<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss xmlns:media="http://search.yahoo.com/mrss/" xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/" version="2.0">
  <channel>
    <title>The Dawn News - World - Afghanistan</title>
    <link>https://www.dawnnews.tv/</link>
    <description>Dawn News</description>
    <language>ur-PK</language>
    <copyright>Copyright 2026</copyright>
    <pubDate>Sat, 09 May 2026 22:24:14 +0500</pubDate>
    <lastBuildDate>Sat, 09 May 2026 22:24:14 +0500</lastBuildDate>
    <ttl>60</ttl>
    <item xmlns:default="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/">
      <title>خدا کے واسطے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے دیں، محبوبہ سراج کی طالبان سے اپیل</title>
      <link>https://www.dawnnews.tv/news/1209767/</link>
      <description>&lt;p&gt;خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی افغان سماجی رہنما اور صحافی  محبوبہ سراج نے افغان طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دسمبر 2022 میں طالبان نے 13 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان طالبان نے ہائی اسکول اور کالجز تک پہلے لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت دی تھی لیکن بعد ازاں یونیورسٹیز میں ان کی تعلیم پر پابندی عائد کرتے ہوئے عمر کی حد بھی مقرر کردی تھی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--newskitlink  '&gt;    &lt;iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194112"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغانستان میں 13 سال سے زائد العمر لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کی اجازت نہیں، جس پر افغان طالبان پر عالمی برادری کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;حال ہی میں عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے افغان طالبان کے محلات اور پالیسی پر پہلی خصوصی دستاویزی فلم جاری کی، جس میں طالبان حکومت کے ترجمان اور وزارت ثقافت و اطلاعات کے نائب وزیر ذبیح اللہ مجاہد کو دکھایا گیا۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزی فلم میں ذبیح اللہ مجاہد نے افغان طالبان کی حکومت کی پالیسیوں سے متعلق ابہام کو دور کیا اور اسی دوران ان سے خواتین کے حقوق کی رہنما اور صحافی  محبوبہ سراج نے بھی ملاقات کی، جنہوں نے ان سے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کی اپیل کی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--youtube  '&gt;&lt;iframe src='https://www.youtube.com/embed/vP6SnlLlMU8?enablejsapi=1&amp;controls=1&amp;modestbranding=1&amp;rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'&gt;&lt;/iframe&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;دستاویزی فلم کی مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں  محبوبہ سراج کو ذبیح اللہ سے ون آن ون ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;مختصر کلپ دستاویزی فلم کا حصہ ہے، جس میں  محبوبہ سراج افغان طالبان ترجمان کے ساتھ مقامی زبان میں بات کرتی دکھائی دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/AJWitness/status/1691098601647423488"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محبوبہ سراج نے ذبیح اللہ کو لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت سے متعلق بتاتے ہوئے ان سے ہاتھ جوڑتے ہوئے اپیل کی کہ خدا کے واسطے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے دیں۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;خاتون رہنما نے ذبیح اللہ مجاہد کو کہا کہ کوئی بھی معاشرہ لڑکیوں کی تعلیم کے بغیر بہتر نہیں ہو سکتا اور نئی نسل بہتر طریقے سے پروان نہیں ہوسکے گی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;محبوبہ سراج کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں جانے پر پابندی کی وجہ سے پوری دنیا میں افغانستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور دنیا ہم سے روابط ختم کر رہی ہے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/alibomaye/status/1691188527177064448"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;ان کی درخواست پر طالبان ترجمان نے کہا کہ وہ ان کی بات سے متفق ہیں لیکن لڑکیوں کو اسلامی اقدار اور اصولوں کے برعکس تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;افغان طالبان کے وزیر اطلاعات و ترجمان نے ساتھ ہی  محبوبہ سراج کو یقین دلایا کہ وہ ان کی بات امیر المومنین تک پہنچا کر اعلیٰ حکام سے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دینے پر بات کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ  محبوبہ سراج افغان طالبان ترجمان کے ساتھ بات چیت میں مسکراتی ہیں اور ان کی یقین دہانی پر امید کا اظہار کرتی ہیں کہ وہ اپنے اعلیٰ رہنماؤں سے لڑکیوں کی تعلیم پر بات کرکے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔&lt;/p&gt;
&lt;p&gt;    &lt;figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'&gt;
        &lt;div class='media__item  media__item--twitter  '&gt;&lt;span&gt;
    &lt;blockquote class="twitter-tweet" lang="en"&gt;
        &lt;a href="https://twitter.com/RTEUrdu/status/1691306625364295680"&gt;&lt;/a&gt;
    &lt;/blockquote&gt;
&lt;/span&gt;&lt;/div&gt;
        
