<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - Pakistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sun, 10 May 2026 03:09:47 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sun, 10 May 2026 03:09:47 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>یورپی یونین کیلئے پاکستان کی برآمدات میں ’جی ایس پی پلس اسٹیٹس‘ کے باوجود کمی</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209724/</link>
      <description>&lt;p&gt;جرمنی اور ہالینڈ میں پاکستانی اشیا کی طلب میں کمی کی وجہ سے مالی سال 2023 کے دوران یورپی یونین (ای یو) کو برآمدات میں 4.41 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ڈان اخبار کی &lt;a href="https://www.dawn.com/news/1770239/exports-to-eu-fall-despite-gsp-status"&gt;&lt;strong&gt;رپورٹ&lt;/strong&gt;&lt;/a&gt; کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کو مالی سال 2023 کے دوران 8 ارب 18 کروڑ ڈالر کی برآمدات بھیجی گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران 8 ارب 56 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورو کے لحاظ سے برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس پلس (جی ایس پی پلس) اسکیم کے باوجود برآمدات میں کمی دیکھی گئی، جی ایس پی پلس اسکیم یکم جنوری 2014 کو نافذ ہوئی اور یہ رواں مالی سال تک پاکستان کے لیے دستیاب رہے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ برآمدات جرمنی، ہالینڈ، اسپین، اٹلی اور بیلجیئم کو بھیجی گئیں، مصنوعات کے لحاظ سے جائزہ لیں تو یورپی یونین کو بھیجی جانے والی برآمدات میں ملبوسات اور ہوزری کے سامان کا اضافہ ہوا، دوسری سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری گھریلو ٹیکسٹائل رہی اور تیسری کیٹیگری کپاس اور ٹیکسٹائل کا سامان ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی دیگر مصنوعات میں چمڑے، چاول، کھیلوں کے سامان (فٹ بال)، جراحی کے سامان، جوتے، پلاسٹک، معدنیات، مشینری، قالین، کٹلری، کیمیکلز اور ربر اور دواسازی کی اشیا شامل ہیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بریگزٹ سے پہلے پاکستان کی برآمدات کا بڑا مرکز برطانیہ تھا، بریگزٹ کے بعد پاکستان کی برآمدات مالی سال 2023 کے دوران 10.63 فیصد کم ہوکر ایک ارب 96 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 2 ارب 20 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;برطانیہ کو بھیجی جانے والی برآمدات میں کمی ایک حوصلہ شکن عنصر ہے، برآمد کنندگان کو خدشہ ہے کہ وہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی مارکیٹ کھو دیں گے، تاہم برطانوی حکومت نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بریگزٹ کے بعد کے منظر نامے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جو پاکستان کے ترجیحی مارکیٹ رسائی اسکیم میں شامل ہونے سے ظاہر ہوتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مارکیٹ میں رسائی کے لحاظ سے اب جی ایس پی پلس کے تحت برطانیہ کی جگہ جرمنی نے لے لی ہے اور پاکستانی مصنوعات کی سب سے برآمدات موصول کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے، تاہم ملکوں کے لحاظ سے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جرمنی کو بھیجی جانے والی برآمدات میں 8.62 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مالی سال 2023 میں یہ برآمدات ایک ارب 60 کروڑ ڈالر تک آگئیں جو گزشتہ مال سال ایک ارب 75 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستان کی برآمدات کے لیے دوسری بڑی مارکیٹ ہالینڈ ہے، مالی سال 2023 کے دوران پاکستان کی جانب سے ہالینڈ کو بھیجی جانے والی برآمدات 3.53 فیصد کم ہوکر ایک ارب 44 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران ایک ارب 49 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی برآمدی سامان کے لیے یورپی یونین کی تیسری بڑی مارکیٹ اسپین ہے، مالی سال 2023 کے دوران پاکستان سے اسپین بھیجی جانے والی برآمدات 19.39 فیصد بڑھ کر ایک ارب 37 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو پچھلے مالی سال کے دوران ایک ارب 15 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;پاکستانی برآمدی سامان کے لیے یورپی یونین کی چوتھی بڑی مارکیٹ اٹلی ہے، مالی سال 2023 کے دوران پاکستان سے اٹلی بھیجی جانے والی برآمدات 5.88 فیصد بڑھ کر ایک ارب 15 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو پچھلے مالی سال کے دوران ایک ارب 8 کروڑ ڈالر تھیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;بیلجیئم کو بھیجی جانے والی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 2.20 فیصد کمی، فرانس کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 7.24 فیصد اضافہ، پولینڈ کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 3.65 فیصد کمی، ڈنمارک کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 29.47 فیصد کمی، سویڈن کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 18.6 فیصد کمی، آئرلینڈ کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 7.17 فیصد کمی جبکہ یونان کو بھیجی جانی والی برآمدات میں مالی سال 2023 کے دوران 15 فیصد اضافہ ہوا۔&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>جرمنی اور ہالینڈ میں پاکستانی اشیا کی طلب میں کمی کی وجہ سے مالی سال 2023 کے دوران یورپی یونین (ای یو) کو برآمدات میں 4.41 فیصد سے زیادہ کمی واقع ہوئی۔</p>
