنٹس کی بدولت کرکٹرز کے لیے بھی نئے مواقع میسر ہوں گے جو زیادہ کنٹریکٹس کے ساتھ ساتھ بڑی تعداد میں میچز سے استفادہ کر سکیں گے۔</p>
<p>یہ بات قابل ذکر ہے کہ ڈومیسٹک کرکٹ میں یہ تبدیلیاں ایک ایسے موقع پر کی گئی ہیں جب آئندہ 12 ماہ کے دوران پاکستان کے میدانوں پر کوئی ٹیسٹ سیریز شیڈول نہیں ہے اور پاکستان کی ٹیم اس تمام عرسے میں صرف تین ٹیسٹ میچ آسٹریلیا کے خلاف اسی کی سرزمین پر کھیلے گی۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Sport</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209591</guid>
      <pubDate>Sun, 13 Aug 2023 01:53:12 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (اسپورٹس ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/1223593568ae8ac.png?r=235950" type="image/png" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/1223593568ae8ac.png?r=235950"/>
        <media:title>ماضی کے برعکس اس مرتبہ ڈپارٹمنٹ کی ٹیمیں قائد اعظم ٹرافی کے میچوں میں ریجنل ٹیموں کے ہمراہ شرکت نہیں کریں گی— فوٹو بشکریہ پی سی بی
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
