<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - America Europe</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 01:06:43 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 01:06:43 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>امریکا: کورونا کی نئی قسم ’ایرس‘ کا خدشہ، نئی ویکسین آئندہ ماہ متعارف ہوگی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209722/</link>
      <description>&lt;p&gt;امریکی طبی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ کورونا کی نئی ویکسین جاری کی جائے گی جبکہ کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کی نئی قسم ’ایرس‘ سے ملک بھر متعدد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار میں شائع غیرملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی &lt;strong&gt;&lt;a href="https://www.dawn.com/news/1770190/new-covid-vaccines-on-the-way-as-eris-variant-rises"&gt;رپورٹ&lt;/a&gt;&lt;/strong&gt; کے مطابق صحت عامہ کے کچھ ماہرین کو امید ہے کہ امریکی عوام وائرس سے بچنے کے لیے اس نئی ویکسین کا خیرمقدم کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2021 میں جب  پہلی بار ویکسین دستیاب ہوئی تھی اس وقت امریکا میں 24 کروڑ سے زائد افراد (یا 73 فیصد آبادی) کو ان ویکسینز کی کم از کم ایک خوراک ضرور ملی تھی لیکن اس کے بعد سے اس ویکسین کی مانگ میں تیزی سے کمی آئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;2022 کے موسم خزاں تک زیادہ تر لوگوں کو یا تو کورونا وائرس ہوچکا تھا یا پھر انہیں ویکسین لگ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ 5 کروڑ سے بھی کم لوگوں کو ویکسین لگیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;طبی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے اور سی وی ایس ہیلتھ جیسی فارمیسیز آئندہ ماہ ویکسین لگانا شروع کریں گے تاکہ کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ (جو کہ گزشتہ ماہ کافی متحرک تھا) کی نئی قسم سے مقابلہ کیا جاسکے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کائزر فیملی فاؤنڈیشن (کے ایف ایف) کے سروے میتھوڈولوجی کی ڈائریکٹر ایشلے کرزنگر نے کہا کہ انہیں وائرس کے حوالے سے کم ہوتی ہوئی تشویش کے ساتھ ساتھ اس ویکسین کی خوبیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے کہا کہ اگر صحت عامہ کے حکام یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بالغ افراد کی اکثریت یہ ویکسین لگوائے تو انہیں امریکی عوام کے سامنے یہ واضح کرنا ہوگا کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہ اب بھی ان کے لیے خطرہ ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے آغاز میں ہونے والے کے ایف ایف کے سروے کے دوران ویکسین کے شاٹس نہ لگانے کی زیادہ تر لوگوں نے جو وجہ بتائی وہ یہ تھی کہ انہیں لگ رہا تھا کہ کورونا وائرس یا کسی دوسرے انفیکشنز سے بچنے کے لیے پہلے لگائی گئیں ویکسین کی بدولت وہ اب بھی اس وائرس سے محفوظ رہیں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کورونا ویکسین بنانے والے ادارے کی اس خزاں کے موسم میں ویکیسن مہم توقعات کے مطابق نہ چل سکی، فائزر اور بائیو این ٹیک جیسے بڑے ناموں نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو نوکریاں کم کرنے کی نوبت آسکتی ہے، اس کے سب سے بڑے حریف ’موڈرنا‘ نے کہا ہے کہ ویکسین کی طلب 5 کروڑ شاٹس تک کم ہوسکتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1174150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;گزشتہ سال فائزر اور موڈرنا کی ویکسین کی فروخت دنیا بھر میں 56 ارب ڈالرز تک پہنچی تھی جبکہ تجزیہ کار رواں برس تقریباً 20 ارب ڈالرز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;جیفریز کے تجزیہ کار مائیکل یی نے کہا کہ انہیں توقع نہیں ہے کہ موسمِ خزاں کی مہم گزشتہ سال کی طرح ہوگی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے موسم سرما میں جو ہوا اگر اس پر ایک نظر ڈالیں تو امریکا میں 5 کروڑ لوگوں نے ویکسین لگوائی تھی، اس بار ویکسین لگوانے والوں کی تعداد اس سے کم ہونے کا امکان ہےکیونکہ اس سال پچھلے سال کے مقابلے میں کورونا کے حوالے سے کم تشویش پائی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;کووڈ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی رواں سال مئی میں ختم ہوئی اور حکومت ویکسین لگانےکی ذمہ داری نجی شعبے کو سونپ چکی ہے، یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق امریکا میں 11 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>امریکی طبی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ آئندہ ماہ کورونا کی نئی ویکسین جاری کی جائے گی جبکہ کورونا وائرس کے ویرینٹ اومیکرون کی نئی قسم ’ایرس‘ سے ملک بھر متعدد افراد کے متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔</p>