    &lt;/figure&gt;&lt;/p&gt;
</description>
      <content:encoded xmlns="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"><![CDATA[<p>خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی افغان سماجی رہنما اور صحافی  محبوبہ سراج نے افغان طالبان سے اپیل کی ہے کہ وہ افغانستان کے بہتر مستقبل کے لیے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دیں۔</p>
<p>اگست 2021 میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد دسمبر 2022 میں طالبان نے 13 سال سے زائد عمر کی لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی عائد کردی تھی۔</p>
<p>افغان طالبان نے ہائی اسکول اور کالجز تک پہلے لڑکیوں کو تعلیم کی اجازت دی تھی لیکن بعد ازاں یونیورسٹیز میں ان کی تعلیم پر پابندی عائد کرتے ہوئے عمر کی حد بھی مقرر کردی تھی۔</p>
<p>    <figure class='media  sm:w-1/2  w-full  media--left  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--newskitlink  '>    <iframe
        class="nk-iframe" 
        width="100%" frameborder="0" scrolling="no" style="height:400px;position:relative"
        src="https://www.dawnnews.tv/news/card/1194112"
        sandbox="allow-same-origin allow-scripts allow-popups allow-modals allow-forms"></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>افغانستان میں 13 سال سے زائد العمر لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں پڑھنے کی اجازت نہیں، جس پر افغان طالبان پر عالمی برادری کی جانب سے تنقید بھی کی جاتی ہے۔</p>
<p>حال ہی میں عرب نشریاتی ادارے ’الجزیرہ‘ نے افغان طالبان کے محلات اور پالیسی پر پہلی خصوصی دستاویزی فلم جاری کی، جس میں طالبان حکومت کے ترجمان اور وزارت ثقافت و اطلاعات کے نائب وزیر ذبیح اللہ مجاہد کو دکھایا گیا۔</p>
<p>دستاویزی فلم میں ذبیح اللہ مجاہد نے افغان طالبان کی حکومت کی پالیسیوں سے متعلق ابہام کو دور کیا اور اسی دوران ان سے خواتین کے حقوق کی رہنما اور صحافی  محبوبہ سراج نے بھی ملاقات کی، جنہوں نے ان سے لڑکیوں کے تعلیمی ادارے کھولنے کی اپیل کی۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  '>
        <div class='media__item  media__item--youtube  '><iframe src='https://www.youtube.com/embed/vP6SnlLlMU8?enablejsapi=1&controls=1&modestbranding=1&rel=0' allowfullscreen='' frameborder='0' scrolling='no' width='100%' height='100%'></iframe></div>
        
    </figure></p>
<p>دستاویزی فلم کی مختصر کلپ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگئی، جس میں  محبوبہ سراج کو ذبیح اللہ سے ون آن ون ملاقات کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔</p>
<p>مختصر کلپ دستاویزی فلم کا حصہ ہے، جس میں  محبوبہ سراج افغان طالبان ترجمان کے ساتھ مقامی زبان میں بات کرتی دکھائی دیں۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/AJWitness/status/1691098601647423488"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>محبوبہ سراج نے ذبیح اللہ کو لڑکیوں کی تعلیم کی اہمیت سے متعلق بتاتے ہوئے ان سے ہاتھ جوڑتے ہوئے اپیل کی کہ خدا کے واسطے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے دیں۔</p>
<p>خاتون رہنما نے ذبیح اللہ مجاہد کو کہا کہ کوئی بھی معاشرہ لڑکیوں کی تعلیم کے بغیر بہتر نہیں ہو سکتا اور نئی نسل بہتر طریقے سے پروان نہیں ہوسکے گی۔</p>
<p>محبوبہ سراج کا کہنا تھا کہ لڑکیوں کے تعلیمی اداروں میں جانے پر پابندی کی وجہ سے پوری دنیا میں افغانستان کی بدنامی ہو رہی ہے اور دنیا ہم سے روابط ختم کر رہی ہے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/alibomaye/status/1691188527177064448"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
<p>ان کی درخواست پر طالبان ترجمان نے کہا کہ وہ ان کی بات سے متفق ہیں لیکن لڑکیوں کو اسلامی اقدار اور اصولوں کے برعکس تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔</p>
<p>افغان طالبان کے وزیر اطلاعات و ترجمان نے ساتھ ہی  محبوبہ سراج کو یقین دلایا کہ وہ ان کی بات امیر المومنین تک پہنچا کر اعلیٰ حکام سے لڑکیوں کو تعلیمی اداروں میں جانے کی اجازت دینے پر بات کریں گے۔</p>
<p>وائرل کلپ میں دیکھا جا سکتا ہے کہ  محبوبہ سراج افغان طالبان ترجمان کے ساتھ بات چیت میں مسکراتی ہیں اور ان کی یقین دہانی پر امید کا اظہار کرتی ہیں کہ وہ اپنے اعلیٰ رہنماؤں سے لڑکیوں کی تعلیم پر بات کرکے مسئلے کو حل کرنے کی کوشش کریں گے۔</p>
<p>    <figure class='media  w-full  w-full  media--stretch  media--embed  media--uneven'>
        <div class='media__item  media__item--twitter  '><span>
    <blockquote class="twitter-tweet" lang="en">
        <a href="https://twitter.com/RTEUrdu/status/1691306625364295680"></a>
    </blockquote>
</span></div>
        
    </figure></p>
]]></content:encoded>
      <category>World</category>
      <guid>https://www.dawnnews.tv/news/1209767</guid>
      <pubDate>Tue, 15 Aug 2023 20:53:15 +0500</pubDate>
      <author>none@none.com (ویب ڈیسک)</author>
      <media:content url="https://i.dawn.com/large/2023/08/15173552f2b2605.jpg?r=173620" type="image/jpeg" medium="image" height="480" width="800">
        <media:thumbnail url="https://i.dawn.com/thumbnail/2023/08/15173552f2b2605.jpg?r=173620"/>
        <media:title>—فوٹو: یو این ویمن
</media:title>
      </media:content>
    </item>
  </channel>
</rss>