<p>ڈان اخبار کی <a href="https://www.dawn.com/news/1770239/exports-to-eu-fall-despite-gsp-status"><strong>رپورٹ</strong></a> کے مطابق اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مرتب کردہ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ یورپی یونین کے 27 رکن ممالک کو مالی سال 2023 کے دوران 8 ارب 18 کروڑ ڈالر کی برآمدات بھیجی گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران 8 ارب 56 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>یورو کے لحاظ سے برآمدات میں معمولی اضافہ ہوا، تاہم جنرلائزڈ سسٹم آف پریفرنس پلس (جی ایس پی پلس) اسکیم کے باوجود برآمدات میں کمی دیکھی گئی، جی ایس پی پلس اسکیم یکم جنوری 2014 کو نافذ ہوئی اور یہ رواں مالی سال تک پاکستان کے لیے دستیاب رہے گی۔</p>
<p>پاکستان کی جانب سے سب سے زیادہ برآمدات جرمنی، ہالینڈ، اسپین، اٹلی اور بیلجیئم کو بھیجی گئیں، مصنوعات کے لحاظ سے جائزہ لیں تو یورپی یونین کو بھیجی جانے والی برآمدات میں ملبوسات اور ہوزری کے سامان کا اضافہ ہوا، دوسری سب سے بڑی برآمدی کیٹیگری گھریلو ٹیکسٹائل رہی اور تیسری کیٹیگری کپاس اور ٹیکسٹائل کا سامان ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1209613"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>یورپی یونین کو برآمد کی جانے والی دیگر مصنوعات میں چمڑے، چاول، کھیلوں کے سامان (فٹ بال)، جراحی کے سامان، جوتے، پلاسٹک، معدنیات، مشینری، قالین، کٹلری، کیمیکلز اور ربر اور دواسازی کی اشیا شامل ہیں۔</p>
<p>بریگزٹ سے پہلے پاکستان کی برآمدات کا بڑا مرکز برطانیہ تھا، بریگزٹ کے بعد پاکستان کی برآمدات مالی سال 2023 کے دوران 10.63 فیصد کم ہوکر ایک ارب 96 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے اسی عرصے کے دوران 2 ارب 20 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>برطانیہ کو بھیجی جانے والی برآمدات میں کمی ایک حوصلہ شکن عنصر ہے، برآمد کنندگان کو خدشہ ہے کہ وہ بریگزٹ کے بعد برطانیہ کی مارکیٹ کھو دیں گے، تاہم برطانوی حکومت نے پاکستان کو یقین دہانی کرائی ہے کہ بریگزٹ کے بعد کے منظر نامے میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی جو پاکستان کے ترجیحی مارکیٹ رسائی اسکیم میں شامل ہونے سے ظاہر ہوتا ہے۔</p>
<p>مارکیٹ میں رسائی کے لحاظ سے اب جی ایس پی پلس کے تحت برطانیہ کی جگہ جرمنی نے لے لی ہے اور پاکستانی مصنوعات کی سب سے برآمدات موصول کرنے والے ملک کے طور پر ابھرا ہے، تاہم ملکوں کے لحاظ سے اعداد و شمار سے پتا چلتا ہے کہ جرمنی کو بھیجی جانے والی برآمدات میں 8.62 فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔</p>
<p>مالی سال 2023 میں یہ برآمدات ایک ارب 60 کروڑ ڈالر تک آگئیں جو گزشتہ مال سال ایک ارب 75 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1199550"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>پاکستان کی برآمدات کے لیے دوسری بڑی مارکیٹ ہالینڈ ہے، مالی سال 2023 کے دوران پاکستان کی جانب سے ہالینڈ کو بھیجی جانے والی برآمدات 3.53 فیصد کم ہوکر ایک ارب 44 کروڑ ڈالر رہ گئیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران ایک ارب 49 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>پاکستانی برآمدی سامان کے لیے یورپی یونین کی تیسری بڑی مارکیٹ اسپین ہے، مالی سال 2023 کے دوران پاکستان سے اسپین بھیجی جانے والی برآمدات 19.39 فیصد بڑھ کر ایک ارب 37 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو پچھلے مالی سال کے دوران ایک ارب 15 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>پاکستانی برآمدی سامان کے لیے یورپی یونین کی چوتھی بڑی مارکیٹ اٹلی ہے، مالی سال 2023 کے دوران پاکستان سے اٹلی بھیجی جانے والی برآمدات 5.88 فیصد بڑھ کر ایک ارب 15 کروڑ ڈالر ہوگئیں جو پچھلے مالی سال کے دوران ایک ارب 8 کروڑ ڈالر تھیں۔</p>
<p>بیلجیئم کو بھیجی جانے والی برآمدات میں سالانہ بنیادوں پر 2.20 فیصد کمی، فرانس کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 7.24 فیصد اضافہ، پولینڈ کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 3.65 فیصد کمی، ڈنمارک کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 29.47 فیصد کمی، سویڈن کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 18.6 فیصد کمی، آئرلینڈ کو بھیجی جانی والی برآمدات میں 7.17 فیصد کمی جبکہ یونان کو بھیجی جانی والی برآمدات میں مالی سال 2023 کے دوران 15 فیصد اضافہ ہوا۔</p>
]]></content:encoded>
      <category>Pakistan</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209724</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Aug 2023 13:27:42 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (مبارک زیب خان)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/15110357ae3fe3d.png?r=110423" type="image/png" medium="image" height="300" width="500">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/15110357ae3fe3d.png?r=110423"/>
        <media:title/>
      </media:content>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/151104097a32c6e.jpg?r=132757" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/151104097a32c6e.jpg?r=132757"/>
        <media:title>سب سے زیادہ برآمدات جرمنی، ہالینڈ، اسپین، اٹلی اور بیلجیئم کو بھیجی گئیں — فائل فوٹو: شٹراسٹاک
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