<p>ڈان اخبار میں شائع غیرملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی <strong><a href="https://www.dawn.com/news/1770190/new-covid-vaccines-on-the-way-as-eris-variant-rises">رپورٹ</a></strong> کے مطابق صحت عامہ کے کچھ ماہرین کو امید ہے کہ امریکی عوام وائرس سے بچنے کے لیے اس نئی ویکسین کا خیرمقدم کریں گے۔</p>
<p>2021 میں جب  پہلی بار ویکسین دستیاب ہوئی تھی اس وقت امریکا میں 24 کروڑ سے زائد افراد (یا 73 فیصد آبادی) کو ان ویکسینز کی کم از کم ایک خوراک ضرور ملی تھی لیکن اس کے بعد سے اس ویکسین کی مانگ میں تیزی سے کمی آئی ہے۔</p>
<p>2022 کے موسم خزاں تک زیادہ تر لوگوں کو یا تو کورونا وائرس ہوچکا تھا یا پھر انہیں ویکسین لگ چکی تھی، یہی وجہ تھی کہ 5 کروڑ سے بھی کم لوگوں کو ویکسین لگیں۔</p>
<p>طبی سہولیات فراہم کرنے والے ادارے اور سی وی ایس ہیلتھ جیسی فارمیسیز آئندہ ماہ ویکسین لگانا شروع کریں گے تاکہ کورونا وائرس کے اومیکرون ویرینٹ (جو کہ گزشتہ ماہ کافی متحرک تھا) کی نئی قسم سے مقابلہ کیا جاسکے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1173516"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>کائزر فیملی فاؤنڈیشن (کے ایف ایف) کے سروے میتھوڈولوجی کی ڈائریکٹر ایشلے کرزنگر نے کہا کہ انہیں وائرس کے حوالے سے کم ہوتی ہوئی تشویش کے ساتھ ساتھ اس ویکسین کی خوبیوں کے حوالے سے شکوک و شبہات کا بھی سامنا کرنا پڑے گا۔</p>
<p>انہوں نے کہا کہ اگر صحت عامہ کے حکام یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ بالغ افراد کی اکثریت یہ ویکسین لگوائے تو انہیں امریکی عوام کے سامنے یہ واضح کرنا ہوگا کہ کورونا وائرس ابھی ختم نہیں ہوا ہے اور یہ اب بھی ان کے لیے خطرہ ہے۔</p>
<p>انہوں نے مزید بتایا کہ رواں سال کے آغاز میں ہونے والے کے ایف ایف کے سروے کے دوران ویکسین کے شاٹس نہ لگانے کی زیادہ تر لوگوں نے جو وجہ بتائی وہ یہ تھی کہ انہیں لگ رہا تھا کہ کورونا وائرس یا کسی دوسرے انفیکشنز سے بچنے کے لیے پہلے لگائی گئیں ویکسین کی بدولت وہ اب بھی اس وائرس سے محفوظ رہیں گے۔</p>
<p>کورونا ویکسین بنانے والے ادارے کی اس خزاں کے موسم میں ویکیسن مہم توقعات کے مطابق نہ چل سکی، فائزر اور بائیو این ٹیک جیسے بڑے ناموں نے حال ہی میں خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال یہی رہی تو نوکریاں کم کرنے کی نوبت آسکتی ہے، اس کے سب سے بڑے حریف ’موڈرنا‘ نے کہا ہے کہ ویکسین کی طلب 5 کروڑ شاٹس تک کم ہوسکتی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1174150"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>گزشتہ سال فائزر اور موڈرنا کی ویکسین کی فروخت دنیا بھر میں 56 ارب ڈالرز تک پہنچی تھی جبکہ تجزیہ کار رواں برس تقریباً 20 ارب ڈالرز کا منصوبہ رکھتے ہیں۔</p>
<p>جیفریز کے تجزیہ کار مائیکل یی نے کہا کہ انہیں توقع نہیں ہے کہ موسمِ خزاں کی مہم گزشتہ سال کی طرح ہوگی۔</p>
<p>انہوں نے مزید کہا کہ پچھلے موسم سرما میں جو ہوا اگر اس پر ایک نظر ڈالیں تو امریکا میں 5 کروڑ لوگوں نے ویکسین لگوائی تھی، اس بار ویکسین لگوانے والوں کی تعداد اس سے کم ہونے کا امکان ہےکیونکہ اس سال پچھلے سال کے مقابلے میں کورونا کے حوالے سے کم تشویش پائی جاتی ہے۔</p>
<p>کووڈ پبلک ہیلتھ ایمرجنسی رواں سال مئی میں ختم ہوئی اور حکومت ویکسین لگانےکی ذمہ داری نجی شعبے کو سونپ چکی ہے، یو ایس سینٹرز فار ڈیزیز کنٹرول اینڈ پریوینشن کے مطابق امریکا میں 11 لاکھ سے زائد افراد کورونا سے ہلاک ہوچکے ہیں۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209722</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Aug 2023 17:49:45 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ڈان اخبار)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/151025557cc1fa0.jpg?r=174945" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/151025557cc1fa0.jpg?r=174945"/>
        <media:title>امریکا میں کورونا ویکسین کی طلب میں تیزی سے کمی آرہی ہے — تصویر: رائٹرز
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
